BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 July, 2006, 14:12 GMT 19:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی دھماکے: ذمہ دار کون؟

ممبئی میں سکیورٹی
ممبئی اب گیارہ جولائی کے دھماکوں کی گونج سے دو چار ہے
ہندوستان کے صنعتی شہر ممبئی میں تقریباً ایک کروڑ ستر لاکھ لوگ رہتے ہیں اور یہ شہر ملک کا تجارتی دارالحکومت کہلاتا ہے لیکن اب یہ شہر گیارہ جولائی کے دھماکوں کی گونج سے دو چار ہے۔

منگل کی رات کو سلسلہ وار دھماکوں کے بعد اب پورا شہر سکتے میں ہے اور ہر شخص کے دماغ میں ایک ہی سوال آ رہا ہے کہ آخر ان دھماکو کا ذمہ دار کون ہے؟

سنہ 1993 میں بھی ممبئی میں کئی بم دھماکے ہوئے تھے جن میں کم از کم دو سو پچاس افراد ہلاک ہوئے۔ ان واقعات کے پیچھے شہر کے انڈر ورلڈ اور کچھ شدت پسند اسلامک گروپوں کے ہاتھ ہونے کا اندیشہ تھا اور ممکن ہے کہ حالیہ دھماکوں میں بھی ان ہی لوگوں کا ہاتھ ہو تاہم ابھی کچھ بھی کہنا مناسب نہیں ہو گا۔

منگل کی رات ہونے والے سارے دھماکے ٹرینوں میں ہوئے اور وہ بھی ’فرسٹ کلاس‘ کے ڈبوں میں۔ اس سے اس بات کا بھی اندیشہ ہوتا ہے کہ یہ سماجی یا معاشی شکایتوں کی وجہ سے کیا گیا۔ دھماکے ویسٹرن ٹریک پر چلنے والی ٹرینوں میں ہوئے۔ ممبئی کے ویسٹرن ٹریک پر ریلیں سب سے تیز رفتار سے چلتی ہیں اور شہر کے مضافات سے بڑے بڑے تاجروں کو بزنس علاقوں تک پہنچاتی ہیں۔

ہندوستان کے ذرائع ابلاغ میں خبریں آرہی ہیں کہ دھماکوں کے پیچھے عسکریت پسند گروپ لشکر طیبہ کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ حال ہی میں لشکر طیبہ نے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں کئی بڑے دھماکے کیئے ہیں اور ہندوستان کی ديگر ریاستوں میں ہونے والے بڑے دھماکوں کے پیچھے بھی اسی کا ہاتھ بتایا گیا ہے۔ سنہ 2000 میں ہندوستان کے دارالحکومت دلی کی پارلیمنٹ پر ہونے والے تاریخی حملے کے پیچھے بھی لشکر طیبہ کا ہاتھ بتایا گیا تھا۔

فی الوقت ملک بھر میں ان دھماکوں پر تذکرے ہو رہے ہیں۔ لیکن ایسے وقت میں حکومت کسی بھی گروپ پر ان کا الزام لگانے کے بجائے امن و امان قائم کرنے میں مصروف ہے۔ تاریخی طور پر ممبئی شہر فرقہ وارانہ فسادات کے لیۓ جانا جاتا ہے لہذا اگر حکو مت کا رویہ ذمہ دارانہ نہ رہا تو شہر میں فرقہ ورانہ فسادات کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

حکومت بار بار عوام سےامن و امان قائم کرنے کی اپیل کر رہی ہے اور ابھی تک کسی بھی شدت پسند گروپ پر دھماکوں کا الزام نہیں لگا رہی ہے۔

دھماکوں کے ایک دن بعد حکومت اور انتظامیہ کی پوری توجہ حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے لوگوں کو راحت پہچانے پر ہے۔

ساتھ ہی اس بات کی تفتیش کی جارہی ہے کہ حملوں کا ذمہ دار کون ہے اور اس کے پیچھے مقصد کیا تھا؟

ممبئیآپ نے کیا دیکھا؟
ممبئی میں لوکل ٹرینوں پر دھماکے
ممبئی میں تباہی
ٹرینوں پر بم دھماکے: خصوصی ضمیمہ
مسافرممبئی میں دوسرا دن
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد