’مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں ایک سابق جج ہوسبیٹ سریش نے الزام عائد کیا ہے کہ بم دھماکوں کی تفتیش کے نام پر شہر میں مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ جسٹس سریش اور ایڈوکیٹ سعید اختر پر مشتمل ایک وفد نے جمعرات کی شام ریاستی اقلیتی کمیشن کے سربراہ نسیم صدیقی سے ملاقات کی اور انہیں شہر میں مسلمانوں کی صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔ وفد نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ پولیس تفتیش کے نام پر مسلمانوں کو پولیس سٹیشن بلا لیتی ہے اور پھر انہیں بغیر کسی وجہ کے ہفتوں مبینہ طور پر حراست میں رکھا جاتا ہے۔ وکیل سعید اختر نے ایک ڈاکٹر سمیت چار افراد کے بارے میں کمیشن کو بتایا کہ انہیں پولیس نے مبینہ طور پر سٹیشن بلا کر بے عزت کیا اور کئی دنوں تک حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔ انہوں نے کمیشن کو آگاہ کیا کہ کئی کیسوں میں تو پولیس محض داڑھی رکھنے والے شخص کو بھی شبہ پر اٹھا کر لے گئی۔ جسٹس سریش نے اس سلسلہ میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورت حال انیس سو ترانوے کے بم دھماکوں کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ ’اس وقت بھی یہی حالات تھے‘۔ جسٹس سریش کے مطابق قانون کی رو سے پولیس کسی فرد کو صرف دو وجوہات سے پولیس سٹیشن طلب کر سکتی ہے۔ وہ یا تو مشتبہ فرد ہو یا کوئی گواہ۔ لیکن دونوں صورتوں میں پولیس کے پاس ثبوت ہونا لازمی ہے۔ اگر پولیس تفتیش کے لیئے طلب کرتی بھی ہے تو اسے چوبیس گھنٹوں سے زیادہ حراست میں رکھنے کا حکم نہیں ہے۔ جسٹس سریش کا کہنا ہے کہ پولیس اس وقت قانون کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور اسی لیئے انہوں نے اقلیتی کمیشن کو ایک ’میمورنڈم‘ پیش کیا ہے جس میں انہوں نے وکلاء کے قانونی پینل بنائے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پینل کسی بھی فرد کو پولیس کی جانب سے حراست میں لیئے جانے کی تفتیش کر سکتا ہے اور پولیس سے جواب طلبی ہو سکتی ہے کہ اس شخص کو پولس نے کس الزام میں حراست میں لیا ہے ۔ وکیل سعید اختر کا کہنا ہے کہ جب سے ٹرین دھماکے ہوئے ہیں تب سے اب تک پولیس نے سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا ہے اور کئی کو مبینہ طور پر ہفتوں بلا کسی وجہ حراست میں رکھا گیاہے۔ سعید اختر کا کہنا تھا کہ ان میں ایسے بھی کئی مسلمان تھے جن کے پاس سے مذہبی کتابیں ملیں یا جو انیس سو ساٹھ میں سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا یعنی ’سِمی‘ سے منسلک تھے۔ مسٹر اختر کے مطابق پولیس نے تین سال پہلے جب سِمی پر پابندی عائد کی تھی اس کے بعد اگر کوئی شخص سمی کی سرگرمیوں میں ملوث ہو تب اسے پولیس گرفتار کر سکتی ہے لیکن پولیس مبینہ طور پر پرانے سِمی رضاکاروں کو بھی پریشان کر رہی ہے۔ اختر نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس کہیں کسی فرد کے خلاف بلا کسی ثبوت کے کسی تنظیم کے رکن ہونے کی بناء پر مقدمہ نہ بنا دے۔ جمعیت العلماء کے جنرل سکریٹری مولانا مستقیم اعظمی کا کہنا تھا کہ وہ بے گناہ مسلمانوں کو ہراساں کرنے کی شکایت لے کر پولیس کمشنر سے مل چکے ہیں اور انہوں نے یقین دلایا تھا کہ کسی بے گناہ کو ہراساں نہیں کیا جائے گا لیکن یہ عمل جاری ہے اور اس لیئے اب انہوں نے حکومت سے اس میں مداخلت کی اپیل کی ہے۔ اقلیتی کمیشن کے سربراہ نسیم صدیقی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان سے وکلاء پر مشتمل وفد کے علاوہ جمعیت العلماء کے وفد نے بھی ملاقات کی تھی۔ وکلاء کے پینل بنائے جانے کے مطالبہ کو انہوں نے ایک اچھی تجویز قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں انہوں نے ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل سے ملاقات کی ہے اورانہوں نے یقین دلایا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں وزیر اعلیٰ ولاس راؤ دیشمکھ سے مل کر اس تجویز پر غور کریں گے۔ گیارہ جولائی کو ممبئی ٹرین بم دھماکے ہوئے تھے لیکن انسداد دہشت گردی عملہ ابھی تک اس کیس کو حل کرنے میں ناکام ہے پولیس نے حالانکہ اس سلسلہ میں کئی گرفتاریاں کی ہیں لیکن کسی کا بھی براہ راست ان دھماکوں سے تعلق ثابت نہیں ہو سکا ہے۔ | اسی بارے میں انڈیا: یومِ آزادی، حملوں کا خطرہ 12 August, 2006 | انڈیا 1993 ممبئی دھماکے: فیصلہ مؤخر10 August, 2006 | انڈیا ٹرین دھماکے، تین افرادگرفتار21 July, 2006 | انڈیا ٹرین دھماکے: ممبئی سے ڈاکٹر گرفتار 24 July, 2006 | انڈیا ٹرین دھماکے: تین ملزمان گرفتار 21 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||