پلوامہ دھماکہ، کشمیرمیں ہڑتال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے پلوامہ قصبے میں پیر کے روز ہونے والے بم دھماکے کے خلاف احتجاج میں آج ہڑتال منائی گئی ۔ اس بم دھماکے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے ۔ یہ دھماکہ ایک سرکاری اسکول کے باہر ہوا تھا اور اس میں گیارہ شہری اور تین پولیس اہلکار مارے گئے۔ ہڑتال کی کال حریت کے سخت گیر دھڑے نے دی تھی جس کی قیادت سید علی شاہ گیلانی کر رہے ہیں۔ عکسریت پسندوں کے اتحاد متحدہ جہاد کونسل نے اس ہڑتال کی حمایت کی تھی۔ کونسل کے سربراہ نے الزام لگایا ہے کہ اس بم دھماکے کے پیچھے ہندوستانی حکام کا ہاتھ تھا۔ کشمیر کے انسپکٹر جنرل آف پولیس جاوید محزومی نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور کہا کہ شدت پسندوں نے یہ بم ایک کار میں نصب کیا تھا۔ ہڑتال کے دوران سرحدی قصبے کپواڑہ کو چھوڑ کر وادی کے سبھی علاقوں میں دکانیں بند رہیں۔ ہڑتال کا اثر ٹریفک پر بھی پڑا ہے۔ کشمیری رہنماؤں سید علی شاہ گیلانی ، شبیر شاہ ، جاوید میر اور آسیر اندرابی نے دن میں پلوامہ کی طرف جانے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے انہیں راستے میں حراست میں لے لیا ۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||