دھماکوں کی بین الاقوامی مذمت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کے روز ممبئی کی ٹرینوں میں ہونے والے بم دھماکوں کی امریکہ، پاکستان، برطانیہ، افغانستان، چین اور سری لنکا سمیت کئی ممالک اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے دھماکوں کی مذمت کی اور ہندوستان کے عوام کو ایک تعزیتی پیغام بھیجا۔ کوفی عنان نے کہا کہ ممبئی میں دھماکوں اور سرینگر میں گرینڈ حملوں سے ’دہشت گردی کی ہر شکل و صورت میں شکست کے لیے تمام ممالک کی جانب سے ایک مشترکہ کارروائی کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔‘ اپنے ترجمان کے ذریعے جاری ایک بیان میں عنان کا کہنا تھا کہ اس طرح کی کارروائی کی ’چاہے جس نے بھی کی، جب بھی کی، جہاں بھی کی ہو، اور چاہے جس مقصد کے لیے کی ہو‘ شکست ضروری ہے۔ حکومتِ پاکستان نے دھماکوں کے فوری بعد اس کی مذمت کی ہے۔ اسلام آباد میں دفتر خارجہ کی جانب سے فوری طور پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ ’دہشت گردی اس دور کی ایک نحوست ہے جس کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہیے اور اسے موثر انداز میں روکنے کی ضرورت ہے۔‘ جارج بش نے کہا: ’اس طرح کی کارروائیوں سے بین الاقوامی برادری کا عزم مزید مضبوط ہوتا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہوں اور واضح طور پر اعلان کریں کہ معصوم لوگوں کے نفرت آمیز قتل کا کوئی جواز نہیں۔‘ برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر نے بدھ کے روز ایوان زیریں یعنی ہاؤس آف کامنز میں ان حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ دنیا کی حکومتیں ’دہشت گردی کا خاتمہ کریں چاہے جہاں بھی یہ موجود ہو۔‘ افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے ایک بیان میں کہا کہ افغان عوام کی ہمدردیاں ہندوستان کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ صدر کرزئی نے کہا: ’افغان دہشت گردی کا کئی برسوں تک شکار رہے اور دہشت گردی کی وجہ سے ہونے والے دکھ اور درد کو سمجھتے ہیں۔‘ صدر پوتن نے کہا: ’ہم گیارہ جولائی کو بمبے کے ریل نیٹ ورک میں ہونے والے دھماکوں میں معصوم لوگوں کی ہلاکتوں اور جموں و کشمیر میں ہلاکتوں کے بارے میں سن کر صدمے میں ہیں۔‘ چین کے صدر ہُو جِنتاؤ نے حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ان کی حکومت ’دہشت گردی، چاہے جس شکل میں ہو، اس کے خلاف ہے۔‘ ہُو جِنتاؤ نے کہا کہ چین ’بین الاقوامی برادری اور انڈیا کے ساتھ مل کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے تیار ہے تاکہ علاقائی اور عالمی امن اور استحکام کو یقینی بنایا جاسکے۔ سری لنکا کے صدر مہِندا راجاپکسے نے دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کے خلاف متحد ہو۔ انہوں نے کہا کہ دھماکوں ’سے اس ضرورت کی طرف ہماری توجہ جاتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے تمام ممالک تعاون کریں۔‘ |
اسی بارے میں ممبئی میں دھماکے: ایک سو پچھتر ہلاک11 July, 2006 | انڈیا سرینگر: پانچ دھماکے،آٹھ ہلاک11 July, 2006 | انڈیا 183 ہلاک، 750 زخمی: ریڈ الرٹ، تحقیقات جاری12 July, 2006 | انڈیا چھاپے مگر ’ابھی سراغ نہیں‘12 July, 2006 | انڈیا مشرف کارروائی کریں: انڈیا12 July, 2006 | انڈیا بھارت: پولیس چوکس، ملزموں کی تلاش جاری12 July, 2006 | انڈیا حملے کی اطلاع تھی یا نہیں؟12 July, 2006 | انڈیا ممبئی دھماکوں کے اگلے روز12 July, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||