BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 May, 2006, 12:55 GMT 17:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لاشیں مسلمانوں کی ہیں: رپورٹ

سن دو ہزار دو میں گجرات میں ہونے والے فسادات میں بڑی تعداد میں مسلمان مارے گئے تھے (فائل فوٹو)
ہندوستان میں حیدرآباد کی فورنسک لیبارٹری نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ گجرات میں اجتماعی قبروں سے نکالی گئی لاشیں مسلمانوں کی ہیں۔

پنڈراواڈہ گاؤں میں مسلمانوں نے اجتماعی قبر کھودکر آٹھ لاشیں نکالی تھیں اور دعویٰ کیا تھا کہ یہ لاشیں ان کے ان رشتہ داروں کی ہیں جنہیں دو ہزار دو میں ہونے والے فسادات میں تہہ تیغ کر دیا گیا تھا۔

انہوں نے پولیس پر الزام عائد کیا تھا کہ فسادات کے دوران ہلاک ہونے ان کے رشتے داروں کو بغیر پوسٹ مارٹم کے ہی دفن کردیا تھا۔

گجرات ہائی کورٹ نے ان لاشوں کے ڈی این اے ٹیسٹ کرنے کے احکامات دیۓ تھے۔ اس پورے معاملے کی تفتیش سی بی آئی یعنی مرکزی تفتیشی بیورو کر رہی ہے اور کیس گجرات ہائی کورٹ میں چل رہا ہے۔

گجرات پولیس کے ایک سینئر افسر جی راکیش آستھا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ حیدرآباد لیبارٹری نے اپنی رپورٹ گجرات حکومت ، سی بی آئي اور گجرات ہائی کورٹ کو پیش کر دی ہے۔

مارچ دو ہزار دو میں پنڈراواڑہ کے قتل عام میں کئی مسلمان مارے گئے تھے۔ مقامی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں جہاں دفن کیا تھا وہ کوئی قبرستان نہیں ہے اور انکی آخری رسومات بھی درست طریقے سے نہیں کی گئی تھیں۔

لیکن پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں قانون کے مطابق دفنایا گيا تھا۔ کئی غیر سرکاری تنظیموں کا کہنا ہے کہ پنڈوارہ قتل عام میں چالیس مسلمان مارے گیے تھے لیکن پولیس اس تعداد کو بھی نہیں تسلیم کرتی ہے۔

گزشتہ برس دسمبرمیں ایک غیر سرکاری تنظیم سیٹیزن فار جسٹس کی مدد سے پنچ محل ضلع میں اجتماعی قبریں کھودی گئی تھیں اور کئی ڈھانچے نکالے گیے تھے۔ اس واقعے کے بعد پولیس پر ان الزمات کو مزید تقویت ملی تھی کہ پولیس نے قتل عام کو چھپانے کے لیے اس طرح کی حرکت کی تھی۔

گجرات میں دو ہزار دو کے مسلم کش فسادات میں تقریبا دو ہزار لوگ مارے گئے تھے۔ ان فسادات کے حوالے سے گجرات حکومت پر اس بات کے لیئے نکتہ چینی ہوتی رہی ہے کہ انتظامیہ نے انہیں روکنے کے بجائے مزید ہوا دی تھی۔

اسی بارے میں
گجرات:11 افراد کو عمر قید
14 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد