| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میرے دل کا نیویارک
امریکہ میں آج بھی ایسے جوڑے ہیں کہ جن کی شادیاں یا شادیوں کی سالگرہ عاشقوں کے عالمی دن ویلنٹائن ڈے کے موقع پر یا بقول ایک سندھی اخبار کے ’پریمی جوڑوں کا ملن‘ نیو یارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی آخری منزلوں پر واقع ریستوراں ’ونڈو آف دی ورلڈ‘ میں ہوا کرتی تھیں۔ ان گنت لوگوں نے دنیا میں محبت کی ہے۔ کون کہتا ہے کہ صادق نہ تھے ان کے جذبے۔ ’ونڈو آف دی ورلڈ‘ جہاں دنیا بھر کے موسیقار آکر اپنی سمفنیاں بکھیرا کرتے تھے، وہاں شاخ گل جیسے جسم رکھنے والے ویٹروں اور ویٹرسوں کا کیا ہوا؟ کیا ہوا ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی دوسری منزل پر واقع کتاب گھر ’بارڈرز‘ کے شیلفوں میں ایک ہی جگہ رکھے ہوئے قرآن کے لبنانی نسخہ اور نیو یارک شہر کے جہان زاد جوگولڈ کی کتاب زندگی ’سی گل‘ کا کہ جس کے لکھنے والے ہفت روزہ ’نیو یارکر‘ کے صحافی کا قلم اسکا چھتیس برس کا ساتھ چھوڑ گیا۔اور وہاں دوپہروں میں مطالعے کے بہانے اونگھنے والے بےگھر لوگوں کا، قریبی بیٹری پارک میں کھلی مباشرت کرنے والے کبوتروں کا کہ جن سے پہروں نیو یارک کے نادار اور تنہا لوگ باتیں کیا کرتے۔ اور کیا ہوا امریکیوں کے سوا دوسری قوموں کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں کام پر آنے والوں کا۔ کیا یہ سارے کے سارے لوگ کفر اور اسلام کی جھوٹی جنگ یا دہشت گردی کے جھوٹے خداؤں کی نذر ہوئے؟
بقول ایک صحافی کے افغانستان میں تورا بورا کی تاریک غاروں میں میڈیسن سکوائر نیو یارک کی الیکٹرانک اشیاء کی دکانوں سے خریدے ہوئے سیٹلائٹ ٹیلیفونوں پر سے قرآنی آیات کی اپنی تاویلیں کرنے والوں کو اس سے کیا سروکار کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ذرا دور دنیا بھر میں نابینا لوگوں کی فلاح و بہبود اور تعلیم کیلئے قائم کئے جانے والا ’ہیلن کیلر سینٹر‘ بھی ان حملوں میں بری طرح متاثر ہوا۔ پاکستان میں پہلی بار کراچی میں کھلنے والے میکڈونلڈ ریستوراں کے افتتاح کے موقع پر ہونے والی قرآن خوانی میں مدرسوں سے بلائے جانے والے بچوں کو کیا معلوم کہ دنیا بھر میں کیفے ’ہارڈ راک‘ میں بکنے والے ہیم برگر کے ہر نوالے پر منافع بن لادن فیملی کی تجوریوں میں جاتا تھا۔
’اس دن (گیارہ ستمبر دوہزار ایک کو) نیو یارک شہر میں ایسے لگتا تھا خوف اور دہشت سے بھاگتے ہوئے لوگوں کے پیچھے ’گاڈذیلا‘ لگا ہوا تھا۔ یہ کسی خوفناک فلم کا منظر لگتا تھا۔‘ اخبار ’یو ایس اے ٹو ڈے‘ نے لکھا تھا: ’ اس دن آگ بھی ایسی آگ کہ نیو یارک شہر پر فرشتہ جبرئیل بھی اترتا تو اسکے پر بھی جل جاتے۔‘ ’ آگ ہے اور اولاد ابراہیم ہے ، نمرود ہے۔‘ اسی آگ کو بجھانے کیلئے نیو یارک کے تین سو فائر مین پروانوں کی طرح بھسم ہوئے۔ نیو یارک شہر کہ جس کے بروکلین اور برونکس میں ٹین ایج بچے کہیں کہیں سادہ لباس میں ملبوس پولیس والوں کو ہیروئین بیچنے کے دھوکے میں بال صفا پاؤڈر بیچنے کا کھیل کھیلتے ہیں اور وہاں کی بہت سی گلیوں میں بچوں کا خواب بڑے ہوکر ’فائر مین‘ بننا ہے۔ اپنے سکولوں اور کلاس روموں میں اپنے ننھے منھے ہاتھوں اور رنگوں سے یہ بچے وہ ڈرائنگ بنا کر چسپاں کرتے ہیں جس میں وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں جڑواں میناروں کے اوپر سے منڈلاتے ہوئے، آتے ٹکراتے طیارے دکھاتے ہیں۔ پاکستان کے شہروں میں ہونے والے امریکہ مخالف مظاہروں میں باریش لوگوں کے ہاتھوں جلائے جانے والے امریکی پرچم کی ٹیلی ویژن پر تصاویر دیکھنے والے وہیل چیئر پر بیٹھے ہونہار بچے فرانسسکو نے مجھ سے پوچھا تھا، ’ آپ لوگ ہم لوگوں سے نفرت کیوں کرتے ہیں‘۔ میں نے شکاگو کی ایک مسجد کے باہر چوبیس گھنٹے اپنے ہاتھوں میں موم بتیاں جلائے چوکسی دینے والے گورے اور کالے مردوں اور عورتوں کو دیکھا جن میں میری استاد سینڈی بھی تھی۔ یہ سینڈی بدھ مذہب کی ماننے والی ہے۔ باقی لوگوں میں یہودی بھی تھے۔ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بہت دنوں بعد اکتوبر کے پہلے ہفتے میں میں نے مشہور زمانہ ’گرے ہاؤنڈ‘ کی بس میں شکاگو سے نیو یارک کی طرف سفر کیا تھا۔ اکتوبر کی چاندنی میں وسطی مغربی امریکہ کے لالہ زار بنے ہوئے سرخ پتوں والے جنگلوں میں سے گزرتی ہوئی گرے ہاؤنڈ میں ایک پاکستانی کنبہ بھی سوار تھا۔ بس جب شکاگو ڈاؤن ٹاؤن چھوڑنے لگی تو اس کنبے کا بڑا سکاگو کی پرشکوہ عمارتوں کی عظمت کے بارے میں اپنے بچوں کو اس طرح باتیں بتانے لگا کہ جیسے وہ کوئی بہت خوف والی بات کر رہا ہو۔ پنسلوانیہ کی ریاست سے گرے ہاؤنڈ گزرتی جاتی تھی۔
آج کی دنیا میں بھی ٹیکنا لو جی کو تیاگ کر کی جگہ گھوڑا گاڑی استعمال کرنے اور کہیں کہیں بجلی کے بغیر رہنے والے ’مورش‘ قبیلہ کے لوگوں کو میں نے کھڑکی سے دیکھا۔ نیو جرسی کے دریائے ہڈسن سے لے کر جب بس نے نیو آرک شہر چھوڑا تو اب وہاں وہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز نہیں تھےلیکن اب بھی وہاں سے اٹھتا ہوا دھواں دکھائی دیتا تھا۔ ’نیو یارک شہر اب اس جواں، خوبصورت عورت کی طرح ہے جسکے دونوں پستان کاٹ دیئے گئے ہوں۔‘ یہ تھا وہ تبصرہ جو نیو یارک کے ایک پاکستانی ڈرائیور سے ایک سندھی سفر نامہ نویس نے سنا تھا۔ مجھے اس طرح کا تبصرہ پڑھ کر کیلیفورنیا کی بسوں پر لگا ہوا وہ اشتہار یاد آیا جو نسلی بنیادوں پر ہونے والی نفرت روکنے والے محکمے نے جاری کیا ہے۔ اس اشتہار میں ایک جواں سال جنوب ایشیائی رنگت والی عورت کو شلوار قمیض میں دکھایا گیا ہے اور تحریر ہے ’ وہ پہلے مجھ پر چیخے چلائے اور پھر کہا اپنے ملک واپس چلی جاؤ۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||