BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی دھماکوں کے اگلے روز
ممبئی پولیس
اہم سوال ایک ہی کہ دھماکوں کے پیچھے کا ہاتھ تھا؟
ممبئی میں دھماکوں کے اگلے روز بظاہر بہت سے لوگ معمول کے مطابق کام پر جا رہے ہیں لیکن گزشتہ شام ہونے والے حملوں کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔

جہاں بڑی تعداد میں لوگ کام پر جا رہے ہیں وہیں پر وہ لوگ بھی ہیں جو ٹرینیں بند ہو جانے کے باعث گھر نہیں پہنچ سکے اور اب بھی ٹرانسپورٹ کے منتظر ہیں۔ اس کے علاوہ زخمیوں کی ایک بڑی تعداد ہسپتالوں میں زیر علاج ہے اور بہت سے لوگ ایسے ہیں جن کے رشتہ داروں کو ان کے بارے میں کل شام سے کوئی اطلاع نہیں ملی اور اب وہ ان کی تلاش میں ہسپتالوں کے چکر لگا رہے ہیں۔

ملک کی کچھ ریاستوں میں حملوں کے ذمہ دار افراد کا سراغ لگانے کے لیئے کارروائیاں بھی کی گئی ہیں لیکن ابتدائی طور پر کسی تنظیم یا شخص کا نام نہیں لیا گیا۔

بم حملوں کی وجہ سے گھبراہٹ کے باوجود معمول کے مطابق صبح کام پر جانے کے لیئے گھروں سے نکلے ہوئے ہیں اور ٹرینوں پر سفر کر رہے ہیں۔

ممبئی میں رضاکار متاثرین کی مدد کر رہے ہیں
ممبئی میں بی بی سی کے نامہ زبیر احمد نے بتایا کہ بہت سے لوگوں نے کہا کہ انہیں گھبراہٹ ہے اور ڈر بھی لگ رہاہے لیکن کام پر بھی جانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب بھی بہت سے لوگ ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور ان میں سے ایک بڑی تعداد انتہائی نگہداشت کے شعبوں میں ہے۔

نامہ نگار نے بتایا کہ حملے کا نشانے بننے والی ریل گاڑیوں کو پٹڑی سے ہٹا لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تفتیشی اداروں نے ان گاڑیوں کی جانچ پڑتال کی ہے اور حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کیا جائے گا۔

بم حملوں کا نشانہ بننے والے سٹیشن باندرا پر کھڑے ایک مسافر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ڈر لگ رہا ہے، کون سے ڈبے میں جاؤں سمجھ میں نہیں آ رہا‘۔ اسی سٹیشن پر ایک شحض نے بتایا کہ انہوں نے رات وہیں پر سو کر گزاری ہے اور ٹرین سروس بحال نہ ہوئی تو شاید پورا دن گھر سے باہر گزر جائے۔

اسی طرح افراتفری کے ماحول میں لوگوں نے ان افراد کی مختلف طریقوں سے مدد بھی کی جو اپنے گھروں کو نہیں پہنچ سکے۔ لوگوں نے بتایا کہ لوگوں نے متاثرہ افراد کو لفٹ کی پیشکش بھی کی اور ایک واقعے میں لوگوں کے ایک گروپ نے ایک سکول میں رات گزاری جہاں مقامی لوگوں نے ان کو کھانا بھی فراہم کیا۔

ممبئی میں صحافیوں کے مطابق سب سے زیادہ تکلیف میں وہ لوگ تھے جو اپنے رشتہ داروں کو تلاش کر رہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق بم دھماکوں کا شکار ہونے والے کئی افراد کی لاشیں بری طرح مسخ ہوئی تھیں اور فوری طور پر ان کی شناخت ممکن نہیں تھی اور ان کے رشتہ داروں کو کوئی اطلاع نہیں جا سکتی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد