کشمیر: وہ جو کبھی نہ لوٹے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’میرے شوہر دسمبر دو ہزار دو سے لاپتہ ہیں وہ گھر سے نکلے اور پھر واپس نہیں آئے۔ کسی نے ہمیں بتایا کہ انہیں آرمی نے اٹھایا، وہ اودھم پور میں بند ہیں میں وہاں بھی گئی۔ کسی نے کہا کہ اودرگام میں بند ہیں ہم وہاں بھی گئے۔ ہم نے تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی تب سے میں اپنے شوہر کو در در ڈھونڈ رہی ہوں۔‘ بارہ مولہ کی بتیس سالہ طاہرہ بیگم ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں اپنے درد میں تنہا نہیں ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلے اٹھارہ برس میں تقریباً چار ہزار افراد لاپتہ ہوئے ہیں۔ لیکن لاپتہ لوگوں کے والدین کی ایسو سی ایشن کا کہنا ہے کہ یہ تعداد آٹھ ہزار سے دس ہزار تک ہے۔ ایسو سی ایشن کی صدر پروینہ آہنگر کا اپنا بیٹا بھی سولہ برس سے لا پتہ ہے۔ پروینہ نے فوج سے لے کر عدالت تک ہر دروازے پر دستک دی ہے لیکن اپنے بچے کا پتہ نہ پاسکی ’میں آخری دم تک لڑوں گی، مجھے پوری امید ہے کہ میرا بیٹا آئےگا۔‘ پروینہ کے گھر پر ہی شوپیان کی ایک نو برس کی بچی طاہرہ بھی تھی۔ وہ اپنے والد کا تین برس سے انتظار کر رہی ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیمیں ایک عرصے سے ان لاپتہ افراد کے معاملات کی تفتیش کے لیئے ایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کا مطالبہ کر رہی ہیں لیکن حکومت نےاس سلسلے میں ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ’کولیشن فار سول سوسائٹی‘ کے سربراہ پرویز امروز کہتے ہیں کہ کشمیر کے حالات ایسے ہیں کہ ان معاملات میں عدالتوں سے بھی کوئی مدد نہیں مل پارہی ہے۔ امروز کا کہنا ہے کہ جتنی تفتیش ہوئی ہے اور لاپتہ ہونے کا جو طریقہ ہے اس سے واضح ہے کہ بیشترلاپتہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ’جو بھی لا پتہ ہوئے ہیں وہ بیشتر یقین کے ساتھ ڈیتھ کیسیز ہیں۔ اب انکی لاشوں کو کہاں پھینکا گیا، ڈل جھیل بہت بڑی جھیل ہے۔ جموں کے جنگلات میں کتنے لوگوں کو جلایا گیا، اڑی اور دوسرے مقامات پر اجتماعی قبریں مل رہی ہیں اب یہی معلوم کرنا ہے کہ یہ لاشیں کہاں گئیں۔‘ مفتی محمد سعید کی حکومت نے اس سلسلے میں کچھ معاملات کی تفتیش کرائی تھی اور کچھ لاپتہ لوگ قید سے رہا بھی ہوگئے تھے۔ لیکن لا پتہ لوگوں کی ایسو سی ایشن اور حقوق انسانی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ڈسٹربڈ ایریا ایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین کے سبب سیکیورٹی فورسز کی جوابدہی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ ریاستی حکومت نے گرفتاریوں اور چھاپوں کے سلسلے میں بعض اقدامات کیے ہیں۔ ریاستی وزیر پیرزادہ محمد سعید کہتے ہیں کہ ’ہم نے ایک کوشش کی ہے کہ جہاں بھی کوئی کارروائی کی جائے یا جھاپے مارے جائیں وہاں نیم فوجی دستوں کے ساتھ مقامی پولیس کے اہل کار ضرور ہوں۔ جہاں بھی زیادتیوں کا پتہ چلتا ہے ہم وہاں کارروائی کرتے ہیں۔‘ لیکن پرویز امروز کا کہنا ہے کہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ’غلام نبی آزاد کے وزیراعلی بننے کے بعد صرف چند ماہ میں چھبیس افراد کے لاپتہ ہونے کی خبر ہے۔‘ امروز کا کہنا ہے کہ آٹھ ہزار افراد کی گمشدگی ایک بہت سنگین مسئلہ ہے۔ ’یہ انسانیت کے خلاف جرائم کا معاملہ ہے اور مرتکبین کو انصاف کا سامنا کرنا ہوگا۔‘ کو لیشن فار سول سوسائٹی اور ایسوسی ایشن پیرنٹس آف ڈس اپئیرڈ پرسن ایشیاء اور لاطینی امریکہ کی بعض اس طرح کی تنظیموں کے ساتھ لا پتہ افراد کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ امروز کو اس بات کا افسوس ہے کہ ہندوستان کی سول سوسائٹی نے آٹھ ہزار افراد کی گمشدگی کے معاملے کو اس سنجید گی سے نہیں لیا ہے جس سنجیدگی سے اسے لینا چاہیے تھا۔ |
اسی بارے میں گول میز کانفرنس: خوف کے سائے میں19 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||