BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 July, 2006, 22:59 GMT 03:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آپ بیتی: ’گھنٹے کا سفر سات گھنٹوں میں‘


(رابعہ نازکی ممبئی کی ایک نجی کمپنی میں جنرل مینیجر پروگرامنگ ہیں اور میرا روڈ پر رہتی ہیں۔ انہوں نے ہمیں ممبئی کا یہ حال ہمیں سنایا۔)

میں چھ بجے میرا روڈ سے اندھیری ایک میٹنگ کے لیےگئی تھی۔ میرا روڈ سے اندھیری تک لگ بھگ آدمی ایک گھنٹے میں پہنچ جاتا ہے۔ سوا چھ کے آس پاس میں میٹنگ میں بیٹھی تھی اور ہم بات کررہے تھے، جب آفس میں کچھ عجیب سی کھلبلی سی مچ گئی۔

میرا اس کی وجہ سے دھیان بٹ رہا تھا تو میں نے کسی سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہم کے سٹیشن پر ایک بلاسٹ ہوا ہے۔ ہم ابھی اس بارے میں بات چیت کر ہی رہے تھے کہ فون بجنے شروع ہوگئے اور ایس ایم ایسز آنے لگیں۔ اطلاعات یہی تھیں کہ یہ صرف ماہم پر ہی نہیں ہوا بلکہ سارے سٹیشنز پر ہورہا ہے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے۔

میرا بچہ
 جب کسی نے میرا روڈ کا بھی ذکر کیا تو میں بالکل بلینک ہوگئی اور میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے۔ کسی نے کہا ’کیا ہوا آپ کو، آپ ٹھیک تو ہیں؟‘ میں نے کہا کہ میٹنگ ویٹنگ تو بالکل نہیں ہوگی، میرا بچہ میرا روڈ پر ہے اور مجھے اس کا کچھ کرنا ہے؟

سب لوگ انتہائی گھبرا گئے۔ میرا بارہ برس کا بیٹا ہے، قسمت، میں نے اسے ’کرش‘ فلم دیکھنے میرا روڈ پر بھیجا تھا۔ وہ وہیل چیئر میں ہوتا ہے۔ جب کسی نے میرا روڈ کا بھی ذکر کیا تو میں بالکل بلینک ہوگئی اور میرے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہوگئے۔ کسی نے کہا ’کیا ہوا آپ کو، آپ ٹھیک تو ہیں؟‘ میں نے کہا کہ میٹنگ ویٹنگ تو بالکل نہیں ہوگی، میرا بچہ میرا روڈ پر ہے اور مجھے اس کا کچھ کرنا ہے؟

پھر میرا روڈ پر میں نے اپنے دفتر فون کیا جہاں میں کام کرتی ہوں۔ میں نے ان کو بتایا۔ انہوں نے پتہ کیا کہ وہ کس تھییٹر میں ہے، وہاں سے پتہ لگایا، اسے پیغام پہنچایا، اسے گھر لے آئے۔ پھر انہوں نے مجھ سے کسی نہ کسی طرح رابطہ کیا، دس پندرہ ایس ایم ایس آیے کہ وہیں رہ جائیں، ہم سب سنبھال لیں گے۔ لیکن میری کوشش تھی کہ اب میں (خود) کسی طرح گھر پہنچ جاؤں۔ میرے باس اجے چوہان میرے بیٹے کے ساتھ ایک بجے تک بیٹھے رہے اور پھر وہ گھر گئے۔

مجھے لگا کہ میرا بیٹا محفوظ ہے، مجھے بس پہچنا ہے لیکن تب تک وہ محفوظ ہے۔

عجیب سی بات یہ تھی کہ لوگوں میں ایک گھبراہٹ تھی، پریشانی تھی لیکن لوگ بہت پیار اور ہمت کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ پیش آرہے تھے۔ میں نے دیکھا کہ سب لوگ اپنے جانکاروں کوجو اندھیری ایریا میں تھے، فون کرنا شروع کردیئے کہ ہمارے پاس گاڑی ہے، ہم یہاں ہیں اور ہم اس طرف جارہے ہیں اور ادھر سے جا رہے ہیں اور آپ اگر آنا چاہیں تو فلاں جگہ سے پک کرسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

میرے پاس بھی گاڑی نہیں تھی اور ٹرینز بند ہوچکی تھیں تو مجھے بھی ایک گروپ نے آفر کی اور میں ان کے ساتھ چلی آئی۔ ہم چار پانچ لوگ تھے، تو مجھے لگا کہ بہت زیادہ بھی ہوا تو دو گھنٹے تک پہنچ جائیں گے۔

گھنٹے کا سفر سات گھنٹوں میں
 ہم نے پونے سات بجے سفر شروع کیا اور اب پونے دو بجے (رات) میں گھر پہنچ پائی ہوں۔ راستے میں ٹریفک اتنا زیادہ تھا کہ صرف روشنیوں کا ایک جلوس سا لگ رہا تھا۔ کہیں پر راستہ دِکھ نہیں رہا تھا۔

ہم نے پونے سات بجے سفر شروع کیا اور اب پونے دو بجے (رات) میں گھر پہنچ پائی ہوں۔ راستے میں ٹریفک اتنا زیادہ تھا کہ صرف روشنیوں کا ایک جلوس سا لگ رہا تھا۔ کہیں پر راستہ دِکھ نہیں رہا تھا۔ حرکت بہت کم تھی لیکن اس میں ایک بڑی مثبت بات تھی کہ جو آس پاس کے فلیٹس وغیرہ تھے، وہاں سے کچھ لوگ پانی لے کر آرہے تھے، کچھ لوگ بسکٹ وغیرہ لے کر آرہے تھے، لوگوں سے پوچھ رہے تھے کہ کھانا چاہئے آپ کو، کچھ اور چاہئے، کوئی مسئلہ تو نہیں ہے؟

مجھے دوائی لینی ہوتی ہے جو عموماً سٹورز پر نہیں ملتی لیکن جنہوں نے مجھے گھر چھوڑا، وہ آؤٹ آف وے گئے، میرے لئے دوائی لی اور مجھے یہاں چھوڑا۔ میں نے اج دیکھا کہ کوئی بھی یہ کوشش نہیں کررہا تھا کہ کس نے کیا، کیا کیا، کیسے ہوا؟ سب لوگوں کی یہی فکر تھی کہ جتنے بھی لوگ ہیں وہ بحفاظت گھر پہنچ جائیں۔ میں بہت جگہ رہی ہوں، کشمیر میں بھی رہی ہوں لیکن یہ میں نے پہلی بار دیکھا ہے۔

میرے بہت سارے جاننے والے اندھیری ویسٹ میں ہیں اور وہ کافی اصرار کر رہے تھے کہ میں بھی وہاں رہوں اور بہت سارے لوگ میں نے دیکھے (مثلاً) جس آفس میں میں گئی تھی، وہاں کے لوگ اسی ایریا میں اپنے فرینڈز وغیرہ کے ہاں رہ گئے لیکن جن لوگوں کی ایسی کمٹمینٹس تھیں کہ انہیں پہنچنا تھا، وہ میرے ساتھ ہی پھنسے ہوئے تھے۔

میرے ساتھ ایل لڑکی تھی جو میرا روڈ سے بھی کافی آگے رہتی تھی، وہاں تک ڈیڑھ گھنٹہ لگتا ہے۔ اس کے شوہر انہیں پک کرنے آئے۔ وہ کہہ رہے تھے کہ ایک بلاسٹ جو ہوا ان کے سامنے ہوا اور ان کے انکل کھڑے ان سے بات کررہے تھے تو انہیں پتہ ہی نہیں چلا کہ پیچھے کیا ہوا ہے اور اچانک ان کے بلیڈنگ شروع ہوگئی۔ لیکن جونہی لوگوں کو یہ احساس ہوا تو لوگ اس سے نہیں گھبرائے کہ کہیں دوسرا بلاسٹ تو نہیں ہوجائے گا، انہوں نے بس لوگوں کی مدد کرنا شروع کی اور اسی وجہ سے بہت سی جانیں اور ضائع ہوسکتی تھیں لیکن لوگوں نے ذاتی سطح پر مدد کی، ہسپتال پہنچایا اور فرسٹ ایڈ وغیرہ دی۔

تو یہ اسپرٹ تھی، یہ اسپرٹ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔



نوٹ: اگر آپ بھی ممبئی میں رہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں کہ آپ اس وقت کہاں تھے، اب کہاں ہیں، آپ کے شہر کا حال کیا ہے اور آپ کیسا محسوس کررہے ہیں؟

زرک خان، اسلام آباد
میری ڈھیروں ہمدردیاں ہیں ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے ان دھماکوں میں کچھ نا کچھ کھویا ہے۔ یقین جانیے کہ جب میں نے آپ کے بیٹے سے متعلق آپ کے احساسات پڑھے تو میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ میں کچھ سال پہلے ایسی ہی کیفیت سے گزر چکا ہوں اور مجھے پتہ ہے کہ یہ سب کچھ کتنا تکلیف دے ہوتا ہے۔

نجم حسن، پاکستان
میرا نام نجم ہے۔ میرے کزن ممبئی میں رہتے ہیں۔ میری کزن میوچل فنڈ کی کمپنی میں اور اس کا بھائی سٹینڈرڈ چارٹڈ بینک میں کام کرتا ہے۔ میں ان کی خیریت جاننا چاہتا ہوں۔ میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ میں ان سے رابطے کی کوشش کر رہا ہوں لیکن کوئی رابطہ نہیں ہو رہا۔ میں ان کی خیریت دریافت کرنا چاہتا ہوں۔ مہربانی فرما کر مجھ سے رابطہ کریں۔ ان کے نام ہیں رابعہ سلامہ اور آصف خان۔


پہلا نام
خاندانی نام*
پتا
ملک
ای میل
ٹیلی فون*
* اختیاری
آپ کی رائے
بی بی سی آپ کی آراء میں کاٹ چھانٹ کر سکتی ہے اور اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتی کہ موصول ہونے والی تمام ای میل شائع کی جائیں گی۔
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد