 |  یاسین ملک نے کہا کہ شیخ رشید نے انہیں اپنے فارم ہاوس میں پناہ دی تھی۔ |
حال ہی میں ہونے والے کشمیری رہنماؤں کے دورہ پاکستان میں علیحدگی پسند رہنماء یاسین ملک نے کہا کہ ان کے عسکری دنوں میں موجودہ وزیر اطلاعات نے انہیں اور ان کے کئی ساتھیوں کو اپنے فارم ہاوس میں پناہ دی اور کھانا کھلایا۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ شیخ رشید احمد نے انہیں عسکری تربیت فراہم کی۔ تاہم اس کے فوراً بعد سابق آرمی چیف جنرل مرزا اسلم بیگ نے یہ بیان دے دیا کہ شیخ رشید احمد اسلام آباد سے کچھ دور واقع اپنے فارم ہاؤس پر ایک عسکری کیمپ چلاتے تھے جوانیس سو نوے میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کے کہنے پر بند کروایا گیا۔ شیخ رشید احمد نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے عسکریت پسندوں کو صرف سر چھپانے کی جگہ دی تھی۔ بھارت نے ان اطلاعات پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ بھارت کی حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماء اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شیخ رشید احمد کو سری نگر آنے سے منع کریں۔ اس نئے تنازعہ سے شیخ رشید کے دورہ کشمیر پر بھی سوال پیدا ہو گیا ہے۔ آپ اس تمام معاملے کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟ کیا ان بیانات کا ایسے وقت پر سامنے آنا معنی خیز ہے، جب بھارت اور پاکستان کے درمیان امن کی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں؟ آپ کو کیا لگتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں کی امن کے لیے کوششوں کے باوجود کشمیر میں تشدد کے واقعات میں کمی کیوں نہیں آ رہی؟ اگر آپ اپنا پیغام موبائل فون سے ایس ایم ایس کے ذریعے بھیجنا چاہتے ہیں تو ہمارا نمبر ہے: 00447786202200 اب یہ فورم بند ہوچکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
راحیل علوی، لاہور: جو بھی باتیں ماضی میں ہوئیں وہ پاکستان کو بھی پتہ ہیں اور انڈیا کو بھی۔ لیکن اگر واقعی انڈیا پیس پروسیس میں مخلص ہے تو انہیں ان چیزوں کو اِگنور کرنا ہوگا۔ جیسے پاکستان نے کافی چیزیں اِگنور کی ہیں۔ اور اگر انڈیا میں ماضی کی طرح اس ڈِسپیوٹ کو مزید لٹکانا ہے تو وہ (واضح نہیں)۔۔۔۔ نوید احمد، لاہور: مرزا صاحب کو اب یاد آرہا ہے جب حالات ٹھیک ہورہے ہیں؟ اس وقت یہ کہاں تھے جب یہ سب کچھ ہورہا تھا، کیمپ کے اندر یا باہر؟ اب سیاست میں آنا چاہتے ہیں؟ بیروز گار بابا، جرمنی: میرے خیال سے اگر شیخ رشید نے جو کچھ بھی کام کیا ہے بہت اچھا کیا ہے کیوں کہ کشمیری ہمارے مسلم بھائی ہیں۔۔۔۔ عرفان سہیل ملک، چکوال: میں اپیل کرتا ہوں محترم جناب یاسین ملک اور جناب اسلم بیگ سے کہ یہ وقت ہے ہمارے کشمیری بھائیوں کا جو کہ عرصہ اٹھاون سالوں سے جد و جہد آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں اور ہمارے لیڈر بھی اور میں نہیں چاہتا کہ ہم ایک دوسرے پر نکتہ چینی کرتے رہیں، اس کا فائدہ دوسرے مذہب کے لوگ اٹھارہے ہیں۔۔۔۔ اعجاز اعوان، کراچی: مجاہدین کو ٹریننگ کیمپ کس نے دیے اور کہاں دیے یہ ہم سے زیادہ انڈینز کو معلوم ہے، بس آپ لوگ یہ دعا کرو کہ یہ مسئلہ حل ہوجائے، ایسے میں دونوں ملکوں کے عوام کا بھلا ہے۔ حسن بلوچ، ٹورانٹو: لگتا ہے شیخ رشید صاحب قربانی کا بکرہ نمبر دو بننے والے ہیں۔ بکرہ نمبر ایک تو سب کو یاد ہی ہوں گے، ارے اپنے ڈاکٹر صاحب۔ جس طرح نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی اسمگلنگ کا الزام ان پر تھوپ کر پاکستان آرمی، گورنمنٹ اور انٹیلیجنس سروسز نے اپنی جان چھڑا لی، بالکل اسی طرح لگتا ہے کشمیریوں کی ٹریننگ کا کریڈِٹ شیخ رشید کو دیکر آرمی اپنی معصومیت ثابت کرسکتی ہے۔ ایک ایسا ملک جہاں آپ ایک شہر سے دوسرے شہر درجنوں چیک پوسٹ (خاص طور پر بلوچستان میں) سے گزرے بغیر نہیں جاسکتے، ڈاکٹر قدیر خان نے اپنا نیٹورک کیسے چلایا؟ اور شیخ رشید نے ٹریننگ کیسے دی؟ پاکستان میں آرمی کی مرضی کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا، ٹریننگ چاہے شیخ رشید نے دی یا کسی اور نے، آرمی کی مرضی ضرور شامل تھی۔ چاہے پاکستان کی گورنمنٹ اور آرمی جو کہے، ساری دنیا جانتی ہے کہ پردے کے پیچھے کیا ہوتا رہا ہے۔ جہاں تک رہا سوال کہ پاکستان کی کوششوں کے باوجود کشمیر میں وائیولینس کیوں ہے، تو میرے خیال میں کشمیری اب پاکستان کے کنٹرول سے بھی نکل چکے ہیں۔ جیسے طالبان نے اپنی مرضی چلانی شروع کردی تھی اسی طرح کشمیری فائٹرز نے بھی۔ ویسے یہ بات بالکل سچ ہے، جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ پاکستان کی انٹیلیجنس ایجنسیز نے دوسرے ملکوں میں ڈسٹربینس کے لئے ٹیرورسٹ پیدا کیے، اب اپنا ملک انہیں ٹیرروسٹ کا شکار بنا ہوا ہے۔ وقار عادل، نواب شاہ: شیخ صاحب پر الزام لگانے والوں کو سوچنا چاہئے کہ پاکستان کی آرمی اتنی کمزور ہے کہ اسے کشمیر میں آپریشن کروانے کے لئے شیخ صاحب کی مدد لینی پڑ جائے؟ شیخ صاحب اپنے حلقے کے لوگوں کو نالا لئی میں ڈوبنے سے تو بچا نہ سکے، کشمیریوں کو آزادی کیا خاک دلوائیں گے۔ محمد این اکرام، لندن: انہوں نے اچھا کیا۔ خالد ملک، چکوال: جب دونوں ملک اپنے سیاسی اختلافات کو دور کرنے پر زور دے رہے ہیں جبکہ حالات بھی کافی سازگار ہیں۔ ان نازک حالات میں دونوں ملکوں کے نمائندوں کو ایسی بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہئے کیوں کہ ایسے حالات میں ایسے بیانات سوایے شرارت کے کچھ نہیں۔ (خالد ملک صاحب، آپ ایک ہی ای میل کو ہزاروں بار بھیجتے ہیں جس کی ضرورت نہیں، وقت نقصان ہوتا ہے، آپ کا بھی،ہمارا بھی: ایڈیٹر) عبدالباسط، فیصل آباد: میرے خیال میں یہ جو کچھ بھی ہوا برا ہوا۔ یاسین ملک کو یہ نہیں بتانا چاہئے تھا۔ اب اسلم بیگ نے اپنی سیاست چمکائی ہے۔۔۔۔ جاوید سوراٹھیا، شیکاگو: شیخ رشید نے جو کچھ بھی کیا وہ ہرپاکستانی کرتا، انڈیا نے بھی جو کچھ کیا وہ ہر انڈین کرتا۔ اب جب وقت آگیا ہے امن کا، مذاکرات کا اور دوستی کا تو پہلے کیا ہوا تھا اور کیا ہوچکا ہے وہ سب بھول جانا چاہئے۔۔۔۔ علی عمران شاہین، لاہور: شیخ رشید نے ٹریننگ کیمپ قائم کیے اور کشمیریوں کو ٹریننگ دی یا نہیں، اس کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا لیکن اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو وہ بالکل ٹھیک کرتا ہے کیوں کہ دنیا میں کیا ایک دوسرے کی مدد اور اتحاد اور کوئی نہیں کرتا؟ کیا امریکہ فلسطینیوں کے قاتل اسرائیل کو بالکل کھلے عام اور بدماشی کے ساتھ اس کی مدد نہیں کرتا؟۔۔۔ کریم خان، کینیڈا: لگتا ہے مشرف، شیخ رشید کو جمالی کی طرح کلین بولڈ کرنا چاہتے ہیں، اس لئے تو اسلم بیگ سے باؤلنگ کروارہے ہیں۔۔۔ شاہدہ اکرم، ابوظہبی: آپ کو نہیں لگتاکہ جس وقت بھی کوئی اچھا کام ہونے کو ہو تو اس میں کسی نہ کسی طرح سے رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ میرے خیال میں اس طرح کے بیانات کا ایسے وقت میں آنا ایک سوچا سمجھا پلان ہے۔ امن قائم کرنے کی کوششوں میں یہ سب کچھ ایک پتھر پھینک کر تماشہ دیکھنے کے مترادف ہے۔ اگر اس موقع پر بھی پاکستانی حکومت خاموش رہی تو اور بہت سے بیانات بھی آسکتے ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ امن کی کوششوں کے باوجود کشمیر میں ہونے والے تشدد کے واقعات میں زیادتی میں ان نادیدہ طاقتوں کا ہاتھ ہوسکتا ہے جو نہیں چاہتے کہ دونوں ملکوں کے لوگ امن کا راستہ اختیار کریں اور اس خطے میں لوگوں کو بھی سکھ کا سانس لینا نصیب ہو؟ شیخ رشید کے اوپر لگائے گئے الزام اگر درست بھی ہیں تو مجھے پھر بھی یاسین ملک صاحب سے اس بیان پر انتہائی افسوس ہوا ہے، کس قدر عجیب صورتحال پیدا کردی ہے انہوں نے اس بیان کی صورت میں ۔۔۔۔ شاہزیب خان، ایتھنز: میں تو صرف یہی کہوں گا کہ جنرل صاحب یہ بتائیں انہیں یہ خیال آج آرہا ہے کہ کیمپ چل رہے تھے؟ جاوید ایوب کشمیری، بیجنگ: شیخ رشید کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ٹریننگ کیمپ چلاتے رہے ہیں درست نہیں ہے کیوں کہ یاسین ملک بھی اس کی تردید کرچکے ہیں۔ دوسری بات اگر مرزا اسلم بیگ کو یہ پتہ تھا تو انہوں نے اس سے پہلے یہ کیوں چھپائے رکھا تھا، حالانکہ وہ آرمی چیف تھے۔۔۔۔ بابر راجہ، جاپان: یہ بڑے المیہ کی بات ہے کہ ہمارے ملک کی سیاست چمکانے کے لیے یہ لوگ ملک کو بدنام کرتے ہیں۔ ایسے بیان دینے سے اچھا ہے کہ ملک میں کوئی اچھا کام کریں، جس سے ملک کا نام ہو نہ کہ بدنامی۔ عاصف محمود، امریکہ: میرے خیال میں یاسین ملک نے یہ بیان دے کر اپنی ناپختگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہیں سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیئے۔ یاسین ملک کے بیان کو میڈیا نے ضرورت سے زیادہ توجہ دی۔ اس کے علاوہ مرزا اسلم بیگ کے بیان سے یہ پتا چلتا ہے کہ در اصل وہ بھی ایک سیاست دان ہی ہیں۔ مجھے امید ہے کہ اس کے بعد کشمیری رہنماء ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں گے۔ عرفان عنایت، پاکستان: ہو ہی نہیں سکتا۔ کوا کبھی ہنس کی چال چل ہی نہیں سکتا۔۔ جاوید اقبال ملک، چکوال، پاکستان: یاسین ملک اور مرزا اسلم بیگ، دونوں ہی انتہائی ذمہ دار لوگ ہیں اور دونوں نے ایک ایسے موقع پر بیان دیے ہیں کہ جب پاکستان اور انڈیا کے درمیان انتہائی اہم بات چیت جاری ہے اور پوری دنیا میں یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید ’مسئلہ کشمیر‘ بات چیت کے ذریعے حل ہو جائے۔ اب شیخ رشید کے حوالے سے اس طرح کے بیان آنا انڈیا اور پاکستان کے لیے ٹھیک نہیں ہے اور امن کی کوششوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ عطیق رحمان، لندن، برطانیہ: بدلتے ہوئے حالات میں سب کچھ بدل گیا ہے۔ کل جس پر شیخ صاحب کو فخر تھا آج اسی پر پشیماں ہیں۔ جب ایل کے اڈوانی صاحب پاکستان آ سکتے ہیں تو شیخ صاحب کیوں نہیں جا سکتے؟ شیخ صاحب تو اڈوانی سے زیادہ روشن خیالی کا دعوی رکھتے ہیں۔ محمد علی قریشی، پاکستان: اگر شیخ رشید نے عسکریت پسندوں کو کھانا کھلایا تو اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے بلکہ یہ تو اسلام میں ثواب کا کام ہے، آئے ہوئے مہمان کو کھانا کھلانا تو کوئی جرم نہیں۔ ہاں جہاں تک خیال ہے تربیت دینے کا تو میں خود راولپنڈی میں رہتا رہا ہوں۔ شیخ رشید کا ایک نام ہے سیاست میں اور راولپنڈی میں وہ اس قسم کا کام نہیں کر سکتے۔ ان کا کام اسمبلی میں بولنا ہے نہ کہ بارڈر پر یا کس مہم میں لڑنا۔ رؤف وارس، کویت: سب سے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسے وقت میں ایسے بیانات آنا بالکل غلط ہے کیونکہ جب امن کی کوششیں جاری ہیں اور ایسے الفاظ استعمال کیے جائیں گے تو کوئی بھی تلملا اٹھے گا۔ خیر اب دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلم بیگ صاحب کو اس وقت بیان دینے کی ضرورت کیوں آن پڑی؟ اگر انہوں نے کیمپ چلایا بھی ہے تو یہ کیوں بیچ میں آ گئے؟ یہ سب کرسی کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔ کسی کو انسانوں اور انسانیت کی قدر ہی نہیں ہے۔ اگر ہوتی تو یہ جو امن کی کوششیں ہو رہی ہیں ان کو انجام تک پہنچانے کی کوشش کرتے۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: پاکستانی لیڈرز کی ہی کرتوت اپنے اپنے مخصوص وقت پر ان کے قومی مفاد میں ہوتی ہے۔ یہ کارنامہ بھی انہی کرتوتوں کی کڑی ہوگا۔ پاکستان جتنا بھی جھکے انڈیا وہیں رہے گا۔ پاکستان یوں ہی خام خیالی میں ہیں۔ محمد فراز، کراچی، پاکستان: ارے جناب کیا سارا کچرا ایک سولین پر ڈال کر ہماری فوج کیا ثابت کر رہی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ کشمیری دہشت گرد کیمپ میں ٹریننگ کون دیتا تھا۔ اگر شیخ رشید کا یہ کیمپ تھا بھی تو اس میں ٹریننگ دینے والے کون تھے؟ واہ جناب واہ! ساری عمر افغان جنگ لڑی، نیوکلیئر ویپن کو بیچا، کشمیر میں جہاد کروایا اور وقت آنے پر سارا الزام دوسروں پر ڈال دیا۔ پرویز اختر، اومان: اللہ سب کو ہدایت دے۔ جو بھی شیخ رشید کے خلاف جو کچھ کہہ رہا ہے یہ صرف شیخ رشید کو داغدار کرنا چاہتے ہیں۔ رشید سِوِل آدمی ہے، ٹریننگ دینا آرمی کا کام ہے۔ دوسرا، رشید کے پاس اتنے ذرائع نہ ابھی ہیں نہ پہلے ہونگے۔ یہ صرف ان کی امیج خراب کرنے اور پیس پروسیس کو روکنے کے لیے ہماری رٹایئرڈ آرمی چیف کر رہے ہیں۔ اللہ کے لیے انڈیا اور پاکستان کی دوستی ہونے دیں۔ کم سے کم اب تو خاموش ہو جائیں۔ کس لیے اپنے ملک اور اپنی قوم کے خلاف باتیں کرتے ہیں؟ عاصف علی، کراچی، پاکستان: اگر یہ سب سچ ہے تو شاید یہ شیخ رشید کی زندگی کا سب سے اچھا کام ہوگا۔ افسوس ہے یاسین ملک پر، جس نے پناہ دی اسی کو ڈس لیا۔ احسان فراموشی کی بھی حد ہے۔ اور مرزا اسلم بیگ کو تو خبروں میں رہنے کا بہانا چاہیئے۔ قادر سید، کینیڈا: بی بی سی کو وہ ویڈیو کلپ حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے جس میں شیخ رشید نے کہا تھا کہ کشمیر دو یا تین سال میں آزاد ہو جائے گا۔ عمیر خالد، لاہور، پاکستان: کیا یہ سب ایک منصوبے کے تحت نہیں کیا جا رہا؟ اس سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے؟ جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات معمول پر آنے لگتے ہیں تو یہ کون سی طاقت ہے جو اس میں خلل ڈالتی ہے؟ اس سب میں کس کا مفاد ہے؟ کون ہے جو نہیں چاہتا کہ کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے؟ گڑے مردے اکھاڑنے سے کون فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ حمد بخاری، فیصل آباد، پاکستان: ایک قدم آگے۔۔دو قدم پیچھے۔۔۔ ریاض فاروقی، دبئی: سب سے پہلے تو یہ کوئی انکشاف نہیں ہے۔ ساری دنیا کو پتا ہے کس نے کیا کیا ہے، اور ابھی تو یہ سلسلہ شروع ہوا ہے۔ آگے آگے دیکھیئےہوتا ہے کیا۔ جے کے ایل ایف کے ایک رہنماء امان اللہ خان نے بھی آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے اور اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام ہیں، جو کہ وقت کے ساتھ ساتھ آشکار ہونگے۔ |