یوپی میں مسلمانوں کا نیا سیاسی اتحاد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے بعض مذہبی اور سیاسی رہنماؤں نے اتر پردیش میں مسلمانوں کا ایک نیا سیاسی اتحاد تشکیل دیا ہے۔ یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ یعنی ’یو ڈی ایف‘ نامی اس اتحاد کے صدر یوسف قریشی ہیں جب کہ سابق وزیر سی ایم ابراہیم فرنٹ کے چیئرمین بنائےگئے ہیں۔دلی کی جامع مسجد کے امام مولانا احمد بخاری بھی اس فرنٹ کا حصہ ہیں مسٹر ابراہیم کے مطابق فرنٹ میں بائیس مسلم تنظیمیں شامل ہیں اور اس اتحاد میں وہ غیر مسلم جماعتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں جو’موجودہ سیاسی اور سماجی نظام میں محرومی کا شکار ہیں‘۔ یہ سیاسی فرنٹ ایک ایسے وقت میں تشکیل دیا گیا ہے جب اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔ مولانا احمد بخاری کا کہنا ہے کہ سبھی سیاسی جماعتوں نے مسلمانوں کو مایوس کیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک نئے محاذ کی تشکیل کی ضرورت پڑی۔ انہوں نے ریاست کے وزیرِاعلٰی ملائم سنگھ یادو پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کے مفاد کے تحفظ میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے علی گڑھ اور میئو کے حالیہ فسادات کے لیئے مسٹر یادو پر سخت نکتہ چینی کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ محاذ مسلمانوں کو ایک متحدہ پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے لیکن اس میں خود تمام مسلم تنظیمیں اور جماعتیں شامل نہیں ہو سکیں۔ ریاست کے ایک سرکردہ شیعہ رہنما کلبِ جواد نے بعض سنی تنظیموں کے ساتھ اپنا ایک الگ محاذ بنا رکھا ہے اور وہ اس نئے محاذ میں شامل نہیں ہوئے ہیں۔ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً سترہ فیصد ہے اور انتخابات میں ان کا بہت اہم کردار ہوتا ہے ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نیا مسلم پلیٹ فارم ان سکیولر جماعتوں کے لیئے باعثِ تشویش ہو سکتا ہے جو بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف مسلم ووٹ حاصل کرتی رہی ہیں۔ | اسی بارے میں اقلیتوں کے لیے 15 نکاتی منصوبہ22 June, 2006 | انڈیا ہندو مسلم رشتوں پر دستاویزی کتاب17 June, 2006 | انڈیا ریزرویشن کی سیاست16 May, 2006 | انڈیا بڑودہ فسادات اور ہندو مسلم تفریق09 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||