BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 22 August, 2006, 03:04 GMT 08:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مسلمانوں کے درد کو سمجھتا ہوں‘

مسلم علماء کی دو روزہ کانفرنس
وزیراعظم انڈیا منموہن سنگھ نے مسلم علماء کی دو روزہ کانفرنس میں شرکت کی
ہندوستان کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے حوالے سے مسلمانوں کے اندیشوں اور درد کو سمجھتے ہیں۔

دہشت گردی کے مضمون پر مسلم علماء کی دو روزہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر سنگھ نے کہا کہ اگر آج کوئی مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر بدنام کرنا چاہتا ہے تو وہ محض بھڑکانے کی ایک سازش ہے ’یاد رکھیں کہ دہشت گردی کا نہ کوئي مذہب ہوتا ہے نہ ذات اور نہ ہی دہشت گردی کی کوئی زبان ہی ہوتی ہے ، دہشت گرد کسی کا دوست نہیں ہوتا‘۔

مسٹر سنگھ نے مسلمانوں کی اقتصادی اور تعلیمی حالات پر افسوس کا اظہار کیا اور علما پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں میں تعلیم عام کرنے میں مدد کریں۔ ’اگر ملک کے پندرہ کروڑ مسلمان ترقی ميں پیچھے رہ جاتے ہيں تو ہندوستان کی ترقی ادھوری ہوگی‘۔

انہوں نے علما کو یقین دلایا کہ وہ جلد ہی سبھی ریاستوں کے وزیر اعلی کی ایک کانفرنس طلب کريں گے جس میں مسلمانوں کے تمام اندیشوں اور دیگر پہلؤوں پر غور کیا جائے گا۔

علما کی طرف سے مولانا محمود مدنی نے ایک بیان جاری کیا جس میں دہشتگردی کی سخت مذمت کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور شانتی کا مذہب ہے اور منظم طریقے سے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی متواتر مذموم کوششيں کی جارہی ہیں۔ یہ اجتماع ان کی مذمت کرتا ہے اور واضح کر دینا چاہتا ہے کہ اسلام کی نظر میں بدامنی خونریزي اور بےقصوروں کا قتل سخت گناہ اور ناقابل معافی جرم ہیں۔ دہشت گردی ہر صورت میں قابل مذمت ہے خواہ وہ افراد کی طرف سے ہو یا کسی تنظیم کی طرف سے اور اگر حکومتی ادارے دہشت گردی کو پروان چڑھائيں تو اس جرم کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو جاتاہے‘۔

مولانا مدنی کا بیان
 اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی متواتر مذموم کوششيں کی جارہی ہیں۔ یہ اجتماع ان کی مذمت کرتا ہے اور واضح کر دینا چاہتا ہے کہ اسلام کی نظر میں بدامنی خونریزي اور بےقصوروں کا قتل سخت گناہ اور ناقابل معافی جرم ہیں۔

آزادی کے بعد انڈیا کی تاریخ میں علماء کی یہ اپنی نوعیت کی پہلی کانفرنس تھی جس میں مسلمانوں کے تمام مسالک اور مکاتبِ فکر کے علماء نے شرکت کی۔

ملک کے دانشوروں نے علماء کے اس قدم کی ستائش کی ہے اور کہا کہ اس سے ملک میں مسلمانوں اور اسلام کے بارے میں کسی کے ذہن میں کوئی شک باقی نہيں رہنا چاہیئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد