BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 July, 2006, 22:43 GMT 03:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھاپے مگر ’ابھی سراغ نہیں‘
ممبئی دھماکے
دھماکوں میں زخمی ہونے والی ایک خاتون دکھشہ مودی ہسپتال میں علاج کے انتظار میں

انڈیا میں حکومت کا کہنا ہے کہ ممبئی بم دھماکوں کی تفتیش تیزی سے جاری ہے لیکن ابھی تک کوئی حتمی سراغ نہیں ملا ہے۔ حکومت نے کسی ایسے خاص گروہ کا نام لینے سے بھی گریز کیا ہے جس پر دھماکوں کا شبہ ہے۔

ادھر انڈین وزیرِ اعظم منموہن سنگھ نے بدھ کی شب قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب میں کہا ہے کہ ’کوئی بھی انڈیا کو جھکا نہیں سکتا‘۔


ممبئی میں منگل کو ہونے والے ٹرین دھماکوں میں اب تک کم از کم دو سو کے قریب افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سات سو سے زائد زخمی بتائے جاتے ہیں۔

بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار نے وزیر داخلہ شیوراج پاٹل سے جب یہ سوال پوچھا کہ کیا آپ پاکستان کو ان حملوں کا ذمہ دار نہیں مانتے تو انہوں نے کہا ’یہ آّپ سے کس نے کہا ؟ اسے آپ اپنے پاس ہی رکھیۓ۔‘

پریس کانفرنس کے دوران داخلہ سیکرٹری وی کے دگل نے کہا کہ ’گزشتہ شام سے ہی تفتیسی ایجنسیاں تیزی سے تفتیش میں لگی ہیں لیکن دھماکوں کے متعلق ابھی کوئی حتمی سراغ نہیں ملا ہے۔‘

پولیس نے ممبئی اور گرد و نواح میں کئی مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ تاہم ابھی تک کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا۔

منگل کو ممبئی کے ٹرین نیٹ ورک کو سات دھماکوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کے بعد شہر میں زندگی معطل ہو کر رہ گئی تھی اور سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے تھے۔

پاکستان نے ممبئی میں ہونے والے دھماکوں کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔

ممبئی کے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد دارالحکومت دلی میں وزیرداخلہ شیوراج پاٹل نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ حکومت کے پاس بہت سی اطلاعات ہیں لیکن جب تک تفتیش مکمل نہیں ہو جاتی وہ کچھ بھی نہیں کہیں گے۔’اگر ہم کچھ کہتے ہیں تو پولیس اور تفتیش کرنے والے حکام کے کام میں خلل پڑ سکتا ہے اسی لیے ہم ابھی کچھ نہیں بتائیں گے کہ کون اسکا ذمہ دار ہے اور کون نہیں۔‘

پاکستان نے ان دھماکوں کی مذمت کی ہے جبکہ حزب المجاہدین اور لشکرِ طیبہ نے ان دھماکوں سے لاتعلقی کا اعلان کیا ہے۔ تاہم انڈیا میں وزراتِ خارجہ کے جونئر وزیر آنند شرما نے کہا ہے کہ پاکستان کو متہم کیئے بغیر کہا ہے کہ اسلام آباد کو چاہیئے کہ وہ ’سرگرم تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے۔‘

مہاراشٹر کے نائب وزیرِ اعلیٰ آر آر پٹیل نے ریاستی اسمبلی کو ٹرین کے ملبے سے اب تک دو سو لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ کے دفتر کے ایک ترجمان نے بھی بی بی سی کو بتایا ہے کہ منگل کے حملوں میں تقریباً سات سو کے قریب افراد زخمی ہوئے ہیں۔ ترجمان کے مطابق ایک سو ستائیس لاشوں کو شناخت کر لیا گیا ہے۔

دھماکوں کے اگلے ہی دن ممبئی والے ٹرینوں پر واپس

دھماکوں کے بعد ریاست اتر پردیش میں حفاظتی اقدامات کے تحت ریڈ الرٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ پولیس نے ملک کی ریاستوں مہارشٹرا اور اتر پردیش میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔

پولیس نے بتایا ہے کہ انتہائی اعلیٰ سطح پر بم دھماکوں کی تحقیقات کا آغاز ہو چکا ہے اور کچھ ابتدائی سراغ بھی ہاتھ لگے ہیں۔ سراغ رساں کتوں کی مدد سے ماہرین ٹرینوں کے ملبے کی چھان بین کر رہے ہیں۔

تاہم بدھ کے روز ممبئی کی ٹرینیں جن پر تقریباً ساٹھ لاکھ افراد سفر کرتے ہیں مسافروں سے ایک بار پھر بھری ہوئی نظر آئیں۔

باندرہ سٹیشن پر حادثے کا شکار ہونے والی ٹرین کے ایک مسافر براشانت سنگھ کا کہنا ہے کہ ’میں آج بھی ٹرین پر جاؤں گا۔ میں موت سے نہیں ڈرتا‘۔

نامہ نگاروں کے مطابق ممبئی کے ہسپتالوں کے سامنے مریضوں کو خون دینے کے لیئے سینکڑوں مسلمان بھی نظر آئے۔

مبمبئی میں موجود بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک و زخمی ہونے والوں کے لواحقین ابھی تک شہر میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔

تاہم ہماری نامہ نگار ریحانہ بستی والا نے ممبئی کے کچھ حصوں میں دیکھا کہ جہاں لوگوں میں خوف کے آٰثار ہیں وہیں درجنوں افراد اشیائے خورد و نوش لے کر سڑکوں پر متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کر رہے ہیں۔

کسی نے ان بم دھماکوں کی ذمہ داری تا حال قبول نہیں کی۔

لوگ اشیائے خورد و نوش لے کر سڑکوں پر متاثرہ خاندانوں میں تقسیم کرتے رہے

ممبئی میں بی بی سی کے نامہ نگار زبیر احمد کے مطابق کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے لیکن کسی کو باقاعدہ گرفتار نہیں کیا گیا۔

ابتدائی طور پر کسی نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ بھارتی حکومت کی طرف سے بھی کسی تنظیم کا نام نہیں لیا گیا اور ماضی کے برعکس اس بار وہ بہت محتاط ہیں۔

بم دھماکوں کے بعد بڑی تعداد میں لوگ اپنے لاپتہ ہو جانے والے لواحقین کی تلاش میں ہسپتالوں کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ ممبئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق کئی لوگوں کی لاشوں کی شناخت بھی نہیں ہو سکی۔

ممبئی میں ایک صحافی انومیہا یادو کے مطابق ڈاکٹر آپریشن کر رہے ہیں۔ زخمیوں میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن کے ٹرینوں سے کودنے کی وجہ سے ہاتھوں یا پیروں پر چوٹیں آئی ہیں۔

رات گئے تک بے شمار افراد شہر میں پھنسے رہے۔

ممبئی میں ریلوے کا نظام دنیا کے بڑے ریلوے نظاموں میں سے ایک ہے جس پر ہر روز تقریباً ساٹھ لاکھ افراد سفر کرتے ہیں۔

ہمارے نامہ نگاروں کے مطابق ٹرینوں کی آمد و رفت معطل ہونے کی وجہ سے رات گئے تک بے شمار افراد شہر میں پھنسے رہے۔ ممبئی میں شدید بارش کی وجہ سے بھی امدادی کاموں میں مشکلات پیش آئیں۔

نامہ نگار زبیر احمد کا کہنا ہے کہ ممبئی میں ریلوے کی کچھ سروس بحال کر دی گئی ہے اور حکام کے مطابق بدھ کی دوپہر تک دو تہائی ٹرینیں چلنا شروع کر دیں گی۔

اطلاعات کے مطابق پہلا دھماکہ کھار اور سینٹاکروز کے درمیان ایک مقامی ٹرین میں ہوا۔ اس دھماکے میں ٹرین کا ایک پورا ڈبہ تباہ ہوگیا۔

دوسرا دھماکہ میرا روڈ اور بھینڈر کے درمیان ایک لوکل ٹرین میں ہوا۔ اس کے بعد جوگیشوری، ماھم اور بوریویلی میں ٹرین سٹیشنوں پر دھماکے ہوئے۔

ہپستالوں میں لوگ اپنے اقرباء کی تلاش میں آئے تھے

حکومت نے متاثرین کو اطلاع کی فوری فراہمی کے لیئے امدادی لائنز بھی قائم کی ہیں جن کے نمبر یہ ہیں۔

ممبئی: 22005388 (022)
کوپر ہسپتال: 26207254, 26207256
ہندوجا ہسپتال: 24451515, 24452222

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد