BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 March, 2006, 15:45 GMT 20:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شناختی کارڈ، کشمیر اور ڈرامہ

’شناختی کارڈ‘
’شناختی کارڈ‘ کے ڈرامہ نگار و ہدایت کار محمد امین بھٹ
’گزشتہ سولہ برسوں سے جاری شورش کے نتیجے میں بھارت کے زیر اتنظام جموں و کشمیر میں ایک عام آدمی کے لیے سب سے قیمتی دستاویز شناختی کارڈ ثابت ہوا ہے۔ جس کی عدم موجودگی کامطلب ایک زندہ آدمی کے لئے موت بھی ہو سکتی ہے‘۔

اسی صورت حال کی عکاسی سرینگر شہر کے ٹیگور ہال میں اسٹیج پر دکھائے گئے ڈرامے بعنوان ’شناختی کارڈ‘ میں کی گئی ہے۔ کشمیر میں ہر آدمی گھر سے باہر نکلنے سے پہلے اگر کسی بات کو یقینی بنانے کی سعی کرتا ہے تو وہ ہے اس کا شناختی کارڈ کا جیب میں ہونا۔

’شناختی کارڈ‘ کے ڈرامہ نگار و ہدایت کار محمد امین بھٹ نے تھیٹر کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ڈرامہ کے بارے میں کہا کہ کوئی بھی آرٹسٹ اپنے ارد گرد کی صورتحال سے منہ نہیں موڑ سکتا، ’یہ ڈرامہ دراصل میرے ذاتی مشاہدات کے نتیجہ میں وجود میں آیا‘۔

کشمیر میں شناختی کارڈ کے بغیر کوئی شخص اپنی سچائی ثابت نہیں کر سکتا۔

ڈرامے کا ایک اہم کردار شریف الدین شہری ہے۔ شریف الدین ایک سرکاری ملازم ہے جو سرینگر پائین شہر کے ایک کچّے مکان میں رہتا ہے ۔ اپنی تنخواہ پر گھر چلانا ایمان دار شریف الدین کے لیے بہت مشکل کام ہے۔ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر شریف کا معمول ہر صبح اپنے دفتر جاتا اور شام کو گھر لوٹنا ہے۔

شناختی کارڈ اور کشمیر
سرینگر میں دکھائے گئے اسٹیج ڈرامے ’شناختی کارڈ‘ کا ایک منظر

ہر روز کی طرح شریف اپنے گھر سے نکلتا ہے اور ایک جیب کترا اس کا شناختی کارڈ اور چالیس روپے چرا لیتا ہے۔ کارڈ نہ ہونے کے سبب شریف کو اس کے دفتر کے اندر داخل نہیں ہونے دیا جاتا ہے۔ شناختی کارڈ کے گم ہونے سے گویا وہ اپنی ’شناخت‘ ہی کھو چکا ہے۔ اسی اثناء میں جیب کترا ایک سڑک حادثے میں لقمہ اجل بن جاتا ہے۔ اس کی شناخت چہرے کے مسخ ہو جانے کے سبب ممکن نہیں ہو پاتی ہے۔

لیکن اس کے قبضے سے شریف کا شناختی کارڈ برآمد ہو جاتا ہے۔ اور پولیس اور شریف کے گھر والے یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شریف ہی ہلاک ہو گیا ہے۔ گھر میں صف ماتم بچھ جاتی ہے۔ اسی بیچ جب شریف گھر پہنچتا ہے تو اس کے اپنے گھر والے بھی اسے زندہ ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ شریف کسی کو بھی اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینے میں ناکام ہو جاتا ہے کیونکہ اس کا شناختی کارڈ گم ہو گیا ہے۔ بالآخر اس صوتحال سے تنگ آکر شریف خود کو زندہ درگور کرنا ہی بہتر سمجھتا ہے۔

اسی بارے میں
کشمیر میں فوج کی بھرتی
07 March, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد