سرینگر میں کیبل ٹی وی دوبارہ بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں شدت پسندوں کی جانب سے دھمکیاں ملنے پر کیبل آپریٹروں نے دارالحکومت سرینگر میں پھر سے نشریات معطل کردی ہیں۔ کیبل آپریٹروں نے جمعرات کی شام نشریات شروع کردی تھیں۔ ایک کیبل آپریٹر نے بی بی سی کو بتایا: ’ہم نے حزب المجاہدین، دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی اور حریت رہنما سید علی شاہ گیلانی کی یقین دہانی پر نشریات شروع کی تھیں۔‘ لیکن جمعہ کو چار شدت پسند تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں ملنے پر پھر سے کیبل آپریٹروں نے نشریات روک دیں۔ چاروں شدت پسند تنظیموں نے کیبل آپریٹروں پر خودکش حملے کی دھمکیاں دی تھیں۔ ان چاروں تنظیموں کے نام ہیں: المدینہ ریجیمنٹ، جیش محمد، البدر اور حرکت المجاہدین۔ ان شدت پسند تنظیموں کا کہنا ہے کہ کیبل ٹی وی کی وجہ سے معاشرے میں عریانیت پھیل رہی ہے۔ ان گروہوں نے دیگر چند شد پسند تنظیموں کے اس موقف کو مسترد کردیا ہے کہ کیبل ٹی وی پر اس طرح کی پابندی سے عوام کی توجہ کشمیر میں موجودہ سیکس سکینڈل سے ہٹ جائے گی۔ اس سیکس سکینڈل میں ریاست کے بڑے بڑے سیاست دان ملوث بتائے گئے ہیں۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران وادئ کشمیر میں عوام نے جسم فروشی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ جموں و کشمیر میں وزیراعلیٰ غلام نبی آزاد کی حکومت نے جسم فروشی کے اس معاملے کی تحقیقات مرکزی تحقیقاتی ادارے سی بی آئی یعنی سینٹرل بیورو آف اِنویسٹیگیشن کے حوالے کردی ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر میں ٹی وی کیبل سروس بند 10 May, 2006 | انڈیا جنسی سکینڈل پر ہڑتال جاری06 May, 2006 | انڈیا حزب کے موقف میں ’لچک‘30 March, 2006 | انڈیا ’تحریک‘ اور سرکاری ملازمین28 July, 2004 | انڈیا جہاد کونسل: مذاکرات کابائیکاٹ 01 June, 2005 | انڈیا ’تقسیم مذہبی بنیاد پر نہیں‘17 November, 2004 | انڈیا ’سرحدوں کے بنا کشمیر ممکن ہے‘30 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||