امی میرا نام تبدیل کردو: اسامہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
زینب خان راجستھان سے دلی آئی تھیں اور ہوسٹل نہ ملنے کی وجہ سے دلی کے ایک فیشن ایبل علاقے نیو فرینڈس کالونی میں کرائے پرگھر ڈھونڈ رہی تھیں۔ دو چار دن دھکے کھانے کے بعد انہیں گھر مل گیا۔ وہ بہت خوش ہوکر اسی دن ایڈوانس بھی دے آئیں۔ گھر آکر پیکنگ شروع کی اور دو دن بعد اپنے سامان کو بڑے کارٹن میں بھر کر نئے گھر کا رخ کیا۔ گھر کے گیٹ پر جیسے ہی پہنچیں مکان مالک مل گئے۔ مکان مالک نے ان سے دبے لفظوں میں کہا کہ’ آپ سامان لیکر آگئیں؟، لیکن گھر تو ہم نے کسی اور کو دے دیا‘۔ زینب نے کہا لیکن میں نے تو آپ کو ایڈوانس بھی دے دیا ہے۔’ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم نے گھر کسی اور کو دے دیا۔ آپ اپنا ایڈوانس لے لیجیے‘۔ زینب سمجھ میں اب بھی کچھ نہیں آیا۔ مکان مالک پیسے ان کے ہاتھ میں تھما کر وہاں سے چل دیے۔ پیچھے کھڑی مکان مالک کی بیوی نے زینب کو جو بتایا وہ ان کے لیئے تکلیف دہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ’ آپ برا مت ماننا لیکن میڈم ہم مسلمانوں کو گھر کرائے پر نہیں دیتے‘۔ مسلمانوں کے حالات اس طرح کب ہوئے اور کیسے ان کے بارے میں ایک منفی راۓ بنتی گئی اور مسلمانوں کا ’مسلمان‘ ہونا کس طرح پیچیدگیوں کا سبب بن گیا۔ ممبئی کے میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ناہیدہ نے بتایا کہ’ہم پانچ دوست ہیں اور پانچوں روز لوکل ٹرینز سے کالج جاتے ہیں۔ میری تین دوست نقاب پہنتی ہیں۔ جولائی ممبئی بم دھماکوں کے کچھ دن بعد کی بات ہے کہ ہم لوگ ٹرین کا انتظار کر رہے تھے تب ایک لڑکے نے کہا کہ’بھاگو ابھی بم پھٹےگا۔ وہ ہمیں برقعہ پہنے دیکھ کر ایسا کہہ رہے تھے‘۔
مسلم اور غیر مسلم کے درمیان خلیج اتنی بڑھ گئی ہے کہ بعض غیر مسلم افراد مسلم علاقوں میں جاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ ٹینا داس کلکتہ سے دلی پڑھنے آئی ہیں اور جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ایم کام کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’میرے دوست اکثر کھانا کھانے کے لیئے جامعہ کے نزدیک ایک مسلم علاقے ذاکر نگر جاتے ہیں لیکن میں وہاں جانے سے ہمیشہ بچتی ہوں کیونکہ اتنے سارے ٹوپی والے دیکھ کر مجھے ڈر لگتا ہے‘۔ اب کی گرمیوں کی چھٹیوں میں میری خالہ زاد بہن ہمارے گھر آئی تھیں۔ ان کا بڑا بیٹا سکول میں ہے اور وہ اپنی والدہ سے ایک ضد کر رہا ہے جس کو میری خالہ ماننے کے لیئے تیار نہیں اور اس کی ضد پرذرا فکر مندی بھی ہے۔ اسامہ کی ضد ہے اس کے والدین اس کا نا م تبدیل کر دیں۔ اسامہ کا کہنا تھا کہ’اماں میں بڑا ہوکر پڑھنے کے لیئے امریکہ جانا چاہتا ہوں اور اگر میرا نام اسامہ رہا تو مجھے کبھی ویزا نہیں ملے گا‘۔ اس کی ضد مسلمانوں کی حالت بیان کرتی ہے۔ ایسے نام کی وجہ سے لوگوں کو گھر، ویزا، بینک کا قرضہ اور نوکری حاصل کرنے میں پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو اس قسم کے واقعات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کبھی کبھی ان میں سے بعض واقعات میڈیا میں بھی آجاتے ہیں۔ مسلمانوں کے آج جو حالات ہیں وہ ایک یہ دو دن کی بات نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک لمبی تاریخ ہے جس نے مسلمانوں کی ایک منفی شبیہ تخلیق کرنے میں مدد کی ہے۔ ہندوستان کی تاریخ میں کچھ ایسے اہم واقعات ہوئےہیں جن سے مسلمانوں کے آج کے حالات سمجھنے میں آسانی ہوجاتی ہے۔ 1947 میں ہندوستان تقسیم ہوا۔ ملک کے دو حصے ہوگئے۔ پاکستان بنا۔ مذہبی بنیادوں پر ملک کی تقسیم کے سبب بڑی تعداد میں لوگوں کو نہ صرف اپنا ملک چھوڑنا پڑا بلکہ اس وجہ سے مسلمانوں اور ہندوؤں کے رشتوں میں ایک ایسی خلیج پیدا ہوگئی جسے آج تک پر نہیں کیا جاسکا ہے۔ تقسیم کے بعد کشمیر میں علیحٰدگی پسند تحریک اور شدت پسندی کے واقعات، انیس سو بانوے میں بابری مسجد کا انہدام اور 2002 کےگجرات فسادات ایسے ہی اہم واقعات ہیں جنہوں نے ہندوستان میں ہندو مسلم رشتوں میں مزید تلخی پیدا کی ہے۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کے حالات کو امریکہ میں 11 ستمبر 2001 میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعے نے سب سے زیادہ متاثر کیا ہے۔ اس واقعے کے بعد مسلمان اور ’دہشت گردی‘ لازم وملزوم بن گئے۔مسلمانوں کی اس شبیہ کو حقیقت بنانے میں میڈیا کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہے۔ پروفیسر یوگیندر سکند کا خیال ہے کہ’ہندوستان کا انگریزی میڈیا امیر اور اونچی ذات کے افراد چلاتے ہیں اور ان کا مسلمانوں اور ديگر پسماندہ طبقوں کے بارے ایک متعصبانہ رویہ ہے۔ مسلمانوں کے بارے میں کسی اخبار میں اس وقت ہی کچھ چھپتا ہے جب کوئی تنازعہ ہو‘۔ مسلمانوں کے بارے میں کبھی کوئی مثبت خبر نہیں آتی ہے۔ انڈین میڈیا کے لیئےمسلمان آدمی وہ ہے جو داڑھی اور کرتا پاجامہ پہنتا ہو اور عورتیں برقعے میں ہوں۔
آج حالات ایسے ہیں کہ دلی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں میں بھی مسلمانوں کو ان کے لباس، داڑھی اور ٹوپی پہننے کے علاوہ ان کا مسلمان نام ہونا بھی اکثر دشواری کا سبب بن جاتا ہے۔ موجودہ حالات میں بہت سے مسلمان نہ چاہتے ہوئے بھی دلی جیسے شہر میں ’گھیٹوز‘ میں رہ رہے ہیں۔ حال میں ایمسٹرڈم سے آنے والے ایک امریکی طیارے میں سوار ممبئی کے تاجروں کو صرف شبہ کی بنیاد پر حراست میں رکھا گیا۔ گزشتہ دنوں حیدرآباد میں ایک طالب علم پر یہ الزام لگایا گیا کہ اس کے شدت پسندوں کے ساتھ رابطے ہیں اور اسی بنیاد پر اس کا امریکہ کا ویزا کینسل کردیا گیا اور پانچ دن تک اس سے تفتیش کی گئی۔ ان دونوں واقعات سے ایک ہی بات واضح ہوتی ہے کہ مسلمان کا ’شدت پسند ہونا‘ یا ان سے کوئی تعلق ہونے سے زیادہ ’مسلمان‘ ہونا شبے کا سبب تھا۔ |
اسی بارے میں مسلمان آبادی میں اضافہ، ہندو احتجاج 16 January, 2005 | انڈیا مسلمانوں کو ختم کرنے کا حکم تھا‘ 14 April, 2005 | انڈیا خوف میں گھِرے ایودھیا کے مسلمان 03 August, 2005 | انڈیا ’مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے‘18 August, 2006 | انڈیا ’مسلمانوں کے درد کو سمجھتا ہوں‘22 August, 2006 | انڈیا ’مسلمان گجرات سے سبق سیکھیں‘30 August, 2006 | انڈیا فوج میں مسلمانوں کے سروے پر تنازعہ 13 February, 2006 | انڈیا بھارتی مسلمان: ماڈل نکاح نامہ 01 May, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||