سری لنکا میں قاتلوں کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا کے وزیرِ خارجہ لکشمن کادرگامر کے قتل کے بعد ملک میں ایک ہزار سے زیادہ سیکیورٹی اہلکاروں نے قاتلوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔ لکشمن کادرگامر کو جمعہ کے روز ان کے گھر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ گامر خود تامل تھے اور تامل باغیوں کے سخت مخالف تھے۔ ان کی آخری رسومات پیر کو ادا کی جائیں گی۔ سری لنکا کے ایک سینئر پولیس افسر نے حملے کی ذمہ داری علیحدگی پسند تامل باغیوں پر عائد کی ہے تاہم باغیوں نے وزیرِ خارجہ کی ہلاکت میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ حکام نے درجن بھر تامل افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔ فوج کے ترجمان کے مطابق ان لوگوں کو صرف شبہہ کی بناء پر گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کرنے والے ایک یا دو تھے اور وہ ابھی علاقے میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نے تعاون کیا تو ان کو پکڑا جا سکتا ہے۔ سری لنکا کی حکومت نے وزیر خارجہ کے قتل کو ملک میں امن کی کوششوں کے لیے دھچکا قرار دیا ہے۔ سری لنکا کی صدر چندریکا کمارا ٹنگا نے کہا ہے کہ کادرگامر ہمارے زمانے کے ہیرو تھے اور انہیں سیاسی دشمنوں نے قتل کیا ہے تاہم انہوں نے تامل باغیوں پر الزام تراشی سے گریز کیا۔ تامل باغیوں کے سیاسی دھڑے کے سربراہ ایس پی تامل سلون نے بی بی سی کی تامل سروس کو بتایا کہ’ ہم اپنے اوپر لگائے جانے والے اس الزام کی مذمت کرتے ہیں اور اس قتل میں کسی بھی طریقے سے ملوث ہونے سے انکار کرتے ہیں‘۔ بی بی سی کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ ماضی میں تامل باغیوں نے کم ہی اپنے حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تامل باغی سن دو ہزار دو سے جنگ بندی پر عمل کر رہے ہیں۔ اس سیزفائر کی نگرانی کر نے والے ناروے کے مبصرین کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس حملے سے سری لنکا کی حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان جاری جنگ بندی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ لکشمن کادرگامر کی عمر 73 سال تھی اور انہیں گزشتہ سال اپریل میں سری لنکا کا وزیر خارجہ مقرر کیا گیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||