BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 May, 2006, 14:20 GMT 19:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر میں جنسی سکینڈل پر ہڑتال
ہڑتال
ہڑتال کے نتیجے میں تمام تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔
انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک جنسی سکینڈل کے خلاف ہڑتال سے عام زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

چند روز قبل سری نگر میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مبینہ طور پر ایک خاتون جسم فروشی کا کاروبار چلا رہی ہیں اور اس معاملے میں مبینہ طور پر بعض اعلٰی سینئر اہلکاروں سمیت با رسوخ افراد بھی ملوث تھے۔

اس سلسلےمیں مذکورہ خاتون سمیت بعض لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور ریاستی حکومت نے تفتیش کے لیے اس معاملے کو مرکزی تفتیشی بیورو کے حوالے کر دیا ہے۔

عوام میں اس جنسی سکینڈل کے خلاف غم وغصہ بڑھتا جا رہا ہے اور اسی سلسلے میں ہڑتال کا اعلان علیحدگی پسند رہنماؤں سمیت کئی تنظیموں نے کیا تھا۔ ہڑتال کے نتیجے میں وادی میں دکانیں، سکول اور کالج بند رہے اور تمام تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔

سری نگر میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے بھی کیئے۔ مظاہرین اس سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کا کہنا ہے کہ عوام کو یہ شکایت ہے کہ اس سلسلے میں جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے وہ رکشہ یا ٹرک ڈرائیور ہیں اور سکینڈل میں ملوث با اثر لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

ہڑتال کے دوران مظاہرین نے اس معاملے کی مبینہ ملزمہ کے مکان پر توڑ پھوڑ کرنے کی کوشش کی جنہیں منتشر کرنے کے لیئے پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ کئی مقامات پر مظاہرین پر قابو پانے کے لیئے پولیس نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

گزشتہ ماہ کے اواخر میں جموں کشمیر پولیس کو دو کم عمر لڑکیوں کی جنسی فلم کی ایک سی ڈی ہاتھ لگی تھی۔ تفتیش کے دوران ان لڑکیوں نے بتایا تھا تھا کہ ان کے علاوہ تقریباً چالیس دیگر لڑکیوں کو بلیک میل کر کے جسم فروشی کے لیئے مجبور کیا جا رہا ہے۔ ان لڑکیوں نے پولیس کو بتایا تھا کہ جسم فروشی کے اس دھندے میں مبینہ طور پر دو ریاستی وزیر اور بعض سینئر افسر بھی ملوث ہیں۔

چند ماہ قبل ریاست میں دختران ملّت نامی خواتین کی ایک تنظیم نے جسم فروشی اور شراب نوشی کے خلاف تحریک چلائی تھی جس کے دوران تنظیم کی کارکنان نے مےخانوں اور قحبہ خانوں کا گھیراؤ بھی کیا تھا۔

اسی بارے میں
کشمیر میں زبردست احتجاج
08 November, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد