کشمیر میں ٹی وی کیبل سروس بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ٹیلی ویژن کیبل آپریٹرز نے مبینہ طور پر انتہا پسندوں کی دھمکی کے بعد غیر معینہ مدت کے لیے پروگرام بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے بعض پروگرامز کو غیر شائستہ بتایا ہے اور انہیں دس روز کے اندر بند کرنےکی وارننگ دی ہے۔ کیبل آّپریٹرز کا کہنا ہے کہ بعض پروگرامز کو فحاشی بتاکر انہیں نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ لیکن وادی کی اہم انتہا پسند تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ سب جنسی اسکینڈل سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا جارہا ہے۔ سری نگر میں کیبل آپریٹنگ کمپنی کے ایک مالک نے بتایا ہے کہ انتہا پسندوں نے اسکے مختلف دفتروں میں یہ شکایت کی ہے کہ کیبل کے ذریعے فحش پروگرام پیش کیے جارہے ہیں جنہیں فوراً بند کردیا جائے۔ ایک آپریٹر احمد امجد کا کہنا تھا کہ پولیس انہیں صحیح طریقے سیکیورٹی نہیں دے رہی ہے۔ سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار الطاف حسین کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا اثر یہ ہوا ہے کہ نیوز چینل ، فلم اور ڈکیومنٹری سمیت تمام ٹی وی پروگرام غائب ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق المدینہ نامی ایک انتہا پسند تنظیم نے دھمکی دی تھی کہ اگر پروگرام نہیں بند کیے گیے تو ’سنگین نتائج‘ بھگتنے ہونگے۔ لیکن حزب المجاہدین نے ایسی کسی بھی دھمکی سے انکار کیا ہے۔ حزب کی طرف سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکام نے یہ قدم سیکس اسکینڈل سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لیے اٹھایا ہے۔ گزشتہ دنوں سری نگر میں جسم فروشی کے ایک اسکینڈل کا پتہ چلا تھا جس کے خلاف لوگوں میں شدید غم و غصہ ہے۔ اسکے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں اور بدھ کے روز بھی سری نگر کے وکلاء نے سیکس اسکینڈل کے خلاف ایک روزہ ہڑتال کی ہے۔ اس اسکینڈل میں مبینہ طور پر بعض ریاستی وزراء سمیت کئی سینئر افسران بھی ملوث ہیں۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں بااثر لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہے اور وہ ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں فیشن تنازعہ، دوبارہ تحقیقات کا حکم05 April, 2006 | انڈیا دوردرشن میچ دکھائےگا30 January, 2006 | انڈیا بش ریلی، مادھوری، امرسنگھ اور جسیکا26 February, 2006 | انڈیا نیپکن کا تکیہ اور بھارتیوں کیلیے ویاگرا اور بالغ فلمیں 25 December, 2005 | انڈیا بھارت میں ڈزنی کی نشریات کا آغاز17 December, 2004 | انڈیا انڈمان نکوبار میں میڈیا کو وارننگ09 January, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||