BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 July, 2006, 07:27 GMT 12:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سرینگر: پانچ دھماکے،آٹھ ہلاک

بس (فائل فوٹو)
سرینگر میں گزشتہ ایک ماہ میں سیاحوں پر ایسے 4 حملے ہوئے ہیں
ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں دستی بموں کے پانچ مختلف دھماکوں میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک جبکہ تیس زخمی ہو گئے ہیں۔

پولیس کے مطابق سب سے بڑے دھماکے میں پانچ افراد ہلاک اور بارہ اس وقت زخمی ہو گئے جب نامعلوم حملہ آوروں نے مغربی بنگال سے آئے ہوئے سیاحوں کی بس میں دستی بم پھینکا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے حملوں کے سلسلے میں ایک شخص کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔

یہ حملے ایک ایسے وقت ہوئے ہیں جب کشمیر میں سیاحت کی صنعت عروج پر ہے۔ ماضی میں کشمیر میں سیاحت کے شعبے کوعلیحدگی پسند مسلمانوں کی شدت پسندی کی وجہ سے کافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مرنے والوں میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ شہر کے سیاحتی مقام ڈل جھیل کے ساحل کے نزدیک پیش آیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بعض نامعلوم افراد نے دوپہر بارہ بجے کے قریب سیاحوں سے بھری ہوئی ایک گاڑی پر دستی بم سے حملہ کیا۔

شبیر احمد نامی دکاندار نے جنہوں نے ایک دھماکہ ہوتے دیکھا، خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا: ’اچانک ایک زبردست دھماکہ ہوا اور میں نے دیکھا کہ بس سے زدر رنگ کا ایک بہت بڑا گولہ سا بلند ہوا۔‘

عینی شاہد نے دھماکہ ہوتے دیکھا
شبیر احمد نامی دکاندار نے جنہوں نے ایک دھماکہ ہوتے دیکھا، خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا: اچانک ایک زبردست دھماکہ ہوا اور میں نے دیکھا کہ بس سے زدر رنگ کا ایک بہت بڑا گولہ سا بلند ہوا۔

اب تک کسی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سرینگر میں گزشتہ ایک مہینے میں سیاحوں پر اس قسم کے چار حملے ہو چکے ہیں جس میں چھ سیاح مارے جا چکے ہیں۔

دلی میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ دہلی اور ممبئی سے کم قیمت پر جہاز کی ٹکٹیں دستیاب ہونے کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں سیاح کشمیر آ رہے ہیں۔ شہر میں اکثر سیاحوں کا ہجوم اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ سری نگر میں سڑکوں پر ٹریفک کافی دیر تک رکی رہتی ہے۔

دریں اثناء سرینگر کے ریگل سکوائر اور لال چوک نامی علاقوں میں بھی دھماکے ہوئے ہیں جن میں کئی افراد زخمی ہوگئے۔ان دھماکوں کی تفصیلات ابھی آ رہی ہیں۔

مئ کے مہینے میں سری نگر سے گلمرگ جانے والی ایک بس پر بم حملے سے تین سے زیادہ انڈین سیاح زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے سے کچھ ہی دن قبل اسی طرح کے ایک واقعے میں ایک خاتون اور اس کا بچہ مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد