12 جولائی: یہی تو میرا ممبئی ہے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بارہ جولائی کی صبح عام دنوں کی طرح نہیں تھی کیوں کہ منگل کی شب قیامت خیز تھی۔ ڈیڑھ بجے رات تک کام کرنے کے بعد آنکھ بند کرنے کی کوشش کی لیکن گبھراہٹ اور بیچینی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ آنکھوں کے سامنے بے ترتیب لاشیں، لوگوں کی چیخ و پکار اور بہتے خون کا منظر گھوم جاتا۔ غنودگی اور نیم خوابی کی حالت میں پتہ نہیں کب سورج نکل آیا۔ بڑ بڑا کر اٹھ بیٹھی۔ پتہ نہیں یہ دن کیا منظردکھاتا ہے۔ کتنی ماؤں کی گودیں اور کتنی سہاگنوں کا سہاگ اجڑ چکا ہوگا۔ کئی اپاہج ہو چکے ہوں گے اور کچھ پتہ نہیں کیا آگے سوچنے کی ہمت نہیں ہوئی۔ ذہن کو جھٹکا دیا۔ ویسٹرن ریلوے کنٹرول روم فون کیا پتہ چلا کہ ٹرینیں تو معمول کے مطابق چل رہی ہیں اور لوگوں کی اتنی ہی بھیڑ ہے۔ دل نے سوچا، ہاں یہی تو میرا ممبئی ہے۔ ہر حال میں مگن، ہر مصیبت کا ہمت کے ساتھ سامنا کرنے والی ممبئی۔ جلدی جلدی تیار ہو کر باہر نکلی۔ باندرہ کرلا کامپلیکس ممبئی کا دوسرا نریمان پوانٹ ہے۔ دیکھا تمام دفتر کھل گئے ہیں۔ لوگ روز کی طرح جلدی جلدی دفتر جا رہے تھے۔ سگنل پر گاڑیاں رکی تھیں۔ ایسا لگا 12 جولائی کی صبح عام دنوں کی طرح ہی ہے۔ کون کہہ سکتا ہے کہ گزشتہ شام ممبئی کی لوکل ٹرینون کے سلسلہ وار بم دھماکوں سے ممبئی دہل چکی تھی۔ آج بس اسٹینڈز کے پاس ہی رکشہ مل گیا۔ میں نے پوچھا: باندرہ اسٹیشن چلنا ہے؟ ڈرائور نے میٹر ڈاؤن کیا اور چل پڑا ۔ راستے سے لندن آفس سے فون آیا۔ آپ خیریت سے تو ہیں؟ ممبئی کے کیا حالات ہیں؟ آپ انہیں حالات پر ایک ڈائری لکھ بھیجئے۔ رکشہ ڈرائیور نے گفتگو شروع کی۔ میڈم کیا ہوگیا یہ لوگ ممبئی والوں کو کیوں نشانہ بنا رہے ہیں۔ کسی کو کیا ملتا ہے معصوم لوگوں کی جان لے کر، میڈم میں بھی ماہم اسٹیشن پر تھا۔ میرے رکشہ میں بھی ایک زخمی کو ڈال کر بھابھا ہسپتال لے گئے تھے۔ چرچ گیٹ جانے والی ٹرین پلیٹ فارم نمبر پانچ پر آنے والی تھی وہاں انکم ٹیکس انسپکٹر شریفہ مل گئی، وہ دفتر جارہی تھی۔ پتہ چلا کہ اس کے دفتر ميں اسسٹنٹ انکم ٹیکس کمشنر سمیت تین افسروں کی اس دھماکے میں موت ہوگئی۔ تین زخمیوں کو بھگوتی اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ دفتر سے نکلنے کے بعد وہ تعزیت کے لیے کمشنر کے گھر جانے والی ہيں۔ ممبئی کی زندگی کچھ ایسی ہی ہے۔ میں نے سوال کیا کہ شریفہ ٹرین کے ڈبے میں تمہیں ڈر نہیں لگتا؟ اس کا جواب تھا: ’ کیسا ڈر؟ موت آنی ہوگی تو آئے گی۔ ہلکا سا خوف ضرو لگتا ہے لیکن انسان زندگی جینا تھوڑی چھوڑتا ہے۔‘ میں وہاں سے برج کراس کرکے بھابھا ہسپتال پہنچی۔ آج پولیس نے اندر جانے سے نہیں روکا۔ اندر کا ماحول اسی طرح افراتفری کا تھا۔ ایک باریش نوجوان محمد تاب لوگوں کو چائے پلا رہا تھا۔ پتہ چلا صبح وہ پہلے سائن ہسپتال پہنچے، وہاں کئی لوگوں کو چائے پلا کر یہاں بھابھا ہسپتال میں پہنچے ہیں۔ ’میرے لیے خدمت کا موقع اللہ نے عطا کیا ہے۔ میں نے آج دکان نہیں کھولی۔ انسان روزی کماتا ہے۔ ثواب کمانے کا موقع روز نہیں ملتا۔‘ ہسپتال کے اندر بورڈ پر زخمیوں اور ہلاک شدگان کے نام لکھے تھے۔ کئی لوگ ابھی بھی اپنوں کی تلاش میں ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال گھوم رہے تھے۔ کئی لاشیں مردہ خانے میں گمناموں کی طرح پڑی ہیں۔ پتہ نہیں کیا کون اپنا آئے اور ان کی آخری رسومات ادا کی جائیں۔ وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ تمام زخمیوں کا ہسپتال میں مفت علاج ہوگا لیکن ایسا نہیں ہے۔ آنکھوں سے آنسو پونچھتی لیلا بین ڈاکٹر کے کہنے پر کیمسٹ کے یہاں جارہی تھی۔ سچ ہے لیڈروں کے کہنے اور کرنے میں اتنا فرق ہوتا ہے۔ ڈاکٹر راؤنڈ پر تھے، میں نیچے اتر آئی تو دیکھا چینل والوں کے سامنے ایک عورت اپنے بیٹے کی تصریر لیے کھڑی ہے۔ بھیڑ جمع ہوچکی تھی۔ ’میرا بیٹا ہے جو سن نہیں سکتا، بول نہیں سکتا۔ پتہ ڈھونڈ رہی ہوں کوئی تو پتہ بتائے۔‘ ان دھماکوں نے پتہ نہیں کتنے لوگوں کی گود سونی کر دی۔ سائین ہسپتال جانے کی ہمت نہیں ہوئی ۔ دوہر پپہر کے ڈیڑھ بج چکے تھے۔ گھر واپس آئی، رپورٹ تیار کرنی تھی۔ راستے بھر یہ خیال آتا رہا کہ ممبئی کے باشندوں کا مقابلہ شاید ہی کوئی کرسکے۔ بڑی سے بڑی مصیبت کی گھڑی میں بھی ہنس کر ٹال دیتے ہیں۔ دکھوں میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ چلتے ہیں۔ اپنا مذہب اور ذات کو بھول کر مدد کرنا شاید انہیں کی خاصیت ہے۔ گھر پہنچی، دروازہ کھولا توگھر کی ایک چھت گر گئی دل دھک سے رہ گیا۔ اب کیا کروں۔ دہلی دفتر فون کیا اور اور حالات بتائے۔ کچھ لوگوں کو کام پر لگایا اور کاغذ قلم اٹھا کر ڈائری لکھنے بیٹھ گئی۔ مصیبت کی اس گھڑی میں سینکڑوں افراد کا چہرہ گھوم گیا جو اپنوں کی جانیں کھو چکے تھے۔ یہی ممبئی کی روش ہے اور خاصیت۔ |
اسی بارے میں بھارت: پولیس چوکس، ملزموں کی تلاش جاری12 July, 2006 | انڈیا ممبئی میں زندگی معمول پر12 July, 2006 | انڈیا انڈیا: بڑے شدت پسند حملوں کی فہرست12 July, 2006 | انڈیا ’ٹرین پر سفر کرنا نہیں چھوڑیں گے‘12 July, 2006 | انڈیا حملے کی اطلاع تھی یا نہیں؟12 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکے: ذمہ دار کون؟12 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکوں کے اگلے روز12 July, 2006 | انڈیا ابھی کچھ نہیں کہیں گے: شیوراج پاٹل12 July, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||