کشیدگی سے امدادی کام متاثر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سونامی کے باعث سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دو ملکوں کی حکومتوں اور وہاں کے باغیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باعث امدادی کارروائیاں بری طرح متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ سری لنکا میں تامل باغیوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت نے امدادی کیمپوں سے فوجیوں کو واپس نہ بلایا تو اس کے نتائج سنگین ہوں گے۔ وہ یہ شکایت بھی کر رہے ہیں کہ ان علاقوں میں کہ جہاں باغیوں کا کنٹرول ہے بہت کم امداد پہنچائی گئی ہے۔ تاہم حکومت نے اس بات سے انکار کیا ہے۔ ادھر انڈونیشیا میں حکومت اور باغی دونوں نے ایک دوسرے پر حملوں کا الزام عائد کیا ہے۔ حکام کہتے ہیں کہ صوبہ آچے میں علیحدگی پسند جنگجو سونامی کے باعث آنے والی تباہی سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں اور فوج سے جھڑپیں کر رہے ہیں۔ فری آچے موومنٹ نے بھی فوجیوں پر اسی طرح کے الزامات عائد کیے ہیں۔ دریں اثناء امریکی وزیر خارجہ کولن پاول سری لنکا کے دورے پر ہیں جہاں سونامی سے ہونے والی تباہی کے تناظر میں حکومت اور تامل باغیوں کے درمیان امداد کی تقسیم کے معاملے پر تنازعات کھڑے ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھی ایک علیحدہ دورے کے سلسلے میں سری لنکا پہنچنے والے ہیں۔ ایک طرف جہاں سری لنکا میں سونامی سے متاثرہ ماضی کے شورش زدہ علاقوں میں تامل باغیوں کو ملنے والی امداد پر جاری تنازعہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے وہیں دونوں سربراہان ملک کا دورہ کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے تامل شہریوں سے بھرے بہبودی کیمپوں میں ملکی فوج کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بی بی سی کی نامہ نگار فرانسس ہیریسن کا کہنا ہے کہ سونامی سے ہونے والی تباہی کے بعد اب موجودہ صورتحال دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سری لنکا میں نسلی اختلافات کم ہونے کی بجائے مزید تلخ ہو جائیں گے۔ بحر ہند میں سونامی لہروں سے پھیلنے والی تباہی کے سبب ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو امداد دینے والے ممالک سے کہا ہے کہ چار ارب ڈالر کی مجموعی امداد میں سے ایک ارب ڈالر رقم کی شکل میں ادا کیے جائیں تاکہ فوری طور پر بہتر امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔ کولن پاول اور کوفی عنان سری لنکا کے جنوبی اور مشرقی ساحلوں کا خاص طور پر دورہ کریں گے جہاں چھبیس دسمبر کو سونامی لہروں نے تباہی پربا کر دی تھی۔ کوفی عنان حکومت کے اعلیٰ اہلکاروں سے ملاقات کریں گے۔ تامل باغیوں کا کہنا ہے کہ کوفی عنان نے سری لنکا کے شمال مشرقی حصے میں چھاپہ ماروں کے رہنما ویلوپلائی پرابھاکرن سے ملاقات کی پیشکش قبول کر لی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||