گیارہ ستمبر: ہندوستانی مسلمانوں کی بدلتی شناخت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ ستمبرسنہ دو ہزار ایک کو امریکہ میں ہوئے حملوں کو پانچ برس ہوگئے ہیں۔ ان پانـج برسوں میں جہاں بہت کچھ بدلا وہیں پاکستان،ہندوستان اور دیگر ممالک میں جاری ’دہشت گردی کے خلاف جنگ ‘ نےان ملکوں کی معاشرت کو بھی تپلٹ کر دیا ہے۔ طرفہ تماشا یہ کہ گزشتہ پانچ سالوں میں جوں جوں دہشت گرد ی کے خلاف جنگ نے زور پکڑا دہشت گردی کے واقعات میں بھی تیزی آئی۔ بہت جلد ہی دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا جانے لگا۔ یہاں تک کہ یہ بات شاید اب کوئی راز نہیں کہ ان واقعات کے بعد پوری دنیا کے مسلمانوں کو شک کی نظر سے دیکھا جانے لگا ہے۔ کہیں نہ کہیں تاریخ میں 9/11 کے واقعہ نے دہشت گردی کو عالمی نقشے پر لاکر کھڑا کردیا۔ پانچ سال قبل آج ہی کے دن امریکہ کی دو سب سے اونچی عمارتوں کو دو طیاروں نے مسمار کر دیا تھا۔امریکہ نے اس حملے کی پیچھے القاعدہ اور اس کے سربرہ ا سامہ بن لادن کا ہاتھ بتایا۔ ان کی تلاش میں افغانستان پر حملہ بھی کیا گیا لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ نائن الیون کے مجرموں کی امریکی خفیہ ایجنسی (ایف بی آئی) کی فہرست میں اسامہ کا نام بھی نہيں ہے۔ یہ باتیں میں کیوں کر رہی ہوں؟ اس کے پیچھے وہ مضمون ہے جوچند روز قبل میری ساتھی خدیجہ عارف نے ہندوستان میں مسلمانوں کی شناخت اور ان کے مبینہ طور پر غیرمحفوظ ہونے کے احساسات کے بارے میں لکھا۔ مضمون پڑھنے کے بعد مجھے بھی یہ احساس ہوا کہ ایسے واقعہ تو میرے ساتھ پیپیش آیا ہے۔ اس واقعہ کو پڑھ کر مجھے وہ دن یاد آیا جب میں نے دلی کے ایک پوش علاقے میں ایک گھر کرائے پر لیا۔ میں اس گھر میں اکیلے رہنے والی تھی۔ ایڈوانس دینے کے بعد جس دن میں گھر کی صفائی کرانے پہنچی، مکان مالک بھی آ گئے۔ ان کے ساتھ ایک دوسرے صاحب بھی تھے۔ مکان مالک گھر کی تعریف کرتے رہے اور میں ان کی باتیں سنتی رہی۔ اس کے بعد جو شخص ان کے ساتھ آئے تھے وہ بھی مجھ سے بات چیت کرنے لگے۔ شروع میرے نام سے کی اور پھرکام کے بارے میں پوچھا۔ کہنے کو تو انہوں نے مجھ سے صرف پانچ منٹ بات کی لیکن باتوں ہی باتوں ميں اس شخص نے میرے والد ،میری والدہ میرا آبائی گھر وغیرہ سب کچھ پوچھ لیا اور پھر کہیں نہ کہیں اپنا رشتہ بھی میرے شہر سے جوڑ لیا۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ آخر یہ سب وہ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں۔ اس کے بعد میں نے مکان مالک سے کہا کہ مجھے دیر ہو رہی ہے تو وہ بھی بولے ہاں ہاں اب چلنا چاہیئے ہمیں بھی دیر ہو رہی ہے۔
جاتے جاتےمکان مالک نے اس شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان سے تو آپ کی ملاقات ہو ہی گئی ہوگی ’یہ میرے دوست ہیں اور آئی بی (خفیہ ایجنسی) میں کا م کرتے ہیں۔‘ یہ کہہ کر وہ تو چلے گئے لیکن مجھے میرے تمام سوالات کے جواب مل گئے تھے جو بڑی دیر سے میرے ذہن میں چل رہے تھے۔ میرے بارے میں تفصیلات حاصل کرنے کے پیچھے کیا مقصد تھا اب یہ بھی میرے لئے بالکل صاف ہو گیا تھا۔ ممبئی بم دھماکوں کے بعد جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا اتفاق سے وہ سبھی مسلمان تھےاور ہیتھرو ہوائی اڈے کے بعد تو ایسا لگا کہ پوری دنیا مسلمانوں پر شبہ کر ہی ہے۔ کبھی کسی صحافی کو ممبئی بم دھماکوں کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لئے حراست ميں لے لیا گیا اور کبھی کسی عام شہری کو حراست میں لینے کی خبر آئی۔ اس طرح کے واقعات نے یہ واضح کر دیا کہ دنیا نے ایک خاص برادری کو دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنا نشانہ بنا لیا ہے۔ ان سب واقعات نےمجھے اور خدیجہ کو مجبور کیا کہ ہم کم از کم یہ جاننے کی کوشش کریں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آخر ہندوستان کے حالات میں کب اور کیسے تبدیلیاں آگئیں جس پر مسلمانوں نے ایک ہزار سال تک حکومت کی ، اور اس دوارن فرقہ وارانہ فسادات کے اکّا دکّا واقعات ہی تاریخ میں درج ہیں۔ جس ملک کی صدیوں پرانی تاریخ میں مسلمانوں نے ہر شعبہ میں بے مثال کام کیا ہے، خوا وہ ادب و تہزیب ہو یا پھر فلم اور سیاست، اسی ملک میں مسلمانوں کو دور کیوں کیا جا رہا ہے۔ ہم جب اپنے سوال لے کر لوگوں کے پاس گئے تو ان کے تجربات سن کر یہ پتہ چلا کہ جس ملک کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کا دوہزان بیس تک ایک سپر پاور بن جائے گا اور عالمی سطح پر جس ملک کے شمار تیزی سے ترقی کرنے والے ممالک میں کیا جا رہا ہے وہاں کے مسلم نوجوان اکثریت کے سامنے اپنا نام بتاتے ہوئے بھی ہچکچاتے ہيں۔ ان لوگوں کو بار بار اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینا پڑتاہے۔ نوجوانوں میں سے ایک نے کہا کہ مسلمان اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لئے دہشتگردی کا سہارا لے رہے ہیں جب کہ اصلیت یہ نہیں کہ آج ہر مسلمان دہشتگرد ہے بلکہ سچائی یہ ہے کہ ہر پکڑا گیا دہشت گرد مسلمان ہے۔ جب ہم دونوں اپنے اس خصوصی پراجیکٹ پر کام کر رہے تھے تو انہی دنوں ممبئی سے تقریبا ایک سو اسی کلومیٹر دور مالیگاؤں میں ایک اور دہشتگردانہ حملہ ہوا اس میں کم از کم اڑتیس معصوموں کی جانيں چلی گئيں اور یہ بات ایک مرتبہ پھر واضح ہو گئی کہ دہشتگرد اور دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ شاید یہی بات دہشت گردی کی جنگ لڑنے میں مدد گار ثابت ہو جائے۔! |
اسی بارے میں حریت پسندی سے دہشت گردی تک10 September, 2006 | انڈیا بھارتی مسلمان پھر ’مشکوک‘ ہوگئے10 September, 2006 | انڈیا مالیگاؤں: مطلوب افراد کے خاکے10 September, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||