تامل ٹائیگرز مذاکرات پر راضی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا میں تامل باغیوں اور حکومت کے درمیان مصالحت کرانے والے نوروے کے گروپ نے کہا ہے کہ تامل ٹائیگرز حکومت کے ساتھ اعلی سطح پر براہ راست مذاکرات کریں گے۔ یہ فیصلہ تام ٹائیگرز کے نمائندے انتون بالی سنگم اور نوروے کے وزیر خارجہ کے درمیان بدھ کو ہونے والی ملاقات میں ہوا۔ اس ملاقات میں نوروے کے وزیر خارجہ کے نائب بھی موجود تھے۔ گزشتہ ہفتے تامل ٹائیگرز نے مبینہ طور پر ایک کارروائی میں سری لنکا کے وزیر خارجہ لکشمن کادرگامر کو ہلاک کر دیا تھا۔ نوروے کے نائب وزیر خارجہ ویدار ہیلگیسن نے اس فیصلہ کو امن کے قیام کی طرف ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹائیگرز حکومت کے ساتھ جنگ بندی پرعملدرآمد کے لیے بات چیت کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔ تامل ٹائیگرز اور حکومت کے درمیان سن دوہزار تین کے بعد یہ پہلی ملاقات ہوگی۔ گزشتہ ہفتے سری لنکا کے وزیر خارجہ لکشمن کادرگامر کی ہلاکت کا ذمہ دار تامل ٹائیگرز کو ٹھہرایا جا رہا تھا۔ تامل ٹائیگرز اس الزام کی تردید کرتے تاہم ان پر امن مذاکرات میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔ گو کے فریقین جنگ بندی کی پابندی کرنے کا دعوی کرتے ہیں لیکن مبصرین کا خیال ہے کہ اس کی ذمہ داری تامل ٹائیگرز پر عائد ہوتی ہے۔ وزیر خارجہ کی ہلاکت کے واقعے سے پہلے تامل ٹائیگرز حکومت سے مطالبہ کررہے تھے کہ حکومت نیم فوجی ملیشیاء کو غیر مسلح کرے۔ حکومت اور تامل ٹائیگرز کے درمیان مجوزہ اعلی سطح مذاکرات کی تاریخ اور جگہ کا تعین ہونا باقی ہے لیکن توقع ہے کہ اس میں سیاسی اور فوجی شخصیات شرکت کریں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||