BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 September, 2006, 15:05 GMT 20:05 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہتھیار کی نہیں عقل کی ضرورت‘

 گجرات فسادات
گجرات فسادات کے بعد مرکزی حکومت انتخابات ہار گئی۔
ہندوستان میں دہشت گردی صرف کسی ایک علاقے تک محدود نہیں ہے۔ آسام، جنوبی ہندوستان، جھارکھنڈ اور کشمیر جیسی ریاستیں دہشت گردی سے نپٹ رہی ہیں۔

کشمیر میں حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہو چکے ہیں۔ کشمیر میں جب بھی کوئی دہشت گردانہ کارروائی ہوتی ہے تو سب سے پہلے کشمیریوں کا نام لیا جاتاہے۔
ممبئی میں حالیہ بم دھماکے میں بھی شک و شبہ کا پہلا شکار کشمیریوں کو بنایا گیا جو مسلمان بھی تھے۔

شدت پسند کشمیر کی آزادی یا جزوی خود مختاری کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے حصول کے لیئے وہ لوگ تشدد پر اتر آئے ہیں جس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے اور اسے دبانے کے لیئے تشدد کا ہی سہارا لیا جا رہا ہے اس سے بھی کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

میرے خیال میں جب تک آپس میں بیٹھ کر بات چیت نہیں کی جائے گي اس مسئلہ کا حل ممکن نہیں ہے۔معصوموں کو ہلاک کرنا غلط ہے ۔

لیکن اس وقت عوام یہ سمجھ چکی ہے کہ اس قسم کے حملہ کرنے والے دماغی طور پر بیمار ہیں۔ اور اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ دنوں بنارس میں ہونے والے بم دھماکے اگر دس بارہ برس پہلے ہوئے ہوتے تو اس کے رد عمل ميں ہزاروں مسلمانوں کو کاٹ کر پھینک دیا گیا ہوتا۔

اسی طرح سے ممبئی کی لوکل ٹرینوں ميں ہونے بم دھماکوں کے معاملے میں بھی مسلمانوں پر شبہ کیا جا رہا ہے اگر یہ واقعہ بھی آج سے دس بارہ برس پہلے ہوا ہوتا تو اب تک ہزاروں مسلمانوں کو کاٹ کر پھینک دیا گیا ہوتا۔

آخری مرتبہ گجرات میں سب سے زیادہ بےگناہ مسلمانوں کو مارا گیا۔ اس کے بعد سیاست دانوں کو لگتا تھا کہ اس سے انہیں سیاسی فائدہ حاصل ہوگا لیکن اس کا نتیجہ الٹا ہی نکلا۔ گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات کے بعد ہی مرکزی میں ان کی (بی جے پی) حکومت گرگئی۔

فی الوقت تو کانگریس کی حکومت میں اعلی سطح کے رہنماء نہرو خاندان کی سکیولر امیج کو قائم کرے ہوئے ہیں لیکن ایک بات جو میری سمجھ میں نہيں آتی ہے وہ یہ ہے کہ کانگریس کے دور اقتدار ميں ہی اقلیتوں پرمصیبتوں کا پہاڑ کیوں ٹوٹتا ہے۔

موجودہ حالات میں بھی ممبئی دھماکوں کے بعد وہاں کی اکثریت مسلمان مخالف نہیں ہے جبکہ حکومت نے مسلمانوں کو نشانہ بنا رکھا ہے اور وہ معصوموں کو پکڑ رہے ہے اور انہيں ذہنی طور پر اذیت دے جا رہی ہے۔

 میری سمجھ میں یہ نہیں آتا ہے جوحکومت اپنے آپ کو سکیولر ہونے کا دعویٰ کرتی ہے وہ اقلیتوں پر ظلم کیوں کر ہی ہے اور اپنا نشانہ کیوں بنائے ہوئے ہیں۔ایک بات ضرور ہے کہ نائن الیون کے بعد پوری دنیا میں مسلمانوں کی منفی شبیہ ابھر کر سامنے آئی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایران اور ملائشیا جیسے ممالک کوچھوڑ کر مسلمانوں کو جدید تعلیم فراہم کی جانی چاہئیے
میری سمجھ میں یہ نہیں آتا ہے جو سرکار اپنے آپ کو سکیولر ہونے کا دعویٰ کرتی ہے وہ اقلیتوں پر ظلم کیوں کر ہی ہے اور اپنا نشانہ کیوں بنائے ہوئے ہیں۔
ایک بات ضرور ہے کہ نائن الیون کے بعد پوری دنیا میں مسلمانوں کی منفی شبیہ ابھر کر سامنے آئی ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ایران اور ملائشیا جیسے ممالک کوچھوڑ کر مسلمانوں کو جدید تعلیم فراہم کی جانی چاہئیے اور اسی وجہ سے مسلمان کسی مسئلہ کے حل کےلیئے جذبات کا سہارا لیتے ہیں دماغ کا نہیں۔

ہمیں مسلمانوں کویہی پیغام دینا ہے کہ فی الوقت امریکہ کی جانب سے جو مہم چل رہی ہے اس کا جواب دینے کے لیئے عقل کی ضرورت ہے ہتھیار کی نہیں ہے۔
امریکہ کا مقابلہ عقل سے اس لیئے کیا جا سکتا ہے اس کا سب سے اچھا ثبوت یہ ہے کہ امریکہ نے دوسری عالمی جنگ میں جاپان کو تباہ کر دیا تھا لیکن جاپان نے خاموشی کی ساتھ سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبہ میں ترقی حاصل کی اور پچاس برس بعد وہ امریکہ کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔

امریکہ نے جاپان کو ایٹم بم کی مدد سے شکست دی تھی لیکن جاپان نےامریکہ کو عقل کی طاقت سے ہرا دیا۔

لیکن اس وقت مسلمان اسی دور سے گزر رہے ہیں جس سے ایک دور میں عیسائی گزر رہے تھے۔اس دور میں عیسائیوں پر جو مصیبتیں آ رہی تھی وہ چرچ کے ذریعے آ رہی تھی چرچ کے نمائندے زمانے کے تقاضوں کو سمجھ نہیں رہے تھے کیوں کہ انکی سوچ پچھڑی ہوئی تھی۔اور اس کی ایک بڑی قیمت عیسائیوں کوادا بھی کرنی پڑی تھی۔

اس وقت یہ دور مسلمانوں کا ہے اور اگر مذہبی رہنماء ممبر کے ذریعے یا مہراب کے ذریعے برادری کو یہ پیغام دیں کہ جدید تعلیم ہی سب سے زیادہ ضروری ہے اور تمام مسائل کے حل بات چیت کے ذریعے حل کیئے جا سکتے ہيں ہتھیاروں کے ذیعے نہیں اور اگر یہ بات مسلسل مسلمانوں کے کانوں تک پہنچائی جائے تو میں نہیں سمجھتا کہ مسلمانوں کی سوچ میں انقلاب نہ آجائے ۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد