’بنا کچھ سوچے سمجھے بھاگنے لگی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
(وینوکا بھردواج ممبئی کی ایک رہائشی ہیں۔ کھار ٹرین سٹیشن پر ہونے والا دھماکہ انہوں نے خود دیکھا۔ انہوں نے ہمیں ممبئی کا یہ حال سنایا۔) میں نے بینڈرا سے تقریباً چھ بج کر پانچ منٹ پر ٹرین لی۔ بینڈرا سے نکلتے ہی کھار سب وے پر یہ دھماکہ ہوا۔ میں بوریولی جانے والی ٹرین پر تھی اور دھماکہ میرے بازو والی ٹرین میں ہوا۔ وہ ٹرین کافی رفتار سے جا رہی تھی۔ دھماکہ ہوتے ہی ایک دم رُک گئی اور اس میں سے بہت دھواں سا نکلنے لگا۔ اس دھماکے کا اثر اتنا زیادہ تھا کہ گاڑی پہلے تو ہل گئی اور پھر تیزی سے چلتی ہوئی ایک دم سے رک گئی۔ ہمیں لگا کہ شاید ہماری ہی ٹرین میں کچھ ہوا ہے۔ لوگ بہت گھبرا گئے۔ پہلے کچھ سیکنڈ تو ہمیں سمجھ ہی نہیں آیا۔ اس کے بعد افراتفری سی مچ گئی۔ سب اپنا اپنا سامان لے کر ہماری ٹرین سے کودنے لگے، کیونکہ کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔ ماحول بہت ہی کنفیوزڈ تھا۔ کچھ لوگ کہہ رہے تھے کہ ٹرین سے اتر جائیے، شاید اور دھماکے ہوں۔ کچھ کہہ رہے تھے کہ نہیں پٹاخہ پھوٹا ہے، ٹرین میں ہی رہئیے، کودیئے گا مت۔ سب ٹرین سے اتر کے ٹریکس پر کھڑے ہو گئے اور پھر بھیڑ جمنے لگی۔ جب میں ٹرین سے اتری تو میں نے چار لوگوں کو ٹریکس پر خون سے لت پت پڑے دیکھا اور دوسری جو ٹرین تھی اس کا ایک پورا کمپارٹمینٹ اُڑ چکا تھا۔ پہلے ایک آدمی کو پٹری پر پڑے دیکھا۔ وہ خون سے لت پت تھا۔ میں بہت گھبرا گئی۔ چاروں طرف لوگ چلا رہے تھے کہ بم پھٹا ہے۔ میں گھبرائی تو تھی مگر میں اس آدمی کی طرف جا رہی تھی تاکہ اس کی کچھ مدد کر سکوں، لیکن پھر میں نے جب دیکھا کہ پانچ چھ اور لوگ اسی طرح پٹری پر پڑے ہوئے ہیں تو میری گھبراہٹ اور بھی بڑھ گئی۔ اس کے بعد جہاں لوگ بھاگ رہے تھے میں بھی بنا کچھ سوچے سمجھے اسی طرف بھاگنے لگی۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے تھے کہ ایک دھماکہ ہوا ہے شاید اور بھی ہوں۔ ہم سوچ رہے تھے کہ زخمیوں کے ساتھ کیا کیا جائے، تب کھار کے لوگ دیواروں کے اوپر سے کود کر ٹریکس پر مدد کے لیے آگئے۔ سب یہ سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے کہ آخر ہوا کیا ہے اور زخمیوں کو اٹھا کر لے جا رہے تھے۔ ہم لوگ وہاں سے نکلے تو پتہ چلا کہ یہ بم دھماکہ تھا اور یہ کہ یہ دھماکے کئی ٹرینوں پر ہوئے ہیں۔ سب وہاں سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے اور یہ واضح تھا کہ کافی زیادہ لوگ بری طرح زخمی تھے (لیکن) نکلنا بہت مشکل تھا۔ رکشے نہیں مل رہے تھے اور ظاہر ہے ہم سب کی ترجیح پہلے زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کی تھی۔ زخمیوں کو رکشوں اور ٹیکسیوں میں بٹھایا جا رہا تھا۔ کوئی ایک گھنٹے بعد مجھے ایک رکشہ ملا اور میں گھر کے لیے نکلی۔ کھار سے نکلنے میں ہی کافی وقت لگ گیا کیونکہ زخمیوں کے علاوہ کافی لاشوں کو بھی وہاں سے نکالا جا رہا تھا۔ ٹریفک بھی بہت زیادہ تھا۔ ساری ٹرینیں بند تھیں اور دو لوکل ٹرینوں کا سارا رش سڑک پر آگیا تھا۔ کہاں جائیں کیا کریں؟ کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ لیکن اس سب میں ممبئی کے رہنے والوں کا کردار ابھر کر سامنے آیا۔ میری تو آنکھوں میں آنسو آگئے تھے یہ دیکھ کر کہ کس طرح عام لوگوں نے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کی مدد کی۔ زخمیوں اور لاشوں کو جس طرح سے لوگوں نے ہسپتال پہنچایا۔ پہلے بچوں کو نکالا، کیونکہ وہاں بہت سارے بچے بھی تھے، پھر عورتوں کو۔ جس طرح سے انہوں نے سب کچھ آرگنائز کیا وہ قابل تعریف ہے۔ سڑکوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو پانی دیا، بسکٹ دیئے۔ یہ سب کھار کی لوکل پبلک نے کیا۔ اگر یہ نہیں کرتے تو نہ جانے اور کتنی جانیں ضائع ہو جاتیں۔ اتنی مشکل کے وقت میں ممبئی میں رہنے والے عام آدمی نے جو کر دکھایا میں بیان نہیں کر سکتی۔ مجھے فخر ہے کہ میں ایسے شہر میں رہتی ہوں۔ نوٹ: اگر آپ بھی ممبئی میں رہتے ہیں تو ہمیں لکھ بھیجیں کہ آپ اس وقت کہاں تھے، اب کہاں ہیں، آپ کے شہر کا حال کیا ہے اور آپ کیسا محسوس کررہے ہیں؟ |
اسی بارے میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||