’ٹرین پر سفر کرنا نہیں چھوڑیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جہاں ایک جانب ممبئی شہر منگل کے دھماکوں کے بعد واپس زندگی کی جانب لوٹ رہا ہے وہیں شہر کے ہسپتالوں میں ڈاکٹر اور نرسیں سات سو سے زائد زخمیوں کے علاج میں مصروف ہیں۔ زیادہ تر ہسپتالوں کے باہر ہلاک شدگان اور بچ جانے والے افراد کی فہرستیں آویزاں ہیں اور ہسپتالوں میں طبی عملہ نہ صرف سوختہ لاشوں کی شناخت کا کام کر رہا ہے بلکہ انہیں خون آلود زخمیوں کی تیمارداری کا فریضہ بھی سرانجام دینا پڑ رہا ہے۔ ممبئی شہر کے کل اکتیس ہسپتالوں میں اس وقت بم دھماکوں کے متاثرین کا علاج جاری ہے۔ زیادہ تر سرکاری ہسپتالوں میں اس ایمرجنسی سے نمٹنے کے لئیے نہ تو کافی عملہ ہے اور نہ ہی ادویات۔ ان ہسپتالوں میں علاج کا خرچہ نہ ہونے کے برابر ہے لیکن یہاں اتنی بڑی تعداد میں موجود زخمیوں کے علاج کے لیئے ساز و سامان بھی موجود نہیں ہے۔ دھماکوں کے ایک زخمی وجے مستری کا کہنا ہے کہ’دھماکے کے بعد مجھے دوسرے زخمیوں کے ہمراہ ایک رکشے میں ڈال کر ہسپتال لایا گیا۔ مجھے فکر نہیں کہ میں کب گھر جاؤں گا۔ میں تو بس خوش ہوں کہ ایک ایسے حادثے میں زندہ بچ گیا جس میں بہت سے دیگر لوگوں کی جانیں چلی گئیں‘۔
انیس سالہ محمد تنویر دھماکے چند لمحے قبل ہی بوگی سے اترے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ’ میری ٹانگ پر بہت گہری چوٹ لگی، میں گرا اور بےہوش ہوگیا۔ جب ہوش آیا تو ہرطرف لوگ مدد کے لیئے پکار رہے تھے۔ چند لوگوں نے مجھے رکشے میں ڈالا اور ایک نزدیکی ہسپتال لےگئے۔وہ ہسپتال بند تھا چنانچہ مجھے یہاں لایا گیا۔ میں خوش قسمت ہوں کہ زندہ بچ گیا لیکن میں خوفزدہ نہیں ہوں اور ٹرین پر سفر کرنا نہیں چھوڑوں گا کیونکہ موت تو اپنے وقت پر ہی آنی ہے‘۔ جے پرکاش گو راؤ جیسے لوگ وہ ہیں جو خود تو بچ گئے لیکن ان کے ساتھ کھڑے لوگ اب اس دنیا میں نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’میری تو صرف ٹانگ ہی ٹوٹی لیکن میرا دوست موقع پر ہی ہلاک ہوگیا۔ میں خود ہی ہمت کر کے ہسپتال پہنچا‘۔ | اسی بارے میں ’بنا کچھ سوچے سمجھے بھاگنے لگی‘12 July, 2006 | Poll ممبئی والوں نے کیا دیکھا11 July, 2006 | Poll آپ بیتی: ’گھنٹے کا سفر سات گھنٹوں میں‘11 July, 2006 | Poll | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||