BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 July, 2006, 08:31 GMT 13:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکے: تحقیقات جاری ، ٹھوس ثبوت نہیں ملے

دھماکوں کے دوسرے روز ممبئی والے خون دینے کے لیے قطار میں ہیں

انڈیا میں حکومت نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ ممبئی بم دھماکوں میں لشکر طیبہ یا سیمی (سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا) کا ہاتھ ہے۔

انسداد دہشت گردی عملہ کے سربراہ جوائنٹ پولیس کمشنر کے پی رگھوونشی نے جمعرات کے روز ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ پولیس کے پاس اس بات کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں کہ بم دھماکوں میں لشکر طیبہ یا سیمی کا ہاتھ ہے۔

پولیس کمشنر نے کہا کہ البتہ اس بات ٹھوس ثبوت موجود ہیں کہ دھماکوں میں ممبئی کے مقامی افراد شامل تھے اور بم دھماکوں کے دو منٹ بعد ہی ماٹونگا اور بھئیندر سے افغانستان اور پاکستان فون کیئے گئے تھے۔

البتہ ممبئی کے اور سینئر پولیس افسر ڈی کے شنکرن نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کولشکر طیبہ کے ممبئی بم دھماکوں میں ملوث ہونے کے کچھ اشارے ملے جن مزید تحقیق کی جا رہی ہے۔

پولیس افسر نے کہا کہ تین مشتبہ افراد کے سکیچ جاری کر دیئے گئے ہیں۔

ملک کے کئی پرائیویٹ ٹی وی چینلز پر وزارت داخلہ کے دفتر سے منسوب اس طرح کی خبریں نشر کی جارہی تھیں کہ ممبئی دھماکوں میں ’سیمی‘ کی سازش ہے۔


بی بی سی نے وزارت داخلہ کے دفتر میں جب ان خبروں کے متعلق رابطہ کیا تو ایک افسر نے کہا کہ ’اس طرح کی خبریں غلط ہیں۔ ہمیں ابھی اس کے متعلق پختہ سراغ نہیں ملے ہیں اس لیے ہم کسی بھی شخص یا گروپ کی سازش کا نام کیسے لے سکتے ہیں۔‘
 ہمیں بعض اشارے ملے ہیں اور ہم ان پر کام کرہے ہیں۔ ہم نے بسوں، ریلوں اور ہوٹلوں پر چھاپے مارے ہیں۔ ہمیں بعض جانکاریاں ہاتھ لگی ہیں لیکن اب تک پختہ کچھ بھی نہیں ہے۔
سینئر پولیس افسر جیۓ جیت سنگھ
خبرساں ایجنسی پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ دھماکوں کے سلسلے میں پوچھ گچھ کے لیے 300 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے جس میں سے زیادہ تر سیمی کے کا رکن ہیں۔ ممبئی میں ہمارے نامہ نگار زبیر احمد کا کہنا ہے کہ زیرحراست افراد کی تعداد 300 سے زائد ہوسکتی ہے۔

اے ٹی ایس یعنی اینٹی ٹیرورسٹ اسکواڈ کے چیف کے پی رگھونشی نے بتایا ہے کہ ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔ ’بعض لوگوں کو صرف پوچھ گچھ کے لیے پکڑا گیا ہے لیکن ان دھماکوں کے سلسلے میں ابھی تک ایک بھی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ہے۔‘

اے ٹی ایس عملے نے بدھ کی رات سے اب تک کئی مقامات پر چھاپے مارے میں ہیں۔ لیکن ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک انہیں کوئی پختہ ثبوت نہیں ملا ہے۔ اسکا کہنا ہے کہ دھماکوں کی نوعیت سے شک و شبہ لشکر طیبہ پر جاتا ہے لیکن اس میں کئی اور نام بھی آرہے ہیں۔

ممبئی کے سینئر پولیس افسر جیۓ جیت سنگھ نے کہاکہ ’ہمیں بعض اشارے ملے ہیں اور ہم ان پر کام کرہے ہیں۔ ہم نے بسوں، ریلوں اور ہوٹلوں پر چھاپے مارے ہیں۔ ہمیں بعض جانکاریاں ہاتھ لگی ہیں لیکن اب تک پختہ کچھ بھی نہیں ہے۔‘ جیۓ جیت سنگھ کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگوں نے ٹرین میں بعض مشتبہ لوگوں کو دیکھا تھا جنکے بیانات کی بنیاد پر کئی خاکے تیار کیے جارہے ہیں۔

منگل کے روز ممبئی کے ریل نظام پر سات بم دھماکے ہوئے جن میں ہلاکتوں کی تعداد اب تک 300کے قریب بتائی گئی ہے جبکہ 750 افراد شہر کے مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

حملوں کے پیچھے القاعدہ؟
دریں اثناء ہندوستان کے زیر انتظام جموں کشمیر میں ایک نامعلوم شخص نے اپنے آپ کو القاعدہ کا نمائندہ قرار دیتے ہوئے ممبئی میں ہونے والے بم دھماکوں پر خوشی ظاہر کی ہے۔ اس شخص نے ریاست میں القاعدہ کی نئی شاخ کھولنے کا دعوی کرتے ہوئے ’ہندوستان کے مسلمانوں سے جہاد میں شامل ہونے‘ کو کہا۔

لیکن جموں و کشمیر کے پولس چیف ایس ایم سہائے کے مطابق اب تک کی گئی تفتیش سے ریاست میں القاعدہ کی موجودگی کی کوئی تصدیق نہیں ہوتی ہے۔ لیکن انہوں نے پوری طرح سے اس شخص کے دعوی کو مسترد نہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس اس معاملے کی تفتیش کرے گی۔

انڈیا میں دھماکے
انڈیا میں ہونیوالے بڑے دھماکوں کی فہرست
ممبئی میں تباہی
ٹرینوں پر بم دھماکے: خصوصی ضمیمہ
وجے مستریزخمی جسم ، بلند عزم
’ہم کیوں ڈریں موت تو وقت پر ہی آئے گی‘
ذمہ دار کون؟
ممبئی دھماکوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟
مسافرممبئی میں دوسرا دن
ممبئی بم دھماکے
تفتیش جاری ہے مگرابھی تک سراغ نہیں ملا انڈیا
ممبئی دھماکےآنکھوں دیکھی
’بنا کچھ سوچے سمجھے بھاگنے لگی‘
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد