ریزرویشن کی سیاست | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ریزرویشن (یعنی مخصوص کوٹہ مقرر کرنا) ایک حساس معاملہ رہا ہے۔ آزادی کے بعد پہلی بار ملازمتوں اور منتخب اداروں میں دلتوں اور قبائلیوں کے لیۓ سیٹیں مخصوص کی گئیں۔ ملک میں اس طبقے کی آبادی 25 فی صد سے زیادہ ہے اور انہیں تقریباً ڈھائی ہزار سال تک نسل پرستی سے بھی بدتر حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ریزوریشن سے دلتوں کے حالات بدلے ہیں اور انہیں خاطر خواہ فائدہ ہوا ہے۔
تقریباً پندرہ برس قبل جب وی پی سنگھ کے دور اقتدار میں دلتوں کے علاوہ دیگر پسماندہ ذاتوں کے لیۓ سیٹیں مخصوص کی گئیں تو اس کی مخالفت میں حکومت گر گئی۔ ایک اندازے کے مطابق پسماندہ ذاتوں کا تناسب 50 فی صد ہے لیکن سماجی اور اقتصادی طور پر پیچھے ہونے کے سبب یہ طبقہ تعلیم اور ملازمتوں میں بہت پیچھے ہے۔ موجودہ حکومت انہیں تعلیم میں آگے لانے کے لیۓ اعلی تعلیمی اداروں میں ان کے لیۓ 27 فی صد سیٹیں مخصوص کرنے پر غور کر رہی ہے۔اس تجویز کی میڈیکل طلبہ مخالفت کر رہے ہیں۔ ان طلباء کا کہنا ہے کہ ’تعلیم میں صرف صلاحیت کا خیال رکھا جانا چاہیۓ۔‘ ادت راج کا کہنا ہے کہ حکومت، عدلیہ ، تعلیمی اداروں اور میڈیا سب ہی پر اعلی ذات کے لوگوں کا قبضہ ہے۔’ریزرویشن کی تجویز کے خلاف طلباء نے نہیں بلکہ میڈیا نے تحریک چھیڑ رکھی ہے‘۔ سماجی طور پر پسماندگی کے شکار لوگوں کو اوپر لانے کے لیئے ریزرویشن دینے کے سوال پر یہ بحث ہو رہی ہے کہ آیا اس سے بہتر بھی کوئی متبادل ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کی ماہر اقتصادیات ایلا پٹنایک کہتی ہیں ’حکومت کو چاہئیے کہ وہ گاؤں اور قصبووں میں سکولوں کی تعلیم کو بہتر بنائے اس سے کافی مدد ملے گی۔‘ کُل ہند مسلم پسماندہ محاذ کے صدر اور رکن پارلیمان علی انور اعدادو شمار کے ساتھ بتاتے ہیں کہ ’پسماندہ ذاتوں کے لوگ کمپیٹیشن میں ایک یا دو فی صد سے ہی پیچھے رہ جاتے ہیں اس لیئے اس مرحلے پر انہیں اجتمائی مدد کی ضرورت ہے۔‘ ان کا خیال ہے کہ کانگریس اور بی جے پی پر اعلی ذات کے لوگوں کا غلبہ ہے اور میڈیکل طلباء کی مخالفت دراصل انہیں جماعتوں کی پشت پناہی سے ہو رہی ہے۔‘ حکومت بھی اس معاملے کو حساس سمجھتی ہے اور وہ ایک ایسے طریقے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت پسماندہ ذاتوں کو ریزرویشن بھی دیا جائے او راعلی ذات کے طلباء کے مفاد کو بھی کوئی نقصان نہ پہنچے۔ یہ مقصد تعلیمی اداروں میں سیٹوں میں زبردست اضافے کے ذریعے حاصل کرنے کی تجویز ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ عمل سرکاری ہی نہیں پرائیویٹ اداروں اور کمپنیوں میں اختیار کرنا ہوگا۔ |
اسی بارے میں یہ بھی ہے انڈیا، دلتوں کا بائیکاٹ24 January, 2005 | انڈیا بھوپال: گینگ ریپ کے ملزمان گرفتار11 July, 2004 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||