حزب کے موقف میں ’لچک‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کشمیر میں سرگرم تیرہ شدت پسندوں تنظیموں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین کا ایک بیان بھارت کے زیرانتظام کشمیر کے اخباروں میں شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ 'مذاکرات کی کامیابی کے تناسب سےمسلح جد و جہد میں خود بخود کمی آتی چلی جائیگی۔‘ سید صلاح الدین کے اس بیان کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں دانشوروں کے حلقوں میں بڑی اہمیت دی جارہی ہے۔ خبررساں ایجنسی کشمیر نیوز سروس یعنی کے این ایس کو دیے گئے اس انٹرویو میں صلاح الدین کا کہنا ہے: ’مذاکرات کے لیے فائربندی لازمی شرط نہیں ہونی چاہیے اور عسکری قیادت سیاسی اور سفارتی محاظوں پر اپنا رول ادا کرنے کا پہلے ارادہ کرچکی ہے۔‘ انہوں نے کہا: ’اوورگراؤنڈ پر ہم اس وقت آجائیں گے جب ہم یہ محسوس کریں گے کہ موجودہ مذاکرات فائربندی کی شرط کے بغیر آگے بڑھ رہے ہیں۔‘
حزب کمانڈر کے اس بیان پر کشمیر یونیورسٹی کے شعبۂ قانون کے استاد اور بین الاقوامی قانون کے ماہر شیخ شوکت حسین کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جس طرح بھارت کی حکومت اپنے موقف پر بضد ہے ٹھیک اسی طرح حزب المجاہدین اپنے موقف پر قائم رہنے کی بات کر رہی ہے۔ بی بی سی سے بات چیت کے دوران شوکت حسین نے کہا کہ کشمیر میں سرگرم عسکری تنظیم اس بیان سے اپنے آپ کو حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑئے سے دور رکھنا چاہتی ہے۔ ’میر واعظ کی قیادت میں حریت کے دھڑے نے دونوں ملکوں سے مسئلہ کشمیر پر بات چیت کی ہے لیکن اس سلسلے میں بنیادی سطح پر کام نہیں کیا گیا تھا اسی لیے موجودہ مذاکرات بے معنی ثابت ہورہے ہیں اور اسی سبب سے حزب بھی مسلح جد وجہد جاری رکھنے کی بات کر رہی ہے۔‘ کشمیر کے ایک معروف طنز نگار اور شاعر ظریف احمد ظریف کے مطابق بھارتی حکومت کو حزب المجاہدین کے تازہ بیان کا فائدہ اٹھاکر اپنے موقف میں لچک پیدا کرنی چاہیے۔ ’اگر حزب جیسی عسکری تنظیم مذاکراتی عمل کی بات کر رہی ہے تو بھارتی حکومت کو اس کا فائدہ اٹھاکر اپنے بنیادی موقف میں لچک لانی چاہیے کیونکہ اس موقع کا فائدہ اٹھانے میں ہی ہم سب کی بہتری ہے۔‘ سرکردہ صحافی سید سرور کاشانی کا خیال ہے کہ سید صلاح الدین کا تازہ ترین بیان حزب کے موقف میں نرمی کا اشارہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ وہ بھی اس سلسلے میں پہل کرے۔ سید صلاح الدین کا یہ بیان میر واعظ عمر فاروق کے اس اپیل کے بعد آيا ہے جس میں انہوں نے بھارتی حکومت سے کہا تھا کہ وہ اپنی طرف سے یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کرے جس کے بعد حریت اپنا اثر رسوخ استعمال کر کے عسکریت پسندوں کو جنگ بندی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرےگی۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوشاں نوبل انعام یافتہ غیر سرکاری تنظیم پگواش بھی اس بات پرزور دے رہی ہے کہ بات چیت کے عمل میں عسکری تنظیموں کو بھی شامل کیا جائے۔ | اسی بارے میں ’کشمیریوں کی رائے کو اہمیت دیں‘12 March, 2006 | پاکستان کشمیری رہنماؤں کی پہلی ملاقات12 December, 2004 | آس پاس کشمیر: کٹھمنڈو میں بات چیت27 November, 2004 | آس پاس کشمیر: کٹھمنڈو میں بات چیت27 November, 2004 | انڈیا خودمختاری آئین کے اندر ہی: منموہن 25 February, 2006 | انڈیا باپ بیٹی کی سولہ برس بعد ملاقات28 February, 2006 | پاکستان مشرف: کشمیر پر بات کریں گے10 April, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||