BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 November, 2005, 03:40 GMT 08:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا نئے صدر کے بعد
مہندا راج پکشے
سری لنکا میں مہندا راجپکشے کی کامیابی کو ملک میں نسلی بنیادوں پر جاری خانہ جنگی کے مسئلے کے حل کے لیے سخت گیر موقف کی حمایت قرار دیا جا رہا ہے۔

بہت سے لوگوں کے لیے یہ ملک کی تاریخ کا اہم باب ہے جب ووٹروں نے ایک ایسے امیدوار کو چنا ہے جو تامل اقلیت کو اختیارات کی منتقلی اور سونامی کی امداد اور اقتصادی پالیسی کے بارے میں سخت گیر موقف کے حامل اتحاد کے سربراہ ہیں۔

قوم پرستوں اور بدھ مذہب کی جماعتوں نے راجپکشے کی بھرپور حمایت کی تھی اور اب خیال ہے کہ وہ راجپکشے کی حکومت میں اہم کردار ادا کریں گے۔

انتخابات میں دونوں امیدواروں راجپکشے اور ان کے مخالف رنیل وکرم سنگھے امن کے قیام اور اقتصادی پالیسی کے بارے میں متضاد نظریات رکھتے ہیں۔

وکرم سنگھے نے منتخب ہونے کی صورت میں امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے اور نجکاری اور بیرونی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کا اعلان کیا تھا۔

ان کی ناکامی کو کاروباری حلقوں کے لیے دھچکہ قرار دیا گیا ہے۔

انتخابات کے دوران اہم بات ملک کے شمال اور مشرق میں تامل باغیوں کے زیر اثر علاقوں میں تامل آبادی کی پولنگ سٹیشنوں سے تقریباً مکمل غیر حاضری تھی۔

انتخابات کے بائیکاٹ کی کال بھی غالباً تامل باغیوں نے ہی دی تھی۔

دارالحکومت کولمبو کے کچھ علاقوں میں تامل ووٹوں کی شرح بہت کم رہی لیکن ملک کے کئی علاقے ایسے تھے جہاں تاملوں نے بڑی تعداد میں ووٹ ڈالا اور اس کا وکرما سنگھے کو فائدہ ہوا۔ انہیں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کی بھی حمایت حاصل تھی۔

جامعہ کولمبو میں تامل زبان کے ایک استاد نے کہا کہ تاملوں نے ملک کی سیاست پر اثر انداز ہونے کا ایک اہم موقع گنوا دیا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ آئندہ انتخابی مہم کے دوران تاملوں کو نظر انداز کر دیا جائیگا۔

مبصرین کے درمیان تاملوں میں ایک انتخابی حکمت عملی نہ ہونے کی وجوہات کے بارے میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔

ایک طبقے کا خیال ہے کہ تامل ماضی کی حکومتوں کی طرف سے ’امن کے قیام میں ناکامی‘ سے مایوس تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ملک کے شمال اور مشرق میں رہنے والے تامل پوری طرح قائل ہیں کہ اکثریتی آبادی انہیں کبھی حکومت میں شریک نہیں ہونے دے گی۔

گزشتہ چند ماہ کے دوران ملک کے شمال اور مشرق سے کشیدگی شروع ہونے کا تاثر مل رہا تھا۔اسی دوران تین سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمہ کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد