BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
183 ہلاک، 750 زخمی: ریڈ الرٹ، تحقیقات جاری
منگل کو ہزاروں افراد ممبئی شہر میں پھنس کر رہ گئے کیونکہ شہر میں مواصلاتی نظام درہم برہم ہو کے رہ گیا تھا

ممبئی میں گزشتہ روز ٹرین نیٹ ورک پر سات تباہ کن بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک سو تراسی تک پہنچ گئی ہے اور سینکڑوں افراد زخمی ہیں۔ ادھر پولیس نے ان دھماکوں کے ذمہ ادار افراد کی گرفتاری کے لیئے ابتدائی چھاپے بھی مارے ہیں اور اعلیٰ ترین سطح پر تحقیقات شروع ہوگئی ہیں۔

مہاراشٹر میں وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ منگل کے حملوں میں تقریباً سات سو کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ادھر جوائنٹ پولیس کمشنر ارون پتنائک نے بی بی سی کو بتایا کہ زخمیوں کی تعداد 750 کے قریب ہے۔ وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کے ترجمان کے مطابق ایک سو ستائیس لاشوں کو شناخت کر لیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق اب تک 127 لاشوں کی شناخت کر لی گئی ہے

دھماکوں کے بعد ریاست اتر پردیش میں حفاظتی اقدامات کے تحت ریڈ الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے ملک کی ریاستوں مہارشٹرا اور اتر پردیش میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

پولیس نے بتایا ہے کہ انتہائی اعلیٰ سطح پر بم دھماکوں کی تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے اور کچھ ابتدائی سراغ بھی ہاتھ لگے ہیں۔ سراغ رساں کتوں کی مدد سے ماہرین ٹرینوں کے ملبے کی چھان بین کر رہے ہیں۔

پولیس کی مختلف ٹیمیں جنہیں خفیہ اداروں کا تعاون حاصل ہے، دھماکے کرنے والوں کی تلاش میں ہیں۔ ماہرین نے ان تمام مقامات کا دورہ کیا ہے جہاں گزشتہ روز دھماکے کیئےگئے تھے اور تحقیقات کو آگے بڑھانے کے لیئے مواد اکٹھا کیا ہے۔

مبمبئی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک و زخمی ہونے والوں کے لواحقین ابھی تک شہر میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ہسپتالوں مریضوں سے بھرے پڑے ہیں اور افراتفری کا عالم ہے۔

تاہم ہماری نامہ نگار ریحانہ بستی والا نے ممبئی کے کچھ حصوں میں دیکھا کہ جہاں لوگوں میں خوف کے آٰثار ہیں وہیں درجنوں افراد اشیائے خورد و نوش لے کر سڑکوں پر متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔

کسی نے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری تا حال قبول نہیں کی۔

دھماکوں کے بعد ریاست اتر پردیش میں ریڈ الرٹ کا اعلان ہوگیا ہے

ممبئی میں بی بی سی کے نامہ نگار زبیر احمد کے مطابق کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن کسی کو باقاعدہ گرفتار نہیں کیا گیا۔

ابتدائی طور پر کسی نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ بھارتی حکومت کی طرف سے بھی کسی تنظیم کا نام نہیں لیا گیا اور ماضی کے برعکس اس بار وہ بہت محتاط ہیں۔

بم دھماکوں کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنے لاپتہ ہو جانے والے لواحقین کی تلاش میں ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ممبئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی لوگوں کی لاشوں کی شناخت بھی نہیں ہو سکی۔

ممبئی میں ایک صحافی انومیہا یادو کے مطابق ڈاکٹر آپریشن کر رہے ہیں۔ زخمیوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے ٹرینوں سے کودنے کی وجہ سے ہاتھوں یا پیروں پر چوٹیں آئی ہیں۔

ممبئی بم دھماکوں کا ایک زخمی

ممبئی میں ریلوے کا نظام دنیا کے بڑے ریلوے نظاموں میں سے ایک ہے جس پر ہر روز تقریباً ساٹھ لاکھ افراد سفر کرتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہونے کی وجہ سے رات گئے تک بے شمار افراد شہر میں پھنسے رہے۔ ممبئی میں شدید بارش کی وجہ سے بھی امدادی کاموں میں مشکلات پیش آئیں۔

نامہ نگار زبیر احمد کا کہنا ہے کہ ممبئی میں ریلوے کی کچھ سروس بحال کر دی گئی ہے اور حکام کے مطابق بدھ کی دوپہر تک دو تہائی ٹرینیں چلنا شروع کر دیں گی۔

اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ کھار اور سینٹاکروز کے درمیان ایک مقامی ٹرین میں ہوا۔ اس دھماکے میں ٹرین کا ایک پورا ڈبہ تباہ ہوگیا۔

دوسرا دھماکہ میرا روڈ اور بھینڈر کے درمیان ایک لوکل ٹرین میں ہوا۔ اس کے بعد جوگیشوری، ماھم اور بوریویلی میں ٹرین سٹیشنوں پر دھماکے ہوئے۔

ہپستالوں کے باہر لوگوں کا ہجوم تھا جہاں لوگ اپنے اقرباء کی تلاش میں آئے تھے

حکومت نے متاثرین کو اطلاع کی فوری فراہمی کے لیئے امدادی لائنز بھی قائم کی ہیں جن کے نمبر یہ ہیں۔

ممبئی: 22005388 (022)
کوپر ہسپتال: 26207254, 26207256
ہندوجا ہسپتال: 24451515, 24452222

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد