 | | | ملک میں ہندو۔مسلم فسادات کا خطرہ برقرار رہا ہے |
ہندوستان کی حکومت نے ایک پندرہ نکاتی پروگرام کی منظوری دیدی ہے جس کا مقصد ملک میں فرقہ وانہ فسادات روکنا اور قومی سطح پر ’اقلیت‘ قرار دی جانے والی برادریوں کے لیے مختلف منصوبوں میں پندرہ فیصد فنڈز مختص کرنا ہے۔ وزیر خزانہ پی چِدامبرم نے دہلی میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ پندرہ نکاتی پروگرام کی تشکیل اس طرح کی گئی ہے کہ اقلیتوں کی سماجی، تعلیمی اور اقتصادی ترقی کو یقینی بنایا جاسکے۔ چدامبرم نے بتایا کہ کہ حکومتی منصوبوں کے فنڈز میں سے پندرہ فیصد اقلیتوں کے لیے مختص ہوگی اور اس پر ہونے والے عمل درآمد کو مانیٹر کیا جاسکےگا۔ پندرہ نکاتی پروگرام کی ایک اہم کوشش ملک میں اقلیتوں کے خلاف ہونے والے فسادات پر قابو پانا بھی ہے۔ اس منصوبے کے تحت فسادات سے متاثر لوگوں کی آبادکاری پر بھی توجہ دی جائے گی۔ حکومت اقلیتی طالب علموں کے لیے اردو میڈیم کے ذریعے تعلیم، مدرسوں کی جدیدکاری، اسکالرشِپ کی سہولت وغیرہ کو مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ذریعے یقینی بنانے کی کوشش کرے گی۔ حکومت کے اس منصوبے کو اپنے ردعمل میں حزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ’شعبدہ بازی‘ قرار دیا۔ بی جے پی کے نائب صدر مختار عباس نقوی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ کی ’یو پی اے حکومت سیاسی مفاد‘ کے لیے ایسا کررہی ہے۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ جب سے کانگریس اقتدار میں آئی ہے ملک میں اپنے سیاسی ایجنڈا کو فروغ دینے کے لیے عوام کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کررہی ہے۔ ہندوستان میں مسلم، عیسائی اور سکھ اہم اقلیتیں ہیں۔ حال ہی میں اقلیتی امور کے مرکزی وزیر عبدالرحمان انتولے نے کہا تھا کہ جموں و کشمیر کے پنڈتوں کو بھی اقلیت کا درجہ ملنا چاہیے۔ |