دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا میں حکومت نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ممبئی بم دھماکوں میں لشکر طیبہ یا سیمی (سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا) کا ہاتھ ہے۔ انسداد دہشت گردی عملہ کے سربراہ جوائنٹ پولیس کمشنر کے پی رگھوونشی نے جمعرات کے روز ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پولیس کے پاس اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں کہ بم دھماکوں میں لشکر طیبہ یا سیمی کا ہاتھ ہے۔ پولیس کمشنر نے کہا کہ البتہ اس بات ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ دھماکوں میں ممبئی کے مقامی افراد شامل تھے اور بم دھماکوں کے دو منٹ بعد ہی ماٹونگا اور بھئیندر سے افغانستان اور پاکستان فون کیئے گئے تھے۔ البتہ ممبئی کے اور سینئر پولیس افسر ڈی کے شنکرن نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کولشکر طیبہ کے ممبئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے کچھ اشارے ملے جن مزید تحقیق کی جا رہی ہے۔ پولیس افسر نے کہا کہ تین مشتبہ افراد کے سکیچ جاری کر دیئے گئے ہیں۔ ملک کے کئی پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر وزارت داخلہ کے دفتر سے منسوب اس طرح کی خبریں نشر کی جارہی تھیں کہ ممبئی دھماکوں میں ’سیمی‘ کی سازش ہے۔ بی بی سی نے وزارت داخلہ کے دفتر میں جب ان خبروں کے متعلق رابطہ کیا تو ایک افسر نے کہا کہ ’اس طرح کی خبریں غلط ہیں۔ ہمیں ابھی اس کے متعلق پختہ سراغ نہیں ملے ہیں اس لیے ہم کسی بھی شخص یا گروپ کی سازش کا نام کیسے لے سکتے ہیں۔‘ اے ٹی ایس یعنی اینٹی ٹیرورسٹ اسکواڈ کے چیف کے پی رگھونشی نے بتایا ہے کہ ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ ’بعض لوگوں کو صرف پوچھ گچھ کے لیے پکڑا گیا ہے لیکن ان دھماکوں کے سلسلے میں ابھی تک ایک بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔‘ اے ٹی ایس عملے نے بدھ کی رات سے اب تک کئی مقامات پر چھاپے مارے میں ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہیں کوئی پختہ ثبوت نہیں ملا ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ دھماکوں کی نوعیت سے شک و شبہ لشکر طیبہ پر جاتا ہے لیکن اس میں کئی اور نام بھی آرہے ہیں۔ ممبئی کے سینئر پولیس افسر جیۓ جیت سنگھ نے کہاکہ ’ہمیں بعض اشارے ملے ہیں اور ہم ان پر کام کرہے ہیں۔ ہم نے بسوں، ریلوں اور ہوٹلوں پر چھاپے مارے ہیں۔ ہمیں بعض جانکاریاں ہاتھ لگی ہیں لیکن اب تک پختہ کچھ بھی نہیں ہے۔‘ جیۓ جیت سنگھ کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں نے ٹرین میں بعض مشتبہ لوگوں کو دیکھا تھا جنکے بیانات کی بنیاد پر کئی خاکے تیار کیے جارہے ہیں۔ منگل کے روز ممبئی کے ریل نظام پر سات بم دھماکے ہوئے جن میں ہلاکتوں کی تعداد اب تک 300کے قریب بتائی گئی ہے جبکہ 750 افراد شہر کے مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔ حملوں کے پیچھے القاعدہ؟ لیکن جموں و کشمیر کے پولس چیف ایس ایم سہائے کے مطابق اب تک کی گئی تفتیش سے ریاست میں القاعدہ کی موجودگی کی کوئی تصدیق نہیں ہوتی ہے۔ لیکن انہوں نے پوری طرح سے اس شخص کے دعوی کو مسترد نہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اس معاملے کی تفتیش کرے گی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||