وزیرستان: سو جوتے اور سو پیاز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد دنیا کے تین خطے جو سب سے زیادہ بحران کے گرداب میں پھنسے ہوئے ہیں ان میں افغانستان اور عراق کے علاوہ وزیرستان بھی شامل ہے۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پہلی مرتبہ فوج کی تعیناتی امریکہ پر حملوں کے چند ماہ بعد شروع ہوئی۔ اس کا مقصد افغانستان پر امریکی حملوں اور قبضے کے دوران بڑی تعداد میں القاعدہ اور طالبان شدت پسندوں کو اس علاقے میں پناہ لینے سے روکنا تھا۔ یہ نو/گیارہ کے بعد کی بدلتی دنیا کے اثرات ہی تھے کہ جس علاقے کو قیامِ پاکستان سے قبل برطانوی حکومت فوج کے ذریعے اپنے تابع نہیں کرسکی اور جہاں قیامِ پاکستان کے بعد کبھی فوج کی تعیناتی کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی وہاں اسی ہزار فوجی ڈال دیئے گئے۔ ظاہر ہے ہر پڑھا لکھا، ان پڑھ قبائلی یہ سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ امریکی ایما پر کیا جا رہا ہے۔ فوج کا یکایک ان کے درمیان ہونا انہیں کیسے اچھا لگتا۔ ایک دوسری بات جو ان کے ذہنوں میں آج تک نہیں سما سکی وہ یہ تھی کہ افغانستان میں روسیوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے مجاہد اچانک دہشت گرد کیسے قرار دیے جانے لگے۔ مذہبی رحجان رکھنے والے یہ قبائلی ایسے حالات میں شدت پسندوں کے لیئے قدرتی طور پر امریکہ سے زیادہ رغبت رکھتے تھے۔ روسی افواج کے خلاف پاکستانی قبائلیوں کی بڑی تعداد نے اپنے افغان اور دیگر غیرملکی ساتھیوں کے ساتھ مل کر مزاحمتی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا۔ وہ کیسے اپنے پرانے ساتھیوں کو چُپ چاپ امریکیوں کے حوالے کر دیتے۔ حکومت پاکستان کو بھی نو/گیارہ کے بعد سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔ حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہوئے کہ اسے قبائلیوں کو مناسب طریقے سے اپنا موقف سمجھانے کا موقع ہی نہیں ملا کہ اب خیریت اسی میں ہے کہ ایک بپھری ہوئی عالمی طاقت کی ہاں میں ہاں ملانے میں ہی خیریت ہے۔ ذہنی طور پر تیار نہ کیے گئے یہ قبائلی جنگجو ہی گزشتہ چار برسوں سے حکومت پاکستان کے لییے دردِ سر ثابت ہوئے۔ اس کے بعد جو ہوا اچھا نہیں ہوا۔ چار برس تک قبائلی علاقے خصوصاً شمالی و جنوبی وزیرستان تشدد، غیریقینی اور بدامنی کا شکار رہے۔ قتل وغارت گری کا ایک بظاہر نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ فوج اور شدت پسند تو اس قضیے کے فریق تھے ہی لیکن عام آدمی بھی بری طرح متاثر ہوا۔ وزیرستان کا مسئلہ بہت سے لوگوں کے قریب اتنا پیچیدہ نہیں تھا جتنا کہ بنا دیا گیا۔ حکومت کا کبھی اس طرح کی صورتحال سے ماضی میں پالا نہیں پڑا تھا لہذا اس سے بھی ایک سے بعد دوسری غلطی ہوئی، جس سے معاملہ خراب سے خراب تر ہوتا گیا۔ جو معاملات باہمی اعتماد کی فضا میں اور قبائلی روایات کے مطابق حل ہونے چاہیے تھے، وہ گن شپ ہیلی کاپٹروں، لڑاکا طیاروں اور بھاری توپوں سے حل کرنے کی کوشش کی جانے لگی۔ اگر عسکری طاقت سے معاملہ حل ہوسکتا تو شاید کافی پہلے جنوبی وزیرستان میں انگور اڈے، اعظم ورسک یا کلوشہ میں حل ہوچکا ہوتا، لیکن جو خرابی وہاں سے شروع ہوئی وہ سینکڑوں فوجیوں اور قبائلیوں کی جانوں کے ضیاع کے بعد میران شاہ میں بھی نہ سُدھر سکی۔ نشانہ بنا کر قتل کرنے یعنی ’ٹارگٹ کلینگ’ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ کیا قبائلی سردار اور کیا صحافی سب کو اپنا اپنا حصہ ادا کرنا پڑا۔ حکومت کی رٹ قبائلی علاقوں میں تقریباً ختم ہوکر رہ گئی۔ کئی علاقوں میں لاقانونیت آج بھی موجود ہے۔ حکومت کو دیر آئد درست آئد کے مصداق بعد میں خیال آیا کہ اس کی فوجی کارروائیوں میں جن کا جانی یا مالی نقصان ہو رہا تھا وہ بھی جنگجوؤں کے ساتھ مل رہے تھے۔ شدت پسندی کا گراف نیچے جانے کی بجائے اوپر کی جانب رواں تھا۔ تاہم یہ جنگی کارروائیاں اتنی ناکام بھی نہیں تھیں۔ چند مواقع پر یہ کامیاب بھی ثابت ہوئی اور اگر فوج کا موقف درست تسلیم کر لیا جائے تو سینکڑوں غیرملکی جنگجو ہلاک یا گرفتار اور ان کے ٹھکانے اور تربیتی مراکز تباہ بھی کر دیئے گئے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کی قیمت انسانی جانوں کی صورت میں کتنی ادا کی گئی۔ قبائلی علاقوں میں ان کارروائیوں کے دوران القاعدہ یا طالبان کا کوئی اہم رہنما البتہ حکام کے ہاتھ نہیں آیا۔ جو آیا وہ راولپنڈی، کراچی یا فیصل آباد سے پکڑا گیا۔ بات بالآخر مذاکرات پر ہی آکر بنی۔ جنوبی وزیرستان میں شکئی اور سراروغہ اور شمالی وزیرستان میں حالیہ امن معاہدے کی صورت میں۔ جنوبی وزیرستان میں صورتحال آج یہ ہے کہ امن معاہدوں کے بعد حکومت کو فوجی کارروائیوں کی ضرورت تو نہیں پڑی تاہم امن عامہ کی صورتحال آج بھی کافی مخدوش ہے۔ مسلح گروہوں کا راج ہے اور حکومت محض دفاتر تک محدود ہے۔ اب امید کی جا رہی ہے کہ شمالی وزیرستان میں قدرے بہتر معاہدے کے بعد صورتحال میں کوئی بہتری آئے گی۔ تاہم معاہدے کے چند روز بعد ہی ایک ستر سالہ معمر شخص کی امریکہ کے لیئے جاسوسی کے الزام میں ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر خطرے کی گھنٹی بجائی ہے۔ تاہم حکومت کا موقف ہے کہ یہ چھوٹے موٹے واقعات کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ فل الحال حکومت ایک بڑے ترقیاتی عمل کی یقین دہانی کرا رہی ہے۔ دیکھیں یہ بیل کب منڈھے چڑھتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||