گول میز کانفرنس: خوف کے سائے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کی سربراہی میں چوبیس اور پچیس مئی کو سری نگر میں دو روزہ گول میز کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر انتہائی سخت حفاظتی اقدامت کیئے جا رہے ہیں۔ پولیس اور امن و اماں برقرار رکھنے والے ادارے اور دیگر ایجینسیوں کے لیے یہ تقریب ایک چیلنج بن گئی ہے کیونکہ عسکریت پسند گروپوں نے کانفرنس کے انعقاد کی مخالفت کی ہے۔ شہری سلامتی کے لیۓ تعینات سینٹرل ريزرو پولیس فورس کے انسپکٹر جنرل مہشوری نے بی بی سی کو بتایا کہ خطرات اور عسکریت پسندوں کی جانب سے دہشت گردی کے امکان کو دیکھتے ہوئے فورسز کو انتہائی چوکس کر دیا گیا ہے۔ ماضی قریب میں ڈاکٹر سنگھ سمیت انڈیا کے دو وزراے اعظم کی سری نگر میں موجودگی میں پر تشدد واقعات ہوچکے ہیں۔ ستایئس اگست دو ہزار تین کو مشہور جھیل ڈل کے کنارے واقع انٹرنیشنل کنونشن کمپلیکس میں سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی بین الریاستی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے تو لال چوک میں عکسریت پسندوں نے فدائی حملہ کرکے ایک رکن اسمبلی کو ہلاک کردیاتھا۔ بارہ گھنٹے تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں دو فدائی حملہ آور مارے گئے تھے۔
کانفرنس میں واجپائی کے سینیئر وزرا کے علاوہ انیس ریاستوں کے وزراۓ اعلی بھی موجود تھے۔ یہ حملہ کنونشن کمپلیکس سے صرف ساڑھے تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہوا تھا۔ واضح رہے کہ اگلے ہفتہ ہونے والی گول میز کانفرنس کا انعقاد بھی اس کمپلیکس میں ہو رہا ہے۔ اسی طرح عکسریت پسندوں نے پچھلے برس سیاحوں کے استقبالیہ مرکز پر عین اس وقت دھاوا بول دیا تھا جب سری نگر اور مظفر آباد کے درمیان بس سروس بحال ہونے والی تھی۔ اپریل کو ہوئے اس حملے میں ’ٹورسٹ سینٹر‘ کی تاریخی عمارت خاکستر ہوگئی تھی۔ وزیر اعظم ڈاکٹر سنگھ اور اور کانگریس کی سربراہ سونیا گاندھی نے انتہائی خوف کے ماحول میں بس کو مظفرآباد کے لیئے روانہ کیا تھا۔ ایک سینیئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ گول میز کانفرنس کو سکیورٹی لحاظ سے کامیاب کرنے کے لیۓ اقدامات کیۓ گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کنونشن کمپلیکس کو عام آمد ورفت کے لیۓ سیل کر دیا گیا ہے اور اس کے ارد گرد خفیہ کیمرے نصب کر دیئے گۓ ہیں تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی کا فوراً پتا چل جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب اس علاقے میں ’پرندہ بھی پر نہیں مار سکتا۔‘ تاریخی مغل باغات کی طرف جانے والی شاہراہ پر واقع کنوینشن کمپلیکس کے گرد تین کلو میٹر کے دائرے میں لوگوں کی تلاشی کو بھی مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دو ہزار تین اور دو ہزار پانچ میں ہونے والے واقعات کو سکیورٹی فورسز کی ناکامی نہیں کہا جا سکتا۔ ایک اعلی افسرنے بتایا کہ ’خود کش یا فدائی حملہ کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا البتہ انتہائی احتیاطی اقدامات سے ممکنہ نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔‘ نشاط علاقہ میں رہنے والے ایک شہری کا کہنا ہے کہ جب بھی کنونشن کمپلیکس میں اس طرح کی بڑی تقریب ہوتی ہے تو عام باشندوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ | اسی بارے میں کشمیر:4 عسکریت پسند ہلاک 16 May, 2006 | انڈیا ’حریت کی شرکت کا امکان ففٹی ففٹی‘16 May, 2006 | انڈیا شدت پسندوں سمیت چار ہلاک10 May, 2006 | انڈیا کشمیر کے آر پار تجارت پر اتفاق03 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||