جنسی سکینڈل پر ہڑتال جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیرِانتظام کشمیر میں جنسی سکینڈل کے خلاف ہفتے کو بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیئے لاٹھی چارج کیا اور اشک آورگیس استعمال کی۔ ان واقعات میں کشمیر یونیورسٹی کے بعض طلباء زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ہفتے کو سری نگر میں جنسی سکینڈل کے خلاف مظاہروں کے دوران سینکڑوں طلباء نے پولیس کے خلاف نعرے بازی کی اور ’نظامِ مصطفٰی‘ یعنی اسلامی نظام کی حمایت میں نعرے بلند کیئے۔ جمعہ کو اس سلسلے میں ہڑتال کے پہلے دن مظاہرین نے اس معاملے کی مبینہ ملزمہ کے مکان پر توڑ پھوڑ کی تھی جس پر پولیس نے ہوائی فائرنگ بھی کی تھی۔ یاد رہے کہ چند روز قبل سری نگر میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مبینہ طور پر ایک خاتون جسم فروشی کا کاروبار چلا رہی ہیں اور اس معاملے میں مبینہ طور پر بعض اعلٰی سینئر اہلکاروں سمیت با رسوخ افراد بھی ملوث ہیں۔ اس سلسلےمیں مذکورہ خاتون سمیت بعض لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ریاستی حکومت نے تفتیش کے لیے اس معاملے کو مرکزی تفتیشی بیورو کے حوالے کر دیا ہے۔ سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کا کہنا ہے کہ عوام کو یہ شکایت ہے کہ اس سلسلے میں جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ رکشہ یا ٹرک ڈرائیور ہیں اور سکینڈل میں ملوث با اثر لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ چند ماہ قبل ریاست میں دختران ملّت نامی خواتین کی ایک تنظیم نے جسم فروشی اور شراب نوشی کے خلاف تحریک چلائی تھی جس کے دوران تنظیم کی کارکنان نے مےخانوں اور قحبہ خانوں کا گھیراؤ بھی کیا تھا۔ | اسی بارے میں کشمیر میں جنسی سکینڈل پر ہڑتال05 May, 2006 | انڈیا ہندوؤں کے قتل پر جموں میں ہڑتال02 May, 2006 | انڈیا بھارتی زیرِانتظام کشمیرمیں ہڑتال08 August, 2005 | انڈیا پلوامہ دھماکہ، کشمیرمیں ہڑتال14 June, 2005 | انڈیا گیلانی پر حملے کے خلاف ہڑتال12 February, 2005 | انڈیا کشمیر میں زبردست احتجاج08 November, 2004 | انڈیا کشمیر: بھارتی فوج ، ہڑتال و مظاہرے27 October, 2004 | انڈیا یوم آزادی: اٹھارہ ہلاک، چودہ زخمی15 August, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||