کشمیر کے آر پار تجارت پر اتفاق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان نے سری نگر سے مظفر آباد تک تجارت کی غرض سے ٹرک سروس شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کے حکام نے لائن آف کنٹرول کو پار کرکے جانے والی دوسری بس سروس شروع کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے جو پونچھ سے راولاکوٹ تک چلائی جاسکے گی۔ دونوں ملکوں کے اہلکاروں کے درمیان بات چیت کے بعد ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں نے ان اشیا پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے کہ جن کی تجارت اس راستے سے ہو سکے گی۔ بیان کے مطابق ’اس بات سے اتفاق کیا گیا ہے کہ تجارت کے مختلف پہلوؤں پر بات چیت کے لیے کنٹرول لائن کے دونوں جانب کے ایوان صنعت و تجارت کے وفود جلد از جلد دوسرے ملک کا دورہ کریں گے‘۔ ٹرک سروس جولائی کے ابتدائی ہفتے میں شروع کی جا رہی ہے۔ دونوں ملکوں نے جموں سیکٹر میں پونچھ- راولا کوٹ کے درمیا ن بس سروس شروع کرنے کو بھی عملی شکل دے دی ہے۔ اس سروس کا آغاز 19 جولا ئی سے ہو رہا ہے ۔ اس بس سروس پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیئے دستاویزات کے حصول کا طریقہ کار وہی ہے جو سری نگر مظفر آباد بس سروس کے لیے نافذ ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ابتدا میں یہ بس ہر پندرہ دن بعد چلا کرے گی۔
دونوں ملکوں کے اہلکاروں نے کنٹرول لائن پر ملاقات کے مراکز کے کھولنے کے طریقہ کار اور اس کے عملی پہلوؤں پر بھی مفصل بات چیت کی ہے۔ دلی میں ہونے والی اس بات چیت میں سری نگر - مظفرآباد بس سروس کا جا ئزہ لیا گیا۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ درخواستوں کی منظوری میں کم وقت لگایا جائے۔ سری نگر مظفرآباد بس سروس سے بھارت سے ایک سال کے دوران تقریبًا تین سو افراد ہی پاکستان کا دورہ کرسکے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں رہنے والے باشندوں کی عام شکایت ہے کہ ان کی درخواستوں کو منظوری نہیں دی جاتی۔ یہی نہیں بلکہ سفری دستاویز حاصل کرنے کا عمل بھی بہت سست اور پیچیدہ ہے۔ حریت کا اعتدال پسند گروپ کنٹرول لائن کے پرانے راستوں کو آنے جانے اور تجارت کے لیئے کھولنے کا مطالبہ ایک عرصے سے کر رہا تھا۔ بھارت اور پاکستان اعتماد سازی کے لیئے یہ اقدامات کر رہے ہیں۔ ان اقدامات کا اعلان ایک ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب وزیر اعظم منموہن سنگھ حریت کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ |
اسی بارے میں خودمختاری آئین کے اندر ہی: منموہن 25 February, 2006 | انڈیا اسلام آباد میں کشمیر پر کانفرنس10 March, 2006 | پاکستان شیخ رشید اور تربیتی کیمپس17 June, 2005 | Debate کشمیری رہنماؤں کا تاریخ ساز دورہ03 June, 2005 | Debate منموہن سنگھ کا بیان: سرحد کے بغیر کشمیر ممکن30 May, 2005 | Debate | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||