1993 ممبئی دھماکے: فیصلہ مؤخر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں سن انیس ترانوے میں ہونے والے بم دھماکوں کے مقدمے کا فیصلہ بارہ ستمبر تک کے لیئے مؤخر کردیا گیا ہے۔ اس مقدمے کا فیصلہ دس اگست کو آنے والا تھا لیکن خصوصی ٹاڈا عدالت نے بارہ ستمبر کو فیصلہ سنانے کی تاریخ مقرر کی ہے۔ جج پرمود کوڈے نے دونوں فریقین کی دلیلیں سننے کے بعد کہا ہے کہ آج سے بم دھماکوں کے فیصلے کی کارروائی شروع کی جارہی ہے لیکن اس میں کچھ وقت درکار ہے اس لیے عدالت بارہ ستمبر تک اپنا فیصلہ سنائے گی۔ جج نے تمام ملزمان کو ایک بار پھر بارہ ستمبر کو عدالت میں حاضر رہنے کے لیے کہا ہے۔ فلم سٹار سنجے دت سمیت بمبئی بم دھماکے کے ایک سو تیئس ملزمان عدالت میں موجود تھے۔ وکیل دفاع فرحانہ شاہ نے کارروائی شروع ہوتے ہی عدالت کو بتایا کہ ایک ملزم ابو سالم کا کیس ہائی کورٹ میں ہے اور عدالت نے اس کی سماعت کی تاریخ چودہ اگست دی ہے۔ فرحانہ کا کہنا تھا کہ اس کیس کا تعلق بھی اسی معاملے سے ہے اس لیے ان کی اپیل کا فیصلہ آنے تک اس فیصلے کو مؤخر کیا جائے لیکن سرکاری وکیل اجول نکم نے اس کی مخالفت کی تھی۔ اجول نے جواز دیا کہ مذکورہ عدالت نے اس عدالت کے فیصلہ پر کسی طرح کا اسٹے نہیں دیا ہے اس لیے فیصلہ مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ ممبئی کے جوائنٹ پولیس کمشنر اروپ پٹنائیک نے کہا کہ فیصلے کو بارہ ستمبر تک ملتوی کرنے کا مقصد شہر میں اس وقت امن و امان کی صوت حال کو برقرار رکھنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندؤوں کا تہوار گنپتی آرہا ہے اور اس کے بعد نوراتری ہے اس دوران پولیس کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔ ان کے مطابق بارہ ستمبر تک دونوں تہوار ختم ہو جائیں گے اور پولیس کو شہر میں حفاظتی انتظامات قائم کرنے میں کسی طرح کی دشواری نہیں آئے گی۔ سرکاری وکیل اجول نکم نے بتایا کہ عدالت کا فیصلہ کم سے کم ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ اس کیس کے اہم ملزمان ابھی بھی ملک سے باہر ہیں ان کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دیا جا سکتا لیکن جن ملزمان نے تفتیش کے دوران ان کے خلاف گواہی دی ہے وہ ان کی گرفتاری کے وقت بطور ثبوت استعمال کی جا سکتی۔ یہ مقدمہ آرتھر روڈ جیل میں چل رہا ہے جہاں بڑی تعداد میں پولس تعینات کی گئی تھی۔ جیل کے اطراف کا علاقہ پوری طح پولیس چھاؤنی میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ممبئی میں سن انیس سو ترانوے میں سلسلہ وار بارہ بم دھماکے ہوئے تھے جن میں 257 افراد ہلاک اور 713 زخمی ہوئے تھے۔ ستائیس کروڑ روپے کی املاک تباہ ہوگئیں تھیں۔ تیرہ برس تک چلنے والے اس مقدمے کے بارے میں وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ انڈیا کی تاریخ کا سب سے طویل مقدمہ ہے جس میں ایک سو تئیس ملزمان ہیں۔ ملک کی تاریخ کا یہ پہلا مقدمہ ہے جس میں پولیس اور سی بی آئی کی تفتیش کے مطابق پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئي کو مبینہ طور پر ملوث بتایا گیا۔ | اسی بارے میں ممبئی دھماکے:مقدمہ لڑنےسےانکار21 July, 2006 | انڈیا ممبئی میں دھماکے، 175 ہلاک11 July, 2006 | انڈیا ٹرین دھماکے: تین ملزمان گرفتار 21 July, 2006 | انڈیا دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے13 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ذرائع ابلاغ میں تذکرے13 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ذمہ دار کون؟12 July, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||