BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریزرویشن کی سیاست

کانچیپورم کے کچھ دلت
آزادی کے بعد پہلی بار ملازمتوں اور منتخبہ اداروں میں دلتوں اور قبائلیوں کے لیۓ سیٹیں مخصوص کی گئیں
ہندوستان میں ریزرویشن (یعنی مخصوص کوٹہ مقرر کرنا) ایک حساس معاملہ رہا ہے۔

آزادی کے بعد پہلی بار ملازمتوں اور منتخب اداروں میں دلتوں اور قبائلیوں کے لیۓ سیٹیں مخصوص کی گئیں۔ ملک میں اس طبقے کی آبادی 25 فی صد سے زیادہ ہے اور انہیں تقریباً ڈھائی ہزار سال تک نسل پرستی سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

ریزوریشن سے دلتوں کے حالات بدلے ہیں اور انہیں خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے۔
ملک میں ذات پات کی بنیاد پر اعداد و شمار حکومت نے جمع کر رکھے ہیں لیکن یہ کبھی جاری نہیں کی گئے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک میں اعلیٰ ذات کے لوگوں کی تعداد 25 فی صد سے کم ہے لیکن ایک دلت رہنما ادت راج کا کہنا ہے کہ ’80 فی صد ملازمتوں پر انہی نام نہاد اعلی ذات کے لوگوں کا قبضہ ہے۔‘

1995 مایاوتی کماری کسی بھارتی ریاست کی پہلی دلت وزیر اعلی بنیں

تقریباً پندرہ برس قبل جب وی پی سنگھ کے دور اقتدار میں دلتوں کے علاوہ دیگر پسماندہ ذاتوں کے لیۓ سیٹیں مخصوص کی گئیں تو اس کی مخالفت میں حکومت گر گئی۔ ایک اندازے کے مطابق پسماندہ ذاتوں کا تناسب 50 فی صد ہے لیکن سماجی اور اقتصادی طور پر پیچھے ہونے کے سبب یہ طبقہ تعلیم اور ملازمتوں میں بہت پیچھے ہے۔
 موجودہ حکومت انہیں تعلیم میں آگے لانے کے لیۓ اعلی تعلیمی اداروں میں ان کے لیۓ 27 فی صد سیٹیں مخصوص کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس تجویز کی میڈیکل طلباء مخالفت کر رہے ہیں

موجودہ حکومت انہیں تعلیم میں آگے لانے کے لیۓ اعلی تعلیمی اداروں میں ان کے لیۓ 27 فی صد سیٹیں مخصوص کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس تجویز کی میڈیکل طلبہ مخالفت کر رہے ہیں۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ ’تعلیم میں صرف صلاحیت کا خیال رکھا جانا چاہیۓ۔‘

ادت راج کا کہنا ہے کہ حکومت، عدلیہ ، تعلیمی اداروں اور میڈیا سب ہی پر اعلی ذات کے لوگوں کا قبضہ ہے۔’ریزرویشن کی تجویز کے خلاف طلباء نے نہیں بلکہ میڈیا نے تحریک چھیڑ رکھی ہے‘۔

سماجی طور پر پسماندگی کے شکار لوگوں کو اوپر لانے کے لیئے ریزرویشن دینے کے سوال پر یہ بحث ہو رہی ہے کہ آیا اس سے بہتر بھی کوئی متبادل ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ماہر اقتصادیات ایلا پٹنایک کہتی ہیں ’حکومت کو چاہئیے کہ وہ گاؤں اور قصبووں میں سکولوں کی تعلیم کو بہتر بنائے اس سے کافی مدد ملے گی۔‘

 سماجی طور پر پسماندگی کے شکار لوگوں کو اوپر لانے کے لیئے ریزروشن دینے کے سوال پر یہ پحث ہو رہی ہے کہ آیا اس سے بہتر بھی کوئی متبادل ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ماہر اقتصادیات ایلا پٹنایک کہتی ہیں ’حکومت کو چاہئیے کہ وہ گاؤں اور قبصووں میں سکولوں کی تعلیم کو بہتر بنائے اس سے کافی مدد ملے گی‘

کُل ہند مسلم پسماندہ محاذ کے صدر اور رکن پارلیمان علی انور اعدادو شمار کے ساتھ بتاتے ہیں کہ ’پسماندہ ذاتوں کے لوگ کمپیٹیشن میں ایک یا دو فی صد سے ہی پیچھے رہ جاتے ہیں اس لیئے اس مرحلے پر انہیں اجتمائی مدد کی ضرورت ہے۔‘

ان کا خیال ہے کہ کانگریس اور بی جے پی پر اعلی ذات کے لوگوں کا غلبہ ہے اور میڈیکل طلباء کی مخالفت دراصل انہیں جماعتوں کی پشت پناہی سے ہو رہی ہے۔‘

حکومت بھی اس معاملے کو حساس سمجھتی ہے اور وہ ایک ایسے طریقے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت پسماندہ ذاتوں کو ریزرویشن بھی دیا جائے او راعلی ذات کے طلباء کے مفاد کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچے۔

یہ مقصد تعلیمی اداروں میں سیٹوں میں زبردست اضافے کے ذریعے حاصل کرنے کی تجویز ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عمل سرکاری ہی نہیں پرائیویٹ اداروں اور کمپنیوں میں اختیار کرنا ہوگا۔

دلت ’یہ بھی ہے انڈیا‘
جوتا پہننے اور سائیکل پر بیٹھنے کی سزا
دلِتدلتوں کی شکایات
ہندوستان کی ترقی اور ذات پات کے مسئلے
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد