سونامی پر عالمی کانفرنس شروع | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ روز قبل آنیوالے سونامی طوفان سے ہونے والی تباہ کاری اور ہلاکتوں پر عالمی ردِ عمل کا جائزہ لینے کے لیے اور متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی کارروائیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے جکارتا میں بین الاقوامی کانفرنس میں شروع ہوگئی ہے۔ ادھُر اقوام متحدہ کے سیکریڑی جنرل کوفی عنان نے کہا ہے کہ سونامی کے متاثرین تک امداد پہچانا ایک چیلنج ہے اور وہ وقت کے خلاف دوڑ میں شامل ہیں۔ انہوں نے امداد دینے والے ملکوں سے کہا ہے کہ سونامی سے ہونے والی تباہی سے نمٹنے کے لیے ایک ارب ڈالر کی فوری امداد کی ضرورت ہے۔ جکارتا کانفرنس کے ایجنڈے میں سونامی سے بچنے سے وارننگ سسٹم کو بہتر بنانا بھی شامل ہے۔ کانفرنس کے آغاز پر کانفرنس کے شرکاء سمندری طوفان سنامی کی تباہ کاریوں کی زد میں آنے اور ہلاک ہونے والوں کے سوگ میں ایک منٹ کے لیے خاموش کھڑے رہے۔ انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں جاری اس کانفرنس میں بیس ملک شرکت کررہے ہیں، جن میں امریکہ، چین، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور برطانیہ کے علاوہ اقوام متحدہ اور آسیان یعنی جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں کی تنظیم کے رہنما بھی شامل ہیں۔ کانفرنس میں اس بارے میں غور کیا جائے گا کہ امدادی رقومات کیسے تقسیم کی جائیں اور بحالی کا پروگرام کیوں کر شروع کیا جائے۔ اس کے علاوہ اس کانفرنس میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ بحرِ ہند میں سنامی کی طرح کے طوفانوں کے خطروں سے قبل از وقت آگاہ کرنے والا انتباہی یا الارم کا نظام کیسے لگایا جا سکتا ہے۔ تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ سورکیات ساتھیرتھائی نے کہا ہے کہ ان کا ملک اس طرح کے نظام کا مرکز بننا چاہے گا۔ امریکہ نے خطے میں اُسی طرح کا نظام لگانے میں مدد دینے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے جیسا کہ بحرالکاہل میں اس طرح کے طوفانوں کی اطلاعات فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کا بھی کہنا ہے کہ وہ وہ بحر ہند میں اس نوع کا ایک نظام لگانے کی تجاویز کو تیزی سے آخری شکل دینے میں لگے ہیں تا کہ ان پر اس ماہ جاپان میں ہونے والی کانفرنس میں غور کیا جا سکے۔ یہ کانفرنس عالمی سطح کی تباہ کاریوں کی روک تھام کے طریقوں پر غور کرنے کے لیے ہو رہی ہے۔
بحر ہند میں سمندری زلزلے اور سونامی کے بارے میں اس بین الاقومی کانفرنس کے موقعہ پر امدادی کارروائئاں کرنے والے اداروں نے اپیل کی ہے کہ اب تک کیے جانے والے امدادی وعدوں پر عمل درآمد کیا جائے۔ جب کہ اقوام متحدہ نے آچے اور سری لنکا میں لڑائی بند کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تا کہ امدادی سامان کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ جرمنی ، برطانیہ اور آسٹریلیا نے امدادی رقومات میں بہت بڑے بڑے اضافوں کے اعلانات کیے ہیں اور چالیس ملکوں کے وعدوں کے بعد مجموعی امدادی رقم تین ارب ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے لیکن امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ ہنگامی حالات میں جو وعدے کیے جاتے ہیں ان کا بہت ہی معمولی حصہ واقعی ادا کیا جاتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||