BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 06 January, 2005, 15:18 GMT 20:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈامان میں امدادی سرگرمیاں تیز
نکوبار انڈامان
نکوبار انڈامان بہت فاصلے پر واقعہ ہیں
بھارتی فوج نکوبار انڈامان جزائر میں سونامی سے آنے والی تباہی سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے ہنگامی صورت حال میں ہیلی کاپٹروں کے اترنے کی جگہیں بنا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کی ترجیحات میں میں کیٹچال نامی جزیرے میں خوراک، پانی اور دوائیاں پہنچانا ہے جہاں پانچ ہزار کے قریب افراد ہلاک اور لا پتہ ہو گئے تھے۔

لیکن جزائر کی دوری کی وجہ سے بہت سی جگہوں پر امدادی سامان پہنچانے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔

سونامی طوفان سے بھارت میں نو ہزار چھ سو اکانوے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق تامل ناڈو کے صوبے سے تھا۔

انڈامان جزائر پر موجود بی بی سی کے نامہ نگا جوناتھن چارلس نے اطلاع دی ہے کہ ان دورر افتادہ جزائر تک پہنچنے میں کئی دن لگ جاتے ہیں جس سے بچ جانے والے افراد والے تک بروقت امداد پہنچانے کی امید معدوم ہو گئی ہے۔

کیٹچال نامی جزیرہ جو کہ زلزلہ کے مرکز کے قریب واقع ہے بری طرح متاثر ہوا ہے اور ایک اندزے کے مطابق اس کی ایک تہائی آبادی یا تو ہلاک ہو گئی ہے یا لا پتہ ہے۔

جو اس طوفان میں بچ گئے ہیں کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں کیونکہ ان کے گھر تباہ ہو گئے ہیں۔

بھارتی فوجی حکام کے مطابق ان جزائر میں چھ ہزار افراد ابھی تک لا پتہ ہیں۔

بھارتی بحریہ کے وائس ایڈمرل رمن پوری نے کہا کہ جب تک تھوڑی سی بھی امید باقی ہے لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ تمام آباد جزائر کا دورہ کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بحریہ کے جوان جنگلوں میں تلاش کا کام کر رہے ہیں جو مزید ایک ہفتے تک جاری رکھا جائے گا۔

بھارتی حکومت نے جو بین الاقوامی امداد قبول کرنے پر تیار نہیں ہے کہا ہے کہ اس کی تلاش اور امداد کی کارروائیاں بڑی کامیابی سے جاری ہیں۔

بھارتی وزیر خارجہ شام سرن نے کہا کہ بھارت نے بڑی تیزی سے امدادی کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس تباہی پر قابو پانے اور بحالی کا کام کرنے کے لیے بھارت کے پاس وسائل موجود ہیں۔

بھارتی حکام پر غیر ملکی امدادی اداروں کو انڈامان جانے کی اجازت نہ دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

تاہم بدھ کو اقوام متحدہ کے بچوں کے ادارے یونسیف کو پناہ گزیں کیمپوں میں موجود بچوں کو ٹیکے لگانے کے لیے جانے کی اجازت دے دی گئی۔

یونیسیف کے ایک اہلکار نے امریکی خبر رساں ادار ے کو بتایا کہ انہوں نے پورٹ بلیئر سے کام کا آغاز کردیا ہے اور وہ باقی جزائر میں بھی جائیں گے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کیٹچال کا جزیرہ دسمبر کی چھبیس تاریخ کو کئی مرتبہ زیر آب آیا۔ آدھے سے زیادہ جزیرہ اب بھی زیر آب ہے اور ماہرین کا خیال ہے کہ یہ سمندر میں ہی رہے گا۔

حکام کے مطابق اس جزیرے سے تین ہزار نو سو افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ اس جزیرے پر رہنے والوں میں ساٹھ فیصد ایبوریجنل نسل کے لوگ ہیں۔


بحرہند کاطوفان، ایک لاکھ سے زیادہ ہلاک
انڈونیشیاتباہی کے مناظر
انڈونیشیا میں تباہی کے مزید مناظر سامنے آئے
سونامی سے اب تک
تباہی کے بعد کی صورتحال، تصاویر میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد