یتیم بچوں کو اپنانے پر پابندی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکا نے سونامی کے باعث والدین سے محروم ہونے والے بچوں کو اپنانے پر غیر معینہ عرصے کے لیے مکمل پابندی لگا دی ہے۔ سری لنکا کی حکومت کے ایک ترجمان نے بتایا ہے کہ اب سونامی کے باعث ماں باپ سے محروم ہونے والے بچوں کو وہ لوگ بھی نہیں اپنا سکیں گے جو ان بچوں کے رشتے دار یا قریبی عزیز بھی ہوں گے۔ ترجمان کے مطابق حکومت نے یہ قدم بچوں کو ان لوگوں سے بچانے کے لیے کیا ہے جوبچوں کی اسمگلنگ کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان بچوں کے قریبی عزیز اگر ان بچوں کو اپنانا چاہیں گے تو انہیں بھی اس کے لیے پہلے حکومت کی اجازت لینی ہو گی۔ سری لنکا کی حکومی اس پابندی کا نفاذ انڈونیشیا کے اس فیصلے کے بعد کیا ہے جس کے تحت بچوں کو سونامی کی زد میں آنے والے صوبے آچے سے باہر لے جانے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ بھارت میں بھی غیر سرکاری تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تامل ناڈو میں بچوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کم از کم ایک سال تک بچوں کو اپنانے پر پابندی عائد کر دی جائے۔ تامل ناڈو ایک کیمپ میں اس وقت ک از کم چھ سو کے لگ بھگ ایسے بچے ہیں جن کے والدین کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ سونامی کی نذر ہو چکے ہیں۔ تاہم سری لنکا میں نامہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکومت کے پاس ایسے بچوں کو رکھنے کے وسائل نہیں ہیں۔ لیکن غیر سرکاری اداروں کا کہنا ہے کہ اس پابندی کے نفاذ سے بچوں کو نفسیاتی طور پر بھی فائدہ حاصل ہو گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||