BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 July, 2006, 11:31 GMT 16:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی دھماکے: ذرائع ابلاغ میں تذکرے

انڈین اخبارات
بیشتر اخبارات کے اداریوں میں حکومتی ناکامی پرتنقید کی گئی ہے
منگل کو ہونے والے ممبئی بم دھماکوں میں تقریبا دو سو لوگ ہلاک اور کم از کم سات سو پچاس زخمی ہوئے ہیں۔ ان حملوں نے پورے ملک کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ آخر ان حملوں کے پیچھے کیا مقاصد تھے اور کب تک انڈیا ان حملوں سے لڑتا رہے گا۔

ملک کے ذرائع ابلاغ میں ممبئی بم دھماکوں کے تذکرے چھا‎ ئے ہوئے ہیں۔ ہر طرح سے یہ سمجھنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ حملوں کی وجوہات کیا ہو سکتی ہیں، حکومت کہاں ناکام رہی کہ ان حملوں کی زد میں معصوم عوام آئے۔

بیشتر اخبارات کے اداریوں میں ممبئی کے عوام کا ان حملوں کی بہادری سے سامنا کرنے کی تعریف جبکہ حکومت کی ناکامی پر تنقید کی گئی ہے۔

انگریزي اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ 1993 میں بھی ممبئی میں بم دھماکے ہوئے تھے جس سے پورا شہر دہل گیا تھا۔ اس کے بعد ممبئی میں سنہ 1997، 1998 ، 2002، 2003 اور اس کے بعد اب یہ دھماکے ہوئے ہیں۔ ان واقعات میں کئی سو لوگ اپنی جان کھو چکے ہیں لیکن جو بات قابل تعریف ہے وہ یہ کہ ممبئی کے عوام کا جذبہ نہیں ٹوٹا ہے۔ ممبئی میں فرقہ وارانہ فسادات بھی ہوئے ہیں لیکن ممبئی کے عوام نے اپنے نرالے انداز میں زندگی جینی نہیں چھوڑی ہے۔

اخبار کے مطابق ایسا نہیں ہے کہ ممبئی کے لوگوں کو دھماکوں سے خوف محسوس نہیں ہوتا یا وہ ہر دن ریل گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے بم کے خدشات کے بارے میں نہیں سوچتے۔

اخبارات نے ممبئی بم دھماکوں کے پس منظر پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے

وہ زندگی اپنے انداز سے جیتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ جن ریل گاڑیوں میں وہ سفر کرتے ہیں ان میں بم کا پتہ کرنے کے سینسرز نہیں ہوسکتے یا پھر ان گاڑیوں میں مسافروں کی تعداد کم نہیں کی جا سکتی یا ان مسافروں کی زندگی کا’انشورنس‘ نہیں کیا جا سکتا؟ انہیں یہ سارے سوال پوچھنے کا پورا حق ہے۔

انگریزي اخبار ’ہندوستان ٹائمز‘ میں سی پی آئی ایم کے ایک سینئر رہنما سیتا رام یچوری نے لکھا ہے کہ ممبئی اور سری نگر میں ہونے والے حملے یہ بتاتے ہیں کہ ہماری کمزوریاں کیا ہیں لیکن جس بہادری سے ممبئی کے عوام نے ان حملوں کا سامنا کیا ہے وہ تعریف کے قابل ہے۔ ان کے مطابق حملہ آور ہندوستان کی ترقی نہیں چاہتے ہیں۔

یچوری نے لکھا ہے کہ ان حملوں کے بعد بی جے پی اور آر آر ایس کے بیانات دو طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ یہ حملے متحدہ ترقی پسند محاذ حکومت کی اقلیتوں سے ہمدردی اور انسداد دہشت گردی قانون یعنی ’پوٹا‘ کو ختم کرنے کا نتیجہ ہیں لیکن یہ غلط ہے کیونکہ انڈیا میں حملے اس وقت بھی ہوئے تھے جب پوٹا قانون نافذ تھا اور اقلیتوں سے ہمدردی نہ رکھنے والی این ڈی اے کی حکومت اقتدار میں تھی۔

انہوں نے لکھا ہے کہ دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہندوستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں امریکہ سے زیادہ اپنے مفاد کے بارے میں سوچنا ہوگا۔

انگریزی اخبار ’دی ہندو‘ میں لکھا ہے کہ مرکزی حکومت کو گھریلو خفیہ اور تفتیشی اداروں کی سروسز میں جدیدیت اور تبدیلی کی ضرورت ہے۔

 اس وقت یہ جان لینا ضروری ہے کہ ’دہشت گردی‘ پھیلانے والے لوگ باہر کے نہیں بلکہ اپنے ہی ملک میں پل رہے ہیں
اخبار انڈین ایکسپریس

اسی طرح ایک اور انگریزي اخبار ’دی ایشین ایج‘ کے ادارتی صفحے پر ایک چھوٹے مگر بہت اہم آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ ہم ممبئی میں ہوئے بم دھماکے کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ اتنے بڑے دھماکے کے پیچھے جس کا بھی ہاتھ ہے وہ ضرور اتنا طاقتور ہوگا۔ اس حملے سے پولیس اور سکیورٹی فورسز سکتے کی حالت میں ہیں لیکن اگر سکیورٹی فورسز اور پولیس نے اپنی آنکھیں کھلی رکھی ہوتیں تو انہیں پتہ ہوتا کہ ممبئی اور مہاراشٹر میں ایسے حملے کسی بھی وقت ہوسکتے ہیں کیونکہ گزشتہ سات مہینوں میں دہشت گردوں نےاس طرح کے حملوں کے کئی اشارے دیے تھے۔ اورنگ آباد، ناسک اور ديگر علاقوں سے آر ڈی ایکس برآمد ہوا تھا اور اس کے بعد لشکر طیبہ کے رہنما اور سمی (سٹوڈنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا) کے سابق رکن کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اس سے انتظامیہ کو خبر دار ہو جانا چاہیے تھا۔

اخبار’انڈین ایکسپریس‘ نے لکھا ہے اس وقت یہ جان لینا ضروری ہے کہ ’دہشت گردی‘ پھیلانے والے لوگ باہر کے نہیں بلکہ اپنے ہی ملک میں پل رہے ہیں۔

اخبار کا کہنا ہے کہ یو پی اے حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جہادی طاقتیں ہندوستان سے باہر نہیں بلکہ ملک کے اندر میں ہی پروان چڑھ رہی ہیں۔ بنارس بم دھماکے میں ملوث دہشت گردوں کا تعلق حرکت الجہاد اسلامی تنظیم سے تھا۔

ہندی اخبار’دینک بھاسکر‘ نے لکھا ہے کہ ہندوستان پاکستان پر سفارتی دباؤ ڈالے اور دہشت گردی پر قابو پانے کے لیئے امریکہ سے مدد مانگے۔ ہندی اخبار’جن ستا‘ نے حکومت کے کام کاج پر نکتہ چینی کی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومت عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنے میں ناکام رہی ہے۔

انڈیا میں دھماکے
انڈیا میں ہونیوالے بڑے دھماکوں کی فہرست
بارہ جولائی کی صبح
یہی تو میرا ممبئی ہے: ریحانہ بستی والا
ذمہ دار کون؟
ممبئی دھماکوں کے پیچھے کون ہو سکتا ہے؟
ممبئی بم دھماکے
تفتیش جاری ہے مگرابھی تک سراغ نہیں ملا انڈیا
ممبئی کی روِش
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد