| ممبئی کے ٹرین نیٹ ورک پر سات بم دھماکوں کے بعد شہریوں کے تاثرات |
میں کے ای ایم ہسپتال میں میڈیکل کا طالب علم ہوں۔ یہاں لوگوں کو لایا جا رہا ہے اور ہر طرف افراتفری کا عالم ہے۔ ٹرینیں رک چکی ہیں اور سب پیدل گھر جا رہے ہیں۔ مجھے لگتا ہے کہ ہلاکتیں بتائی جانے والی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ کچھ لندن کے دھماکوں جیسا ہے۔
ممبئی میں ہر جانب افراتفری ہے۔ میں اپنے تمام ملازمین کے لیئے بہت فکرمند ہوں کیونکہ ان میں سے زیادہ تر ٹرین پر سفر کرتے ہیں۔ تمام فون لائینیں جام ہیں اور کسی سے رابطہ کرنا ناممکن ہے۔ امدادی ایجنسیاں حالات سے نمٹنے میں ناکام ہیں۔
میری اپنے دوست سے ابھی بات ہوئی ہے۔ اس کا خاوند دھماکوں کے نتیجے میں صدمے کا شکار ہے۔ وہ اس ٹرین پر تھا جس کے فرسٹ کلاس ڈبے میں دھماکہ ہوا۔ اس نے ایک آگ کا گولہ دیکھا اور پھر دھواں ہی دھواں۔ لوگ چلتی ٹرین سے کود رہے تھے۔ جب وہ اترا تو اس نے پٹڑی پر لاشیں پڑی دیکھیں۔ وہ ایک کارگو وین سے لفٹ لے کر گھر پہنچا۔
تمام ٹیلیفون لائنیں بند ہیں اور لوگ اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کرنے میں ناکام ہیں۔ پولیس کو دھماکوں کے بعد موقع پر پہنچنے میں آدھا گھنٹہ لگا۔
میرے زیادہ تر دوست مغربی ممبئی کے ان علاقوں میں رہتے ہیں جو دھماکوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ تمام ٹیلیفون بند پڑے ہیں اور ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر بہت خوفناک ہیں۔ ایمبولینس تو جائے حادثہ پر آدھے گھنٹے بعد تک نہیں پہنچی تھیں۔
میں انڈیا میں چھٹیاں منا رہا ہوں اور اس ٹرین پر دھماکے سے ایک گھنٹہ قبل سوار تھا۔ یہاں ہر طرف افراتفری ہے۔ دھماکوں کی جگہ پر بہت سی لاشیں ہیں۔ کچھ لاشیں لوگ لے گئے ہیں جبکہ کچھ وہیں پڑی ہیں۔ یہاں بہت تیز بارش بھی ہو رہی ہے۔ | |  |