ماؤباغیوں سے براہ راست مذاکرات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماؤ نواز باغیوں اور بھارت کی ریاست آندھرا پردیش کے حکام کے درمیان پہلے براہ راست مذاکرات ریاستی دارالحکومت حیدرآباد میں شروع ہو گئے ہیں جو اگلے پانچ دن تک جاری رہیں گے۔ باغیوں کے دو گروہ، پیپلز گروپ اور ماؤ کمیونسٹ سنٹر آف انڈیا نے مل کر ایک نیا گروپ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( سی پی آئی ماؤ) کے نام سے تشکیل دیا ہے اور وہ ان مذاکرات میں اسی نام سے شریک ہو رہے ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار عمر فاروق نے اطلاع دی ہے کہ بند کمرے میں ہونے والے یہ مذاکرات اگلے پانچ دن تک جاری رہیں گے۔ صوبائی وزیرِ داخلہ کے جانا ریڈی نے مذاکرات سے قبل اخبار نویسوں کو بتایا کہ وہ ان مذاکرات میں کامیابی کی امید کے ساتھ شریک ہو رہے ہیں۔ باغیوں کے ترجمان وروا راؤ نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ بے زمین کسانوں میں زمین کی تقسیم کا مسئلہ ان مذاکرات کے ایجنڈے پر سرِ فہرست ہے۔ باغیوں اور حکومت کی آٹھ رکنی کمیٹی کے علاوہ ان مذاکرات میں آٹھ مصالحت کار بھی شرکت کر رہے ہیں جن میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ، دانشور، اساتذہ اور اخبار کے مدیران شامل ہیں۔ انہیں لوگوں کی کوششوں کی وجہ سے ریاست کے حکام اور باغی مذاکرات کی میز پر آنے کے لیے تیار ہوئے ہیں۔ بند کمرے میں ہونے والے ان مذاکرات سے لوگ زیادہ توقعات وابستہ نہیں کر رہے ہیں۔ باغیوں نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار نہیں پھنک رہے اور نہ ہی مسلح جدوجہد ترک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ پیپلز وار گروپ کی بنیاد انیس سو اسی میں ڈالی گئی تھی اور جب سے وہ آندھرا پردیش کے قبائلی علاقے، مہاراشٹر، اوریسہ، بہار اور چھتیس گڑ پر مشتمل ایک کمیونسٹ ریاست کے قیام کے لیے مسلح جدوجہد کر رہے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اس مسلح جدوجہد میں چھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اندھراپردیش میں کانگرس کے برسراقتدار آنے کے بعد سے گزشتہ پانچ ماہ سے جنگ بندی جاری ہے اور تشدد کا کوئی واقع پیش نہیں آیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||