کشمیر: دھماکہ میں 14 ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے پلوامہ علاقے میں ایک دھماکے میں کم سے کم 14افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق یہ دھماکہ ایک سرکاری ہائی سکول کے باہر ہوا۔ یہ دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا ہے جب پاکستان نے یہ امید ظاہر کی ہے کہ کشمیر کا مسئلہ جلد حل کیا جا سکتا ہے۔ کشمیر میں کئی شدت پسند تنظیمیں برسر پیکار ہیں اور ابھی تک واضح نہیں ہے کہ دھماکہ کس تنظیم نے کیا۔ حکام نے واقعہ کے بارے میں کار بم حملے کے شبہ کا اظہار کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ دھماکہ خیز سامان سکول کے سامنے کھڑی ہوئی ایک گاڑی میں رکھا گیا تھا کیونکہ موقع سے گاڑی کے ٹکڑے ملے ہیں۔ ذھماکے میں زخمی ہونے والوں میں سکول کے کئی بچے بھی شامل ہیں جنہیں مقامی ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے۔ اسکول میں پڑھانے والے ایک استاد کا کہنا تھا کہ اس دھماکے سے اسکول کی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم غلام محمد نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ تمام مقامی لوگ اپنے گھروں سے باہر آگئے۔ ’میں نے دیکھا کہ لوگ زمین پر لیٹے ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی کے زخموں سے خون بہہ رہا ہے۔‘ موقع پر موجود ایک پولیس اہلکار نے امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ دھماکے میں ایک مشتبہ شدت پسند بھی ہلاک ہوا۔ ’حملہ آور تعمیراتی سامان اور بارودی مواد سے بھرے ایک ٹرک پر سوار تھا۔‘ دیگر رپورٹوں میں بتایا گیا کہ بم کو ایک کار میں رکھا گیا تھا۔ دھماکے کے بعد مقامی آبادی میں غم و غصے کی ایک لہر دوڑ گئی اور بڑی تعداد میں لوگ حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔ پولیس نے مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے گولی چلائی جس سے اطلاعات کے مطابق تین مظاہرین زخمی ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعدا میں اضافہ ہو سکتا ہےکیونکہ زخمیوں میں کچھ کی حالت نازک بتائی جارہی ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے کہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک سکول کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||