کیاگاندھی کا عدم تشدد کا نظریہ کامیاب رہا؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پورے ایک سو سال پہلے گیارہ ستمبر کو جنوبی افریقہ میں ہندوستانی مزدوروں کے حقوق کے لیئے گاندھی جی نے عدم تشدد یا ’اہنسا‘ کے اس فلسفہ کو پہلی بار سیاسی میدان میں ایک حربہ کے طور پر آزمایا تھا جس کی بناء پر پورے چار دانگ عالم میں گاندھی جی نے شہرت پائی اور یہ دعوٰی کیا گیا کہ ہندوستان کی آزادی عدم تشدد کے اسی فلسفہ کی مرہون منت ہے۔ آج جبکہ سیاست میں عدم تشدد کے فلسفہ کو ایک نظریہ کے طور پر اختیار کرنے اور اس کی بنیاد پر ستیہ گرہ کے آلہ کار کےاستعمال کو شروع ہوئے ایک سو سال پورے ہوگئے ہیں، ان سوالات کا ذہنوں میں ابھرنا قدرتی ہے کہ گاندھی جی کا عدم تشدد کا فلسفہ کس حد تک کامیاب رہا اور کیا واقعی ہندوستان کی سیاست نے اپنے آپ کو اس نظریہ کے سانچے میں ڈھالا ہے؟ میں شروع میں بتادوں کہ میں نے دلی کے تعلیمی ادارے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں آنکھ کھولی اور میری پرورش اسی ادارے میں ہوئی، جو مسلم قوم پرست رہنما مولانا محمد علی جوہر نے سن انیس سو بیس میں گاندھی جی کی تحریک ترک موالات کے دوران قائم کیا تھا۔ اس کی بنیاد گاندھی جی کے آدرشوں پر رکھی گئی تھی اور اسی نہج پر بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی اور ان کی تربیت کی جاتی تھی۔ میں نے بچپن سے جوانی تک کھدر پہنی۔ گاندھی جی کی طرح چرغہ کاتا۔ دلی کے برلا مندر میں گاندھی جی کی پراتھنا سبھاؤں میں شرکت کی اور ان کے آخری دنوں میں انہیں قریب سے دیکھا۔ اس زمانہ میں ڈاکٹر ذاکر حسین جامعہ کے سربراہ تھے اور ڈاکٹر عابد حسین اور پرفیسر محمد مجیب ان کے ساتھ جامعہ کے اہم ستون تھے۔ عابد صاحب جامعہ کی تعطیلات میں اپنے مضامین کے مسودے صاف اور خوش خط لکھنے کے لیئے مجھے دیتے تھے کہ اس زمانہ میں میرا خط بہت نفیس تھا اور یوں مجھے جیب خرچ بھی مل جاتا تھا۔ گاندھی جی کے بارے میں ان کا ایک مضمون تھا جس میں یہ تاثر تھا کہ عدم تشدد کا فلسفہ بنیادی طور پر خود گاندھی جی کا اپنا فلسفہ نہیں تھا بلکہ یہ فلسفہ جین مت اور بدھ مت کے عقیدوں پر مبنی ہے۔
اس بارے میں جب میں نے عابد صاحب سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ دراصل گاندھی جی اپنے آبائی ہندو وشنو دھرم کے پابند تھے لیکن ان کے علاقہ میں جین مت کے ماننے والوں کی اکثریت تھی لہٰذا بچپن ہی میں ان پر جین دھرم کا بڑا گہرا اثر پڑا اور اسی کے ساتھ انہوں نے بدھ مت کا گہرا مطالعہ کیا تھا۔ پھر انگلستان کے قیام کے دوران ان پر تھیوسفیوں اور عیسائیوں کے اثرات پڑے اور خاص طور پر حضرت عیسٰی اور ان کے پہاڑی خطبہ نے ان پر گہرا اثر ڈالا۔ عابد صاحب کا کہنا تھا کہ یہ صحیح ہے کہ عدم تشدد کا فلسفہ گاندھی جی کا اپنا فلسفہ نہیں لیکن گاندھی جی نے پہلی بار اس فسلفہ کو سیاسی نظریہ کے طور پر اپنایا اور ستیہ گرہ، ’تمسک الحق‘ یا سچ کی قوت کو سیاسی حکمت عملی کے طور پر اختیار کیا۔ جنوبی افریقہ میں تو گاندھی جی عدم تشدد اور ستیہ گرہ کے بل پر ہندوستانی مزدوروں کے کچھ حقوق منوانے میں کامیاب رہے لیکن ہندوستان واپسی پر جب انیس سو انیسں میں جلیانوالہ باغ میں برطانوی فوج کے ہاتھوں چار سو افراد کے کے قتل عام کے بعد انہوں نے ستیہ گرہ کی تحریک شروع کی تو کامیاب نہ رہی کیونکہ تحریک میں شامل لوگوں نے تشدد کی راہ اختیار کی اور یوپی کے مقام چوری چورا میں ستیہ گرھوں نے ایک پولیس تھانے پر حملہ کرکے چوبیس سپاہیوں کو ہلاک کر دیا۔ گاندھی جی کواعتراف کرنا پڑا یہ ایک ہمالیائی غلطی تھی اور تحریک روک دی۔ اسی دوران ہندوستان میں ترکی کی خلافت کی حفظ و بقا کے لیئے مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں مسلمانوں کی تحریک اٹھی جو برطانوی راج کے خلاف جہاد کے جذبہ سے معمور تھی۔ اس تحریک کی خاطر مسلمانوں نے سرکاری نوکریاں اور انگریزی سکول چھوڑ دیئے اور بیس ہزار سے زیادہ مسلمان ہجرت کر کے افغانستان چلے گئے۔ اس موقع پر جبکہ انگریزوں کو مسلمانوں کی مسلح جدوجہد کا شدید خطرہ تھا، گاندھی جی کی طرف سے اس تحریک کی قیادت اپنے ہاتھ میں لینے سے ہندوستان میں برطانوی راج کو بڑی حد تک اطمینان اور طمانیت حاصل ہوئی کیونکہ انہیں یقین تھا کہ اب گاندھی جی کی بدولت یہ تحریک تشدد کا رخ اختیار نہیں کر پائے گی۔ یہ بات اہم اور نہایت تعجب خیز ہے کہ برطانوی راج نے یہ جانتے ہوئے کہ خلافت کا مسئلہ خالصتًا مسلمانوں سے تعلق رکھتا ہے، اس تحریک کے لیئے گاندھی جی کی قیادت کو شہہ دی اور ان کی قیادت میں خلافت کے وفد سے مذاکرات کیئے۔
گاندھی جی کی قیادت کی بدولت انگریزوں کو جو توقعات وابستہ تھیں وہ پوری ہوئیں کیونکہ دو سال کے اندر اندر گاندھی جی کی طرف سے ستیہ گرہ کی تحریک روک دینے کے بعد خلافت کی تحریک دم توڑ بیٹھی۔ بہت سے مبصرین کی یہ رائے ہے کہ خلافت کی تحریک کی ناکامی کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ گاندھی جی کا نظریہ عدم تشدد اور ستیہ گرہ ہندوستان میں برطانوی راج کے لیئے ایک سیاسی چیلنج سہی لیکن ملک میں مسلمانوں کے جہاد کے خطرہ اور عسکریت پسند قوم پرستوں کے مقابلہ میں برطانیہ کے مفادات کے لیئے گاندھی جی کے نظریہ سے کوئی بڑا خطرہ نہیں۔ سن انیس سو اڑتیس اور انتیس میں لگا تار دو بار انقلابی اور عسکریت پسند رہنما سبھاش چندر بوس، گاندھی جی کی شدید مخالفت کے باوجود کانگریس کے صدر منتخب ہوئے تو نہ صرف گاندھی جی کے نظریہ عدم تشدد کو زبردست زک پہنچی بلکہ برطانوی راج کو بھی شدید فکر دامن گیر ہوئی۔ اور آخر کار جب گاندھی جی جواہر لعل نہرو اور کانگریس کے دوسرے رہنماوں کے سخت دباؤ میں سبھاش چندر بوس کو کانگریس کی صدارت کے ساتھ کانگریس کو خیر باد کہنے پر مجبور ہونا پڑا تو برطانوی راج کی مسرت اور شادمانی عیاں تھی۔ نیتا جی ہندوستان کو مسلح جدوجہد کے ذریعہ آزاد کرانا چاہتے تھےجس کے خیال سے برطانوی راج لرزاں تھا کیونکہ اس کے نتیجہ میں، عین اس وقت جب دوسری عالم گیر جنگ شروع ہوئی تھی، اس کو زبردست تباہی کا سامنا کرنا پڑتا۔ اسے نہ صرف ہندوستان کی بڑی فوج سے ہاتھ دھونا پڑتا بلکہ اقتصادی طور پر وہ دیوالیہ ہوجاتا اوراسے سب کچھ کھو دینا پڑا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اگر آزاد ہند فوج کی طرز پر ہندوستان کی آزادی کے لیئے بر صغیر کے سب ہی مذاہب کے لوگ مل کر مسلح جدوجہد کرتے تو عین ممکن ہے کہ نہ تو وہ حالات پیدا ہوتے جو پاکستان کے قیام کا جواز بنتے اور جس طرح آزاد ہند فوج میں جنرل شاہنواز کرنل پریم سہگل اور کرنل گروبخش سنگھ ڈھلوں شانہ بشانہ تھے، اسی طرح پورا ملک متحد ہو کر آزادی حاصل کرتا اور ممکن ہے فرقہ پرستی کی عفریت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے نجات حاصل ہو جاتی۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان نے کسی بڑے خون خرابہ کے بغیر آزادی حاصل کی ہے اور اس کا سہرا گاندھی جی کے نظریہ عدم تشدد کے سر ہے۔ لیکن بہت سے مبصرین کی رائے ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے حصول میں اور کئی محرکات شامل تھے۔ اول تو دوسری عالم گیر جنگ کے بعد برطانیہ کی معیشت اتنی کمزور ہوگئی تھی کہ اسے اتنی بڑی نوآبادی کو سنبھالنا مشکل ہوگیا تھا۔ چوتھی وجہ سب سے اہم تھی جس سے برطانوی راج ہل کر رہ گیا تھا اور وہ تھی فروری سن چھیالیس میں ہندوستان کی بحری بغاوت۔ یہ بغاوت بمبئی سے شروع ہوئی اور اس نے کراچی کلکتہ اور دوسری بندرگاہوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور بحری فوج کے اٹھہتر جہازوں کے بیس ہزار بحری فوجیوں نے اس بغاوت میں حصہ لیا۔ اس بغاوت کو فرو کرنے کے لیئے آخرکار برطانوی راج نے ہندوستان کے سیاست دانوں کی مدد حاصل کی۔
اگر ہندوستان کی آزادی گاندھی جی کے عدم تشدد کے نظریہ کی مرہون منت ہے تو بہت سے مبصرین یہ سوال کرتے ہیں کہ آزادی کے ساتھ ساتھ پورے برصغیر میں جو ہولناک فرقہ وارانہ قتل وغارت گری ہوئی جس میں دس لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے، پچاس لاکھ سے زیادہ افراد جس خونریزی کے عالم میں اپنے گھربار چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور ایسی بھیانک اقتصادی اتھل پتھل مچی کہ جس کی آج تک نظیر نہیں ملتی، اسے تو کسی صورت میں عدم تشدد کی کامیابی نہیں کہا جاسکتا۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سبھاش چندر بوس یا مولانا عبید اللہ سندھی کی قیادت میں آزادی کی مسلح جدو جہد میں ممکن ہے دس لاکھ لوگ جاں بحق ہوتے لیکن اتنے بڑے پیمانے پر تو اتھل پتھل اور تباہی نہ ہوتی۔ ہندوستان میں بہت سے مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ اگر آزادی کے بعد ایک عرصہ تک گاندھی جی زندہ رہتے تو ان کے عدم تشدد کے نظریہ اور بڑی صنعتوں کے مقابلہ میں گاؤں کی سطح پر چھوٹی اور گھریلو صنعتوں پر مبنی معیشت کے فلسفہ کی وجہ سے ان کی جواہر لعل نہرو سے بہت ان بن رہتی اور دونوں رہنماوں کے درمیان مختلف شعبوں میں شدید اختلافات ملک کے لیئے سنگین صورت حال پیدا کر سکتے تھے۔ پھر وہ اپنے عدم تشدد کے نظریہ کے پیش نظر ہندوستان میں بڑی تعداد میں فوج رکھنے کے بھی خلاف تھے۔ اس کے پس پشت ہندوستان کی خاص جغرافیائی حیثیت اور اس کے سیاسی اور اقتصادی مفادات کو دخل تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہندوستان کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے پڑوسی ملک ہیں۔ ایسی صورت میں ہندوستان اگر ایک بڑی فوجی قوت بنتا ہے تو ہمیشہ پڑوسی ملکوں سے کشمکش اور کشیدگی رہےگی جو ہندوستان کے تجارتی اور اقتصادی مفادات کی راہ میں رکاوٹ بنی رہے گی اور ہندوستان کو کبھی چین نصیب نہیں ہوگا۔ گاندھی جی اگر سن چوہتر میں زندہ ہوتے تو یقینًا ہندوستان کے جوہری تجربہ کی وہ اسی شدت سے مخالفت کرتے جس شدت سے انہوں نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر امریکی جوہری بم کے حملہ کےبعد جوہری اسلحہ کی مخالفت کی تھی۔
گاندھی جی آج اگر زندہ ہوتے تو ہندوستان کی آزادی کے بعد ملک بھر میں ہندو مسلم فسادات کی خونریز لہر کے بعد بابری مسجد کو جس طرح مسمار کیا گیا اور اس کے بعد ملک میں بڑے پیمانہ پر جو قتل وغارت گری ہوئی اور خود ان کی ریاست گجرات میں چند سال قبل جوہولناک مسلم کش فسادات ہوئے ان کے بعد تو گاندھی جی خود یہ اعتراف کرتے کہ وہ ناکام رہے ہیں کیونکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کے عوام نے ان کے عدم تشدد کے فلسفہ کو نہ تو پوری طرح سمجھا ہے اور نہ اسے اپنا کر اپنی سیاست کو اس کے سانچہ میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔ آخر میں ایک بات میں ضرور کہوں گا کہ عدم تشدد کے معاملہ میں بھلے گاندھی جی ناکام کہلائیں لیکن ستیہ گرہ اور برت کا ان کا جو طریقہ کار تھا وہ واقعی بہت موثر اور کارگر تھا- ہندوستان جب آزاد ہوا تو کلکتہ اور نواکھلی میں نہایت خونریز ہندو مسلم فسادات برپا تھے اور دلی میں آزادی کا جشن منانے کی جگہ انہون نے حسین شہید سہروردی کے ساتھ ان فسادات کو روکنے کے لیئے ان علاقوں کے دن رات دورے کئے- نواکھلی سے جب وہ دلی آئے تو سیدھے جامعہ ملیہ اسلامیہ آئے جو دلی کے فرقہ وارانہ فسادات کی وجہ سے پانچ ماہ سے اپنے آس پاس کے دیہاتوں کے کڑے محاصرے میں تھی اور جمنا پار کے گاؤوں سے مسلمانوں کی بڑی تعداد جامعہ میں پناہ لئے ہوئے تھی- گاندھی جی جب جامعہ آئے تو میں نے دیکھا کہ ان کے چہرے پر کرب اور اذیت کا احساس عیاں تھا۔ کمر ان کی جھک گئی تھی۔ جامعہ میں لوگوں سے بات کرتے کرتے وہ آسمان کی طرف دیکھنے لگتے جیسے خلاء میں گھور رہے ہوں۔ وہ دو گھنٹے جامعہ میں رہے ہوں گے لیکن اس دوران وہ بہت کم بولے۔ بس یہی دہراتے رہے: بہت برا ہوا۔ بہت برا ہوا۔ لیکن سب ٹھیک ہو جائے گا، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ پورے ملک میں فسادات خاص طور پر دلی کے خونریز بلووں نے گاندھی جی کی کمر توڑ دی تھی۔ فسادات کی آگ پر قابو پانے کے لیئے انہوں نے جنوری سن اڑتالیس کی تیرہ تاریخ کو مرن برت شروع کیا- ہندو مسلم فسادات کو روکنے کے مطالبہ کے ساتھ ساتھ انہوں نے ہندوستان کی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کی پچپن کروڑ کی جو رقم روک لی وہ فورا ادا کی جائے۔ گاندھی جی کے مرن برت نے ملک کی فضا یکایک یکسر بدل دی۔ ہم جامعہ والے بھی جو پانچ مہینہ سے جامعہ کے احاطہ سےنہیں نکلے تھے، سب اساتذہ اور طلباء ڈرتے ڈرتے پہلی بار جلوس کی شکل میں آس پاس کے دیہاتوں میں نکلے جہاں سے ہر لمحہ حملہ کا خطرہ رہتا تھا۔ ہم سب نعرے لگا رہے تھے: ہندو مسلم ایک ہو جاؤ،گاندھی جی کی جان بچاؤ۔ مرن برت کا نتیجہ یہ ہوا کہ یکایک فسادات بند ہو گئے۔ پانچ روز کے بعد جب پورے ملک میں امن و امان بحال ہوگیا تو گاندھی جی نے برت توڑ دیا۔ لیکن اس کے بارہ روز بعد وہ نتھو رام گوڈسے کے ہاتھوں جاں بحق ہوگئے اور اس تشدد کا شکار ہوگئے جس سے معاشرہ کو نجات دلانے کے لیئے ساری عمر انہوں نے جدوجہد کی۔ | اسی بارے میں روس کی تاجک سرحد سے واپسی16 April, 2005 | آس پاس پامیر کے پہاڑوں میں یونیورسٹی05 July, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||