احمد آباد:’ٹِفن‘ دھماکوں میں سزا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی مغربی ریاست گجرات میں ایک عدالت نے سنہ دو ہزار دو میں احمدآباد کی بسوں پر دھماکے کرنے کے الزام میں پانچ مسلمانوں کو مجرم پایا ہے اور انہیں دس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ جمعہ کی شام کو دیے جانے والے اس فیصلے میں عدالت نےبارہ اور ملزموں کو بری کر دیا۔ لیکن وکیل صفائی سمیر شیخ کا کہنا ہے کہ بری ہونے والے ان بارہ افراد میں سے صرف پانچ کو رہا کیا جائے گا کیونکہ باقی سات افراد پر انسداد دہشت گردی قانون ’پوٹا‘ کے تحت ریاست کے وزیر داخلہ ہرن پانڈیا کے سنہ 2003 میں قتل اور پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی مدد سے ریاست میں شدت پسند کارروائیاں کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ انتیس مئی سنہ 2002 میں احمد آباد میں پانچ بسوں پر بم دھماکے ہوئے تھے، جن میں کوئی ہلاکتیں نہیں ہوئیں لیکن تیرہ افراد زخمی ہوئے۔ ہہ بم ٹِفن کے ڈبوں کے اندر نصب تھے جو کہ بس میںسیٹ کے نیچے رکھے گئے تھے۔ | اسی بارے میں گجرات میں دھماکے: دس زخمی29.05.2002 | صفحۂ اول گجرات:11 افراد کو عمر قید14 December, 2005 | انڈیا فسادات: رپورٹ سپریم کورٹ میں12 February, 2004 | آس پاس ’مسلمانوں پر مظالم بند کیے جائیں‘12 October, 2003 | آس پاس ’فسادات میں گجرات حکومت ملوث تھی‘31.05.2002 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||