’ہتھیار کی نہیں عقل کی ضرورت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں دہشت گردی صرف کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ہے۔ آسام، جنوبی ہندوستان، جھارکھنڈ اور کشمیر جیسی ریاستیں دہشت گردی سے نپٹ رہی ہیں۔ کشمیر میں حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہو چکے ہیں۔ کشمیر میں جب بھی کوئی دہشت گردانہ کارروائی ہوتی ہے تو سب سے پہلے کشمیریوں کا نام لیا جاتاہے۔ شدت پسند کشمیر کی آزادی یا جزوی خود مختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے حصول کے لیئے وہ لوگ تشدد پر اتر آئے ہیں جس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے اور اسے دبانے کے لیئے تشدد کا ہی سہارا لیا جا رہا ہے اس سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ میرے خیال میں جب تک آپس میں بیٹھ کر بات چیت نہیں کی جائے گي اس مسئلہ کا حل ممکن نہیں ہے۔معصوموں کو ہلاک کرنا غلط ہے ۔ لیکن اس وقت عوام یہ سمجھ چکی ہے کہ اس قسم کے حملہ کرنے والے دماغی طور پر بیمار ہیں۔ اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ دنوں بنارس میں ہونے والے بم دھماکے اگر دس بارہ برس پہلے ہوئے ہوتے تو اس کے رد عمل ميں ہزاروں مسلمانوں کو کاٹ کر پھینک دیا گیا ہوتا۔ اسی طرح سے ممبئی کی لوکل ٹرینوں ميں ہونے بم دھماکوں کے معاملے میں بھی مسلمانوں پر شبہ کیا جا رہا ہے اگر یہ واقعہ بھی آج سے دس بارہ برس پہلے ہوا ہوتا تو اب تک ہزاروں مسلمانوں کو کاٹ کر پھینک دیا گیا ہوتا۔ آخری مرتبہ گجرات میں سب سے زیادہ بےگناہ مسلمانوں کو مارا گیا۔ اس کے بعد سیاست دانوں کو لگتا تھا کہ اس سے انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہوگا لیکن اس کا نتیجہ الٹا ہی نکلا۔ گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ہی مرکزی میں ان کی (بی جے پی) حکومت گرگئی۔ فی الوقت تو کانگریس کی حکومت میں اعلی سطح کے رہنماء نہرو خاندان کی سکیولر امیج کو قائم کرے ہوئے ہیں لیکن ایک بات جو میری سمجھ میں نہيں آتی ہے وہ یہ ہے کہ کانگریس کے دور اقتدار ميں ہی اقلیتوں پرمصیبتوں کا پہاڑ کیوں ٹوٹتا ہے۔ موجودہ حالات میں بھی ممبئی دھماکوں کے بعد وہاں کی اکثریت مسلمان مخالف نہیں ہے جبکہ حکومت نے مسلمانوں کو نشانہ بنا رکھا ہے اور وہ معصوموں کو پکڑ رہے ہے اور انہيں ذہنی طور پر اذیت دے جا رہی ہے۔ ایک بات ضرور ہے کہ نائن الیون کے بعد پوری دنیا میں مسلمانوں کی منفی شبیہ ابھر کر سامنے آئی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایران اور ملائشیا جیسے ممالک کوچھوڑ کر مسلمانوں کو جدید تعلیم فراہم کی جانی چاہئیے اور اسی وجہ سے مسلمان کسی مسئلہ کے حل کےلیئے جذبات کا سہارا لیتے ہیں دماغ کا نہیں۔ ہمیں مسلمانوں کویہی پیغام دینا ہے کہ فی الوقت امریکہ کی جانب سے جو مہم چل رہی ہے اس کا جواب دینے کے لیئے عقل کی ضرورت ہے ہتھیار کی نہیں ہے۔ امریکہ نے جاپان کو ایٹم بم کی مدد سے شکست دی تھی لیکن جاپان نےامریکہ کو عقل کی طاقت سے ہرا دیا۔ لیکن اس وقت مسلمان اسی دور سے گزر رہے ہیں جس سے ایک دور میں عیسائی گزر رہے تھے۔اس دور میں عیسائیوں پر جو مصیبتیں آ رہی تھی وہ چرچ کے ذریعے آ رہی تھی چرچ کے نمائندے زمانے کے تقاضوں کو سمجھ نہیں رہے تھے کیوں کہ انکی سوچ پچھڑی ہوئی تھی۔اور اس کی ایک بڑی قیمت عیسائیوں کوادا بھی کرنی پڑی تھی۔ اس وقت یہ دور مسلمانوں کا ہے اور اگر مذہبی رہنماء ممبر کے ذریعے یا مہراب کے ذریعے برادری کو یہ پیغام دیں کہ جدید تعلیم ہی سب سے زیادہ ضروری ہے اور تمام مسائل کے حل بات چیت کے ذریعے حل کیئے جا سکتے ہيں ہتھیاروں کے ذیعے نہیں اور اگر یہ بات مسلسل مسلمانوں کے کانوں تک پہنچائی جائے تو میں نہیں سمجھتا کہ مسلمانوں کی سوچ میں انقلاب نہ آجائے ۔ | اسی بارے میں حزب المجاہدین کے کمانڈر ہلاک 07 May, 2006 | انڈیا سرینگر میں کیبل ٹی وی دوبارہ بند12 May, 2006 | انڈیا گودھرا ریل گاڑی الزامات واپس؟20 June, 2005 | انڈیا مشرف کارروائی کریں: انڈیا12 July, 2006 | انڈیا دہشت گردی کے خلاف بھارت کا عزم20 September, 2005 | انڈیا دہشت گردی پر علماء کانفرنس18 August, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||