BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیر کے آر پار تجارت پر اتفاق

اس راستے پر ٹرک سروس جولائی کے ابتدائی ہفتے میں شرو‏ع کی جائے گی
بھارت اور پاکستان نے سری نگر سے مظفر آباد تک تجارت کی غرض سے ٹرک سروس شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام نے لائن آف کنٹرول کو پار کرکے جانے والی دوسری بس سروس شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جو پونچھ سے راولاکوٹ تک چلائی جاسکے گی۔

دونوں ملکوں کے اہلکاروں کے درمیان بات چیت کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے ان اشیا پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے کہ جن کی تجارت اس راستے سے ہو سکے گی۔

بیان کے مطابق ’اس بات سے اتفاق کیا گیا ہے کہ تجارت کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کے لیے کنٹرول لائن کے دونوں جانب کے ایوان صنعت و تجارت کے وفود جلد از جلد دوسرے ملک کا دورہ کریں گے‘۔

ٹرک سروس جولائی کے ابتدائی ہفتے میں شرو‏ع کی جا رہی ہے۔

دونوں ملکوں نے جموں سیکٹر میں پونچھ- راولا کوٹ کے درمیا ن بس سروس شروع کرنے کو بھی عملی شکل دے دی ہے۔ اس سروس کا آغاز 19 جولا ئی سے ہو رہا ہے ۔ اس بس سروس پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیئے دستاویزات کے حصول کا طریقہ کار وہی ہے جو سری نگر مظفر آباد بس سروس کے لیے نافذ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدا میں یہ بس ہر پندرہ دن بعد چلا کرے گی۔

میر واعظ
حریت کا اعتدال پسند دھڑا تجارتی راستہ کھولنے کا مطالبہ ایک عرصے سے کر رہا تھا

دونوں ملکوں کے اہلکاروں نے کنٹرول لائن پر ملاقات کے مراکز کے کھولنے کے طریقہ کار اور اس کے عملی پہلوؤں پر بھی مفصل بات چیت کی ہے۔

دلی میں ہونے والی اس بات چیت میں سری نگر - مظفرآباد بس سروس کا جا ئزہ لیا گیا۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ درخواستوں کی منظوری میں کم وقت لگایا جائے۔

سری نگر مظفرآباد بس سروس سے بھارت سے ایک سال کے دوران تقریبًا تین سو افراد ہی پاکستان کا دورہ کرسکے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے باشندوں کی عام شکایت ہے کہ ان کی درخواستوں کو منظوری نہیں دی جاتی۔ یہی نہیں بلکہ سفری دستاویز حاصل کرنے کا عمل بھی بہت سست اور پیچیدہ ہے۔

حریت کا اعتدال پسند گروپ کنٹرول لائن کے پرانے راستوں کو آنے جانے اور تجارت کے لیئے کھولنے کا مطالبہ ایک عرصے سے کر رہا تھا۔ بھارت اور پاکستان اعتماد سازی کے لیئے یہ اقدامات کر رہے ہیں۔

ان اقدامات کا اعلان ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب وزیر اعظم منموہن سنگھ حریت کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

پناہ گزین کیمپپناہ گزینوں کی سوچ
پاکستان میں کشمیری بناہ گزین کیا سوچتے ہیں؟
دکھ ، سکھ ساتھ ساتھ
ایل او سی کھلنے کی خوشی، زلزلے کا دکھ
اسلام آبادکشمیر کانفرنس
کشمیریوں کی رائے کو بھی اہمیت دیں
شناختی کارڈ اور کشمیرشناختی کارڈ ڈرامہ
کارڈ کھو گیا، گویا شناخت ہی کھوگئی!
مثبت قدم یا ایک چال
کشمیری رہنماؤں کا بھارتی اعلان پر ردعمل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد