توہین آمیز بکنیوں پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں کسٹمز حکام اور پولیس کو تاکید کی گئی ہے کہ بدھ کی تصاویر والی بکنیاں اور متنازعہ ’بدھا‘ بار میوزک کی سی ڈیز اور کیسیٹیں ضبط کر لی جائیں ـ حکام نےکہا ہے کہ ’بدھا‘ میوزک ،جو پیرس کے ایک نائٹ کلب سے شروع ہوا، اور بدھ کی تصاویر والے سوئمنگ کاسٹیوم بدھ مذہب کے پیروکاروں کےلئے دل آزاری کاباعث بن سکتے ہیں ـ’بدھا‘ بار میوزک جو زیادہ تر انسٹرومینٹل لاؤنج میوزک ہے اس قدر مقبول ہو رہا ہے کہ اب اس کی شاخیں پوری دنیا میں پھیل گئی ہیں ـ کئی بدھوں نے بھی مذہبی علامات کے کمرشل استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا ہےـ سری لنکا کی ستر فی صد آبادی بدھوں پر مشتمل ہے ـ ملک کے اٹارنی جنرل نے یہ حکم بدھ راہب دراناگما کسالادھما کی سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کرنے کی بعد دیا ہے ـ پٹیشن میں کہا گیا ہے بدھ کی تصاویر والی موم بتیوں اور میوزک البم کے کووز پر بھی پابندی عائد ہونی چاہئے ـبدھ رہنما نے کہا ہے کہ اس سے سری لنکا کی اکثریتی آبادی کے جذبات مجروع ہوئے ہیں ـ تاہم سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کسی نئی پابندی کی ضرورت نہیں ہے ـ لیکن عدالت نے اٹارنی جنرل کا استدلال تسلیم کیا کہ پولیس اور کسٹم حکام کو موجودہ قوانین کو سختی سے نافذ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کسی کی دل آزاری نہ ہو ـ ’بدھا‘ بار میوزک کی غیر قانونی سی ڈیز سری لنکا میں ایک ڈالر میں دستیاب ہیں ـ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||