پامیر کے پہاڑوں میں یونیورسٹی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسماعیلی فرقے کے روحانی پشوا پرنس آغا خان وسطی ایشیا کے ملک تاجکستان میں پامیر کی خوبصورت پہاڑیوں کے سلسلے میں ایک جدید ترین یونیورسٹی قائم کر رہے ہیں۔ اس یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لیے وہ تاجکستان کے دارالحکومت دشنبہ پہنچ رہے ہیں۔ یونیورسٹی اس علاقے میں لاکھوں غریب طالب علموں کو اعلی تعلیم مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے علم کے متلاشی افراد کو بھی اس خطے میں جس کو بام ِدنیا کہا جاتا ہے کھینچ لانے کا باعت بنے گی۔ اسماعیلی فرقے کے روحانی پیشوا کی نظر میں یہ یونیورسٹی اس دورافتاد علاقے کے لوگوں کو دنیا میں ان کا صحیح مقام دلانے میں مدد گار ثابت ہوگی اور ان قبیلوں کو نئی زندگی بخشے گی جن کا وجود غربت اور پسماندگی کی بنا پر خطرے میں ہے۔ تاجکستان میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ جگہ دنیا کی خوبصورت ترین جگہوں میں سے ایک ہے۔ پامیر کی چوٹیوں اور گلیشئرز کے قریب دنیا کی چھت پر واقع یہ یونیورسٹی دنیا کی خوبصورت ترین درس گاہ ہو گی۔ یہ یونیورسٹی وسطی ایشیا کے وسیع و عریض خطے میں بسنے والے چار کروڑ غریب افراد کی تعلیمی ضروریات پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرئے گی۔ اس خطے میں بسنے والے لوگوں کے پاس نقل و حمل کے لیے اس جدید دور میں بھی خچروں اور گدہوں کے علاور کوئی ذریعہ نہیں اور ان کا باہر کی دنیا سے کوئی رابطہ نہیں۔ اس یونیورسٹی کو قائم کرنے کا مقصد ان لوگوں کو دنیا میں آگے بڑھنے کا ایک موقعہ فراہم کرنا ہے۔ اس علاقے میں پھیلے ہوئے ان گنت دیہاتوں میں لوگ آج بھی سخت موسمی حالات، غربت، بھوک اور قدرتی آفات سے لڑتے ہوئے زندگی گزار دیتے ہیں۔ ان دیہاتوں کے لوگوں کو یا تو اپنے بچوں کو دور دراز شہروں میں بھیجنا پڑتا ہے یا پھر ان کے بچے منشیات فروشوں اور دہشت گردوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں۔ پامیر دنیا کے حساس ترین علاقوں میں واقع ہے۔ تاجکستان کی سرحد افغانستان اور چین سے ملتی ہیں۔ پامیر میں بسنے والوں کی ایک کثر تعداد کا تعلق اسلام کے اسماعیلی فرقے سے ہے جو آغا خان کو روحانی پیشوا تصورکرتے ہیں۔ تاجکستان میں آغا خان کی آمد کی وجہ سے شدید جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ یونیورسٹی کا سنگِ بنیاد رکھنے کے علاوہ آغا خان تاجکستان اور افغانستان کے درمیان پہاڑی سلسلے میں واقعہ ایک پل کا بھی افتتاح کریں گے جس کو برسوں پہلے بند کر دیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||