BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 July, 2006, 13:40 GMT 18:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ابھی کچھ نہیں کہیں گے: شیوراج پاٹل

شیوراج پاٹل کا کہنا تھا کہ ممبئی دھماکوں سے متعلق حکومت کے پاس بہت سی اطلاعات ہیں
انڈیا کی حکومت کا کہنا ہے کہ ممبئی بم دھماکوں کی تفتیش تیزی سے جاری ہے لیکن ابھی تک کوئی حتمی سراغ نہیں ملا ہے۔

حکومت نے امید ظاہر کی ہے کہ پولیس بہت جلد مجرموں کو گرفتار کرنے میں کامیاب ہوجائےگی۔

ممبئی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد دارالحکومت دلی میں وزیرداخلہ شیوراج پاٹل نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ حکومت کے پاس بہت سی اطلاعات ہیں لیکن جب تک تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی وہ کچھ بھی نہیں کہیں گے۔

ان کا کہنا تھا ’اگر ہم کچھ کہتے ہیں تو پولیس اور تفتیش کرنے والے حکام کے کام میں خلل پڑ سکتا ہے اسی لیے ہم ابھی کچھ نہیں بتائیں گے کہ کون اس کا ذمہ دار ہے اور کون نہیں‘۔

پریس کانفرنس میں اس سوال پر کہ کیا آپ پاکستان کو ان حملوں کا ذمہ دار نہیں مانتے تو انہوں نے کہا’یہ آّپ سے کس نے کہا؟۔ اسے آپ اپنے پاس ہی رکھیۓ‘۔

اگر ہم کچھ کہتے ہیں تو پولیس اور تفتیش کرنے والے حکام کے کام میں خلل پڑ سکتا ہے اسی لیے ہم ابھی کچھ نہیں بتائیں گے کہ کون اس کا ذمہ دار ہے اور کون نہیں
شیوراج پاٹل

ان کا کہنا تھا’ہم اس معاملے سے پوری طرح نمٹیں گے‘۔

سیکرٹری داخلہ وی کے دگل نے کہا کہ’ دھماکوں کی شام سے ہی تفتیشی ایجنسیاں تیزی سے تحقیقات میں مصروف ہیں لیکن دھماکوں کے متعلق ابھی کوئی حتمی سراغ نہیں ملا ہے۔ ممبئی پولیس کو امید ہے کہ وہ بہت جلد مجرموں کو گرفتار کرلے گی‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس حوالے سے کسی بھی گروپ نے اب تک ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

مسٹر دگل نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے سے یہ بات صاف ہوگئی ہے کہ دھماکے بہت طاقتور تھے۔ ’ابھی تک فورنسک رپورٹ نہیں آئی ہے لیکن دھماکوں کی شدت سے لگتا ہے کہ آر ڈی ایکس کا بھی استعمال کیا گيا ہوگا‘۔

ایک سوال کے جواب میں مسڑ دگل نے کہا کہ سری نگر اور ممبئی کے دھماکوں میں ظاہری طور پر کوئی یکسانیت نہیں ہے کیونکہ ایک جگہ گرینڈ سے حملے ہوئے ہیں تو دوسری جگہ طاقت ور بم استعمال کیئےگئے ہیں لیکن دونوں کا مقصد ایک ہے کہ سماج میں کسی طرح افرا تفری کا ماحول پیدا کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد